۔۔۔زندگی کی فہرست نیز تیری رضا کیا ہے


سوال پرانا ہے، دہرانے میں کوئی حرج نہیں ۔ آپ کے لئے زندگی میں کس چیز کی زیادہ اہمیت ہے ؟ دولت، محبت، شہرت، عزت یا طاقت ؟

کچھ سوچنے سے پہلے اس سوال کو اور وسیع کرتے ہیں تاکہ جواب تلاش کرنے میں مزید مشکل پیدا کی جا سکے۔ ترجیح کے اعتبار سے ان باتوں کی فہرست بنائیں جنہیں آپ زندگی میں اہم سمجھتے ہیں، مثلاً۔۔۔۔ سماجی رتبہ، غیرت، حمیّت، پبلک امیج، معاشرے پر اثر انداز ہونے کی طاقت، لوگوں کی زندگیاں تبدیل کرنے کی صلاحیت، مخلص دوستی، آگے بڑھنے کی بے پناہ خواہش، مقبولیت، معاشرتی مقام، اپنی پہچان، کیرئیر کی کامیابی، کھوجنے کی لگن، با ہمتی، مہم جُوئی، روحانیت، انسان دوستی، سچائی، دیانت داری، بھائی چارہ، اختیار، ساکھ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ ان باتو ں میں سے کس کی اہمیت کم ہے اور کس کی زیادہ، لیکن لا شعوری طور پر ہمارے ذہن میں ایک فہرست ضرور تشکیل پا رہی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بخود تبدیل بھی ہو تی رہتی ہے۔ محبت کا جذبہ جوش مار رہا ہو تو اس کے آگے قارون کا خزانہ بھی مٹی لگتا ہے اور اگر دولت کی تڑپ لا شعور میں سر فہرست ہو تو پھر محبوب کی تلاش بھی اُس کے سٹیٹس کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے ۔ معاشرے میں اپنا امیج بنانے کے اگر آپ خواہش مند ہیں تو لا محالہ آپ کے قدم اسی ایک سمت میں اٹھیں گے اور اس ضمن میں ممکن ہے آپ کو دولت کی قربانی دینی پڑے، فلاحی کامو ں میں حصہ لینا پڑے اور کچھ ایسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونا پڑے جن کے بغیر آپ کا گذارہ نہیں تھا۔ اگر آپ کے نزدیک مخلص دوستی کی قدر باقی تمام باتو ں سے زیادہ ہے تو لامحالہ آپ کو دوستوں کے ساتھ جان مارنی پڑے گی، بیوی بچوں کے وقت میں سے وقت نکال کر دوستوں کو دینا ہوگا، ہر مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا چاہے اس مرحلے پر وہ حق سچ کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں، لاشعوری طور پر سچائی پھر اُس فہرست میں ذرا پیچھے دھکیل دی جائے گی۔ کاروباری انسان کے لئے ساکھ کے لئے وہی اہمیت ہے جو کسی عورت کے لئے کنوار پن کی، ایک دفعہ چلی جائے تو پھر واپس نہیں آتی، ساکھ بنانے کے لئے پتہ پانی کرنا پڑتا ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کے لا شعور میں اس کا کتنا مقام ہے، ایسے دکاندار بھی دیکھے ہیں جو سو روپے کی چیز واپس نہیں کرتے اور اپنی کروڑوں کی ساکھ برباد کر بیٹھتے ہیں اور ایسی کمپنیاں بھی دنیا میں ہیں جو کسی معمولی نقص کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں مارکیٹ سے واپس منگوا لیتی ہیں، اپنی اپنی ترجیحات ہیں ۔ شہرت بھی انسان کی کمزوری ہے، دولت کے ڈھیر لگے ہوں، خدا نے عزت دی ہو، طاقت بھی پاس ہو مگر شہرت نہ ہو تو لطف نہیں آتا، جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، سو بعض لوگ جب دولت، عزت اور طاقت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں، اس وقت اُن کے لا شعور میں بنی فہرست ایک مرتبہ پھر تبدیل ہوتی ہے اور شہرت ٹاپ پر آجاتی ہے، عزت کی پھر اتنی پروا نہیں کی جاتی، ایسے لوگ لاکھ کہتے رہیں کہ زندگی میں انہیں عزت سے زیادہ کچھ مقدم نہیں، پر بات نہیں بنتی۔ محبت کے دعوے کی جانچ تو سب سے دلچسپ ہے، ہر محبوب کا دعوی ہوتا ہے کہ اس کی محبت کی آگ کے سامنے دولت، شہرت، عزت ہیچ ہے مگر لا شعور میں بنی فہرست کچھ اور ہی اشارے دیتی ہے، کسی عاشق زارکے سامنے دس کروڑ ڈالر رکھیں اور کہیں کہ اٹھاؤ اور محبوب کو بھول کر باقی زندگی جنوبی افریقہ میں گذار دو تو شائد ہی کوئی مجنوں ہو جو انکار کرے، وہی انکار کرے گا جس کی حقیقی فہرست میں محبت اوّل نمبر پر ہوگی۔ روحانیت کا دعوی بھی محبت سے ملتا جلتا ہے، روحانیت کے قائل شخص کے نزدیک تو امارت، شہرت، نمود و نمائش اورخود نمائی کی کوئی گنجائش نہیں، اسے تو دنیا سے ماورا ہو کر اللہ سے لو لگانی چاہیے، درویش کا آستانہ کسی پینٹ ہاؤس میں تو بہر حال نہیں ہوتا، لیکن اگر ایسا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ اصل میں اُس شخص کی ترجیح روحانیت نہیں بلکہ ناموری، سماجی رتبہ اور مقام حاصل کرنا اوراپنے درجات بلند کرنا ہے، روحانیت بھی شاید کہیں چوتھے پانچویں نمبر پر مل جائے ۔

اصل میں انسان ایک متنوع زندگی کا خواہش مند ہوتا ہے جس میں ہر طرح کے رنگ ہوں، کبھی ایڈونچر ہو، کبھی رومانس، دولت بھی ہو اوراختیار بھی، اپنائیت بھی ہو اور اکیلا پن بھی، دوست بھی ہوں اورمحبوب بھی ہو(ں)، عزت بھی ہو، شہرت بھی ہو، نیک نامی بھی ہو، لوگ درویش بھی کہیں اور رعب و دبدبے سے بھی ڈریں، مخیر بھی کہیں اور رحم دل بھی، مقبولیت ایسی ہو کہ نکلنا مشکل ہو جائے مگر ذاتی زندگی پر حرف بھی نہ آئے ۔۔۔ ایسا مگر ممکن نہیں، انسان کی عملی زندگی اُس کی خواہشات کو بے نقاب کر دیتی ہے، شہرت کا چسکا سب سے برا ہے، مقبولیت پسندی کی لت جب کسی کو لگ جاتی ہے تو سب سے پہلا خون سچ کا ہوتا ہے، بدقسمتی سے یہ روش اب ہمارے معاشرے میں عام ہو چلی ہے، اس نشے کی عادت میں پہلے تو کروڑ پتی کاروبار ی مبتلا ہوئے، اس کے بعد ہمارے بعض دانشور اینکرز اس شکار ہوئے، نتیجہ اس چلن کا یہ نکلا کہ ہر وہ بات جو ٹی وی پر عوام میں گھٹیا سطح پر مقبولیت حاصل کر سکتی تھی اس کا ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا، انتہا پسندی کو شہ ملنے لگی، مضحکہ خیز دانشوریاں ہوئیں، قومی مسائل کا حل تھڑے بازوں کے سے انداز میں پیش کیا جانے لگا، اور پھر میڈیا میں وہ سب کچھ ہوا جس پر اب ہم کئی برس سے ماتم کناں ہیں ۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو شاید کچھ گزارا ہو جاتا مگر اب مقبولیت پسندی کا یہ چلن معاشرے کے اس طبقے میں بھی سرائیت کر چکا ہے جس طبقے کے لوگوں کی زندگی کی فہرست میں قانون کی بالادستی ٹاپ پر ہونی چاہئے تھی، بد قسمتی سے لا شعور میں ان کی فہرست میں شہرت کا چسکا ٹاپ پر ہے ۔ اچھی بات مگر یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثریت میں نہیں !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 131 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada