مسائل میں گھرے نواز شریف کی مسکراہٹ


\"mujahidمیاں نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، معیشت کی بحالی اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کو حکومت کی اہم کامیابیاں قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے یہ باتیں لندن اسکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹر پروفیسر گریگ کالہون کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی ہیں۔ مہمان ماہر سیاسیات نے پاکستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کسی سربراہ حکومت سے ملاقات کے دوران کسی ماہر کی باتوں کو حقیقی تجزیہ قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے انہوں نے حکومت ، پاکستان کی معیشت اور ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر جو گفتگو وزیراعظم سے کی ہے اسے بنیاد بنانے کی بجائے میاں نواز شریف کی باتوں ، دعوﺅں اور ملک کی معروضی صورتحال کا تجزیہ بے حد ضروری ہے۔ اس بات میں شبہ نہیں کہ ملک کو اس وقت کئی محاذوں پر خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن اتنی ہی آسانی سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ حکومت ان اندیشوں کو سمجھنے ، ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنے اور عوام میں ان خطرات کے حوالے سے اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
وزیراعظم کے دعویٰ اور ان تین اہم پہلوﺅں پر سرسری غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال دگرگوں ہے اور کوئی بھی شخص خود کو محفوظ اور پاکستان کے مستقبل کو تابناک دیکھنے کی خواہش رکھنے کے باوجود ، اس کا یقین کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا۔ پاکستان نے حال ہی میں کرکٹ سپر لیگ کا اہتمام کیا ہے۔ آج اس کا فائنل دبئی میں کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اگر سکیورٹی صورتحال واقعی اندیشوں سے پاک ہوتی تو ان مقابلوں کے چند میچ تو ملک کے ویران کرکٹ گراﺅنڈز میں کروائے جا سکتے تھے۔ لاہور میں حال ہی میں منعقد ہونے والے لٹریری فیسٹیول کے آغاز سے ایک روز قبل صوبائی انتظامیہ نے سکیورٹی کو عذر بنا تے ہوئے یہ اہم ادبی و ثقافتی تقریب منعقد کرنے کی اجازت منسوخ کر دی تھی۔ حالانکہ اس حوالے سے دو ہفتے قبل این او سی بھی جاری ہو گیا تھا اور بھارت کے علاوہ دیگر ملکوں اور شہروں سے مہمان بھی لاہور پہنچ چکے تھے۔ لیکن انتظامیہ اپنی ضد پر قائم رہی اور الحمرا میں اس میلہ کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ فیسٹیول ایک روز تاخیر سے آواری ہوٹل میں منعقد کیا گیا۔ بہت لوگ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ جو تقریبات سڑک کے اس پار الحمرا میں غیر محفوظ تھیں ، وہ سڑک کے دوسری طرف آواری میں پہنچتے ہی محفوظ کیوں کر ہو گئیں۔ اس بدنظمی اور بدسلیقگی سے یہ اندازہ تو کیا ہی جا سکتا ہے کہ سرکاری حلقے بھی سکیورٹی کے معاملہ پر غیر یقینی رویہ کا شکار رہتے ہیں۔ اس ادبی میلہ کے حوالہ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے اور لاہور جیسے شہر میں انتظامیہ کی غیر واضح حکمت عملی وزیراعظم کے اس دعوے کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کا براہ راست مقابلہ کر کے سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنا دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پنجاب پر شہباز شریف حکمران ہیں۔ اگر یہ واقعہ کسی ایسے صوبے میں رونما ہوا ہوتا جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نہیں ہے تو حکومت پرویز رشید اور رانا ثنا اللہ جیسے رہنماﺅں کے ذریعے اس صوبے کی حکومت کے خلاف تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتی۔ لیکن یہ معاملہ چونکہ لاہور میں ظہور پذیر ہوا اس لئے راوی ہر طرف چین ہی چین لکھتا ہے۔ راوی کے خاموش رہنے یا سنہری تصویر پیش کرنے سے البتہ معروضی حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے نواز شریف کو اپنی حکومت کی کارکردگی پر دعوے کرنے سے پہلے حالات کو سمجھنے اور ان کے مطابق اظہار رائے کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی حوالے سے ملک میں مردم شماری جیسے نازک معاملے کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے مردم شماری نہیں کروائی جا سکتی۔ حالانکہ ملک میں مردم شماری کو 18 برس بیت چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آئین کے تقاضوں کی بات کی جائے تو ہر دس سال بعد مردم شماری نہ ہونے کی صورت میں تمام ووٹر لسٹیں نامکمل اور ناقص تصور ہوں گی۔ اس طرح 2008 اور 2013 میں ہونے والے انتخابات اور گزشتہ برس کے دوران منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات ”غیر آئینی“ قرار پاتے ہیں۔ مردم شماری کمیشن نے اس وسیع قومی عمل کے لئے ساڑھے تین لاکھ فوجی طلب کئے ہیں۔ اس سے کم از کم یہ اندازہ تو کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم سکیورٹی کے حوالے سے جن کامیابیوں کا ذکر کرتے نڈھال ہوئے جاتے ہیں، ان کے اپنے ادارے ان پر صاد کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مردم شماری جیسی معمول کی کارروائی کے لئے اگر نصف سے زیادہ فوج درکار ہو گی تو اس ملک کو کیوں کر محفوظ قرار دیا جائے گا۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ہی وزیراعلیٰ ثنا اللہ زہری سکیورٹی ہی کو عذر بنا کر مردم شماری مو¿خر کرنے کا مقدمہ پیش کرتے رہے ہیں۔ فوج کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں فوجی فراہم کرنے پر معذوری ظاہر کرنے کے بعد حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔

مردم شماری کے انعقاد کے حوالے سے سکیورٹی کا ذکر تو صرف اس دلیل کی حد تک ضروری تھا کہ سرکاری ادارے اور وزیراعظم کے سیاسی رفیق بھی اس خوشگوار تصویر کی تصدیق کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو وہ پرائم منسٹر ہاﺅس کے کشادہ کمروں میں فروکش غیر ملکی مہمانوں کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن مردم شماری کا تعلق اس دوسرے نکتہ سے بھی ہے جس پر وزیراعظم خاص طور سے توجہ دیتے ہیں اور ملک کی معاشی ترقی کے حوالے سے اپنی حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کا ذکر کر کے نہال ہوتے رہتے ہیں۔ ملک میں لوگوں کی تعداد اور مختلف علاقوں میں ان کی آبادی کی تفصیلات سامنے لائے بغیر اقتصادی ترقی اور اہم منصوبوں کے لئے پلاننگ نہیں ہو سکتی۔ جو حکومت وعدہ کے مطابق مردم شماری کروانے سے معذوری ظاہر کرتی ہے، وہ اقتصادی ترقی کا دعویٰ کس بنیاد پر کر سکتی ہے۔

اس حوالے سے عام طور سے آئی ایم ایف سے قرضوں کی فراہمی اور پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کا حوالہ بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی بھی حکومت آئی ایم ایف سے انتہائی مجبوری کے عالم میں قرضے لیتی ہے۔ کیونکہ یہ عالمی ادارہ قرضہ کی صورت میں شدید اقتصادی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے جس کا براہ راست بوجھ ملک کے غریب عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی حکومت اس لئے آئی ایم ایف سے قرضے لینے پر مجبور ہے کیونکہ ملک میں پیداواری صلاحیت بہت کم ہے اور ملک غیر ملکی قرضوں کی اقساط مزید قرض لئے بغیر ادا نہیں کرسکتا۔ سکیورٹی کی دگرگوں حالت اور اقتصادی نمو کے منفی انڈیکس کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ دار بھی ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک آخری امید ہوتے ہیں۔ ملک کی جغرافیائی اہمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے کردار کی وجہ سے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں پاکستان کو مالی طور سے دیوالیہ دیکھنا نہیں چاہتیں۔ اس لئے آئی ایم ایف یا دیگر عالمی مالیاتی ادارے اگر قرضے فراہم کر رہے ہیں تو اسے حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کی دلیل کے طور پر قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے بھی حکومت سے زیادہ فوج سرگرم نظر آتی ہے۔ چینی ماہرین اور کارکنوں کی حفاظت کے لئے خصوصی سکیورٹی ڈویژن قائم کیا گیا ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس منصوبہ کی تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ حکومت اپنے طور پر اس معاملہ کے سیاسی اور مالی پہلوﺅں پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ اس لئے اس امکان کو مسترد کرنا ممکن نہیں کہ کسی بھی وقت اختلافات طوفان کی شکل اختیار کر لیں اور پورا منصوبہ اس کا شکار ہو جائے۔ ایسے معاملات میں ساری تفصیلات عام کرنے اور ان پر کھلے دل سے مباحث کی ضرورت ہوتی ہے۔ نواز حکومت اس عظیم قومی منصوبہ کے حجم اور اہمیت کے باوجود اس کے بارے میں ساری تفصیلات عام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ نہ یہ وضاحت ہو سکی ہے کہ اس راہداری کا روٹ کیا ہو گا، نہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے معاملات طے ہوئے ہیں اور نہ 45 ارب ڈالر کے چینی قرضوں کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر لائی جا رہی ہیں کہ وہ کن اداروں اور کن کمپنیوں کے ذریعے فراہم ہوں گے اور ان کے بدلے میں پاکستان نے چین کو کون سی سیاسی اور اقتصادی مراعات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ہمسایوں سے تعلقات کے حوالے سے بھی پاکستان مسلسل بحران کا شکار ہے۔ پٹھان کوٹ سانحہ کے بعد بھارت کے ساتھ مجوزہ جامع مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اگرچہ الزام تراشی کی پرانی فضا تو موجود نہیں لیکن بھارت کی طرف سے پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پاکستان اپنے طور پر اس معاملہ کو حل کرنے کی بجائے اسے لٹکانے میں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں کی جا سکی ہے کہ کیا اسلام آباد انتہا پسند اور بھارت میں تخریب کاری کا پرچار کرنے والی شدت پسند مذہبی تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جب تک یہ صورتحال واضح نہیں ہو گی، بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری دیوانے کا خواب ہی ثابت ہو گی۔ دوسری طرف امریکہ اور چین کے تعاون کے باوجود افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کروانے اور معاملات طے کروانے کا معاملہ بھی بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ سعودی عرب کے فوجی اتحاد میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بیچ اٹکی پاکستانی پالیسی کی وجہ سے ایران بھی پاکستان سے پوری طرح خوش نہیں ہے۔ اس صورتحال کو ہمسایوں سے تعلقات میں بہتری کا نام دینے والے وزیراعظم کو زیادہ سے زیادہ سادہ لوح ہی کہا جا سکتا ہے۔

حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ اہم معاملات پر جراتمندانہ فیصلے کئے جائیں اور پوری قوت سے ان پر عمل کیا جائے۔ ایسا کرنے کے لئے صرف قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ عوام کو اعتماد میں لینے ، اپوزیشن کو احترام دینے اور ملک میں صحت مند ڈائیلاگ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی پر فتح یاب ہونے ، معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے اور ہمسایوں سے بہتر تعلقات کے حوالے سے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 702 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali