بادشاہ اور درباری …!


چودھویں صدی کی بات ہے۔
ہندوستان میں دلی کے چیف جسٹس قاضی کمال الدین نے اپنی عدالت لگائی ہوئی تھی ۔ ہندوستان کے بادشاہ محمد تغلق کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا ۔ دلی کے عالم اور فاضل شیخ زادہ جام نے کہا تھا کہ بادشاہ ظالم اور بربریت پسند ہے۔
جب شیخ کا یہ الزام سلطان تک پہنچا تو وہ شاہی سواری کی بجا ئے پیدل قاضی کمال الدین کی عدالت میں پیش ہوا تھا ،وہ یہ الزام برداشت نہیں کرسکتا تھا کوئی اسے ظالم کہے ۔ وہ تو انصاف کے لیے مشہور تھا ۔ تغلق نے چیف جسٹس قاضی کمال الدین سے کہا شیخ ذادہ جام کو فوراً عدالت میں طلب کیا جائے اور ثبوت مانگے جائیں ۔
اب شیخ زادہ جام عدالت میں ایک ملزم کی حیثیت سے کھڑا تھا ۔ اسے بادشاہ کا الزام پڑھ کر سنایا گیا اور قاضی کمال الدین نے پوچھا ”آپ نے بادشاہ سلامت کو ظالم بادشاہ کہہ کر پکارا تھا ؟ ‘‘شیخ زادے نے سر اوپر اٹھایا۔خاموش رہا۔ بادشاہ کی طرف دیکھا تو اسے وہ دن یاد آیا جب محمد تغلق بادشاہ بنا تھا ۔ پوری عدالت شیخ زادے جام کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ اس الزام کا کیا جواب دیتا ہے جبکہ شیخ ماضی میں کھو چکا تھا ۔
شیخ ز ادے کو 1325 کا سال یاد آیا جب سلطنت دہلی کا بادشاہ غیاث الدین تغلق پانچ سال ہندوستان پر بادشاہت کے بعد حادثے میں مرچکا تھا ۔ اگرچہ شک اس کے بیٹے محمد تغلق پر کیا جارہا تھا جو اس وقت شیخ زادے کے خلاف شکایت لے کر عدالت میںکھڑا تھا ۔ تاہم محمد تغلق نے ایسے ظاہر کیا تھا کہ اسے باپ کی موت کا بہت صدمہ تھا ۔
شیخ کو یاد آیا چالیس دن بعد محمد تغلق ایک بڑے جلوس کے ساتھ دلی کی طرف روانہ ہوا تھا اور پوری دلی کو دلہن کی طرح نئے بادشاہ کے استقبال کے لیے سجایا گیا تھا ۔ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر محمد تغلق نے تقریربھی کی تھی کہ ” میرا باپ غیاث الدین تغلق بھی انصاف کرتا تھا میں بھی انصاف کروں گا ‘‘۔ عدالت میں کھڑے شیخ زادے کو نئے سلطان کے لفظ یاد آئے ” بوڑھا ہو یا جوان سب میرے باپ اور بچوں کی طرح ہیں ۔ میں سب کی فلاح کے لیے کام کروں گا ۔ میں انصاف کے ساتھ حکومت کروں گا اور ایسا انصاف لائوں گا کہ مجھے منصف بادشاہ کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔‘‘
اور پھر محمد تغلق نے اپنے انداز میں انصاف شروع کیا اور سلطنت دلی کے تین سو سال کا سب سے مشکل ترین دور شروع ہوا ۔ شیخ زادہ جام بھی ہندوستان کے بہت سارے مورخوں کی طرح شروع میں یہ فیصلہ نہ کر سکا تھا کہ سلطان محمد تغلق ایک خونی درندہ ہے یا پھر ایک انہتائی ذہین اور سجھدار بادشاہ ۔ بادشاہ ایک طرف لوگوں پر تحائف کی بارش کرتا تو اس سے ز یادہ اس دن انسانی لہو بہاتا تھا۔ محل کے دورازے سے فقیر خالی ہاتھ نہیں جاتا تو کوئی دن ایسا بھی نہ گزرتا جب محل کے سامنے کسی انسان کا لہو نہ بہایا جاتا ۔ دھیرے دھیرے سلطان تغلق کے بارے میں مشہور ہونا شروع ہوگیا A saint with the heart of a devil. ۔ جو ہروقت انسانی لہو بہانے کے لیے تیاررہتا تھا ۔ روزانہ اس کے دربار میں سینکڑوں لوگ لائے جاتے جن میں عالموں سے لے کر عام لوگ ہوتے۔ جن کا سر قلم ہونا ہوتا تھا ان کا سر قلم کر دیا جاتا، جن پر تشدد کا حکم ہوتا انہیں تشدد کا شکار کیا جاتا۔ محل کے دورازے پر ہر وقت انسانی لہو بہتا رہتا تھا ۔ دنوں تک لاشیں لٹکی رہتیں تاکہ لوگوں کو سلطان سے ڈرا کر رکھا جائے۔ جمعہ کے علاوہ روزانہ وہاں انسانوں کا لہو بہایا جاتا تھا ۔ سلطان محمد تغلق ایک پڑھا لکھا بادشاہ تھا لیکن اس کے اندر رحم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔
سب عالم اور بڑے لوگ سلطان تغلق سے خوفزدہ تھے۔ آواز کون اٹھائے اور پھر دلی کے شیخ زادہ جام نے کہا کہ وہ آواز اٹھائے گا کہ بادشاہ ظالم اور بے انصاف ہے۔ عالم کا کام ہے جب بادشاہ ظالم ہو تو وہ عام انسانوں کا ساتھ دے، بادشاہ کو چیلنج کرے اور پھر شیخ جام زادہ نے آواز بلند کردی جس کی گونج بادشاہ تک پہنچ گئی اور آج بادشاہ اسے چیف جسٹس کی عدالت میں لے آیا تھا اور متمنی تھا کہ ” شیخ کو کہیں میرے خلاف ثبوت دے ‘‘
سب نظریں اب شیخ پر لگی ہوئی تھیں۔ قاضی کمال الدین اور سلطان تغلق بھی شیخ زادہ جام کو دیکھ رہے تھے۔
آخر شیخ نے سر اوپر اٹھایا اور بولے جی میں نے سلطان تغلق کو ظالم اور بے انصاف بادشاہ کہا ہے۔ یہ ظالم ہے۔
پوری عدالت ایک دفعہ ہل کر رہ گئی ۔
سلطان تغلق بھی کانپ کر رہا گیا ۔ کچھ دیر بعد سنبھل کر بولا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے ظلم کیا اور بے انصاف بادشاہ ہوں۔
شیخ زادے نے کہا جب آپ کے سامنے ملزم لایا جاتا ہے تو آپ کا شاہی استحقاق ہے انصاف یا ناانصافی پر مبنی اس کو سزا دیں لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ اس ملزم کے بیوی اور بچوں کو بھی جلاد کے حوالے کردیتے ہیں کہ وہ جو جی چاہے ان کے ساتھ سلوک کریں ۔ اسلام یا کس اور مذہب میں لکھا ہے کہ آپ یہ ظلم کریں؟ کیا یہ ظلم اور بے انصافی نہیں؟
سلطان چپ چاپ عدالت سے باہر نکل گیا ۔
عدالت سے باہر نکل کر تغلق نے حکم دیا شیخ زادہ جام جب عدالت سے باہر نکلے اسے گرفتارکر کے لوہے کے پنجرے میں قید کردیا جائے۔
دوسری طرف بادشاہ کے درباری پریشان تھے کہ سلطان کو کون سمجھائے کہ وہ یہ شیخ زادے کے خلاف یہ سلوک نہ کرے کیونکہ وہ عدالت شکایت لے کر گیا تھا اور اس کی شکایت کا جواب سلطان کے پاس نہ تھا۔
بادشاہ کے درباری پہلے بھی سلطان کے ہر ظلم پر نہ صرف خاموش رہتے بلکہ تعریفوں کے پل باندھتے تھے ۔ ان درباریوں کو یہ ڈر لگا رہتا تھا اگر انہوں نے سلطان کو سمجھانے کی کوشش کی یا سچ بول دیا تو جہاں انہیں دربار سے باہر پھینکا جاسکتا تھا، ان کی شان و شوکت اور دولت سب کچھ چھن سکتی تھی۔ اس لیے وہ سب درباری منافق بن گئے تھے۔ منہ پر بادشاہ کی تعریفیں اور نجی محفلوں میں بادشاہ کے ان مظالم کی آنکھوں ہی آنکھوں میں برائیاں کرتے۔ دنیاوی خواہشات نے اب سب کو منافق بنا دیا تھا ۔ بادشاہ کا ڈھول بجا کر ہی یہ درباری عہدے لے سکتے تھے۔ انہیں سلطنت، معاشرہ یا لوگوں پر ظلم کی پروانہ نہ تھی۔ پرواہ تھی تو ان عہدوں کی جو وہ بادشاہ کی خوشامد کر کے لیے بیٹھے تھے۔ جو بھی زبان کھولنے کی جرات کرتا اسے یہ درباری ہی غدار قرار دے دیتے۔ اس لیے ان درباریوں نے بھی یہی سوچا منافق بن کر جیو اور سلطان سے عہدے لو اور میراثیوں کی طرح بادشاہ کا ڈھول پیٹو۔۔
مشہور مورخ ضیاء الدین برنی نے جو خود بھی سلطان کے قرببی درباری تھے، نے اپنے جیسے ان سب درباریوں کے بارے میں لکھاہے ” دنیاوی دولت اور عہدوں کی لالچ نے ہم سب کو منافق بنا دیا تھا ۔ ہم سب درباری سلطان کے دربار میں کھڑے سلطان کو غیرانسانی اور غیرقانونی سزائیں دیتے دیکھتے رہتے اور چپ رہتے۔ سلطان کی وجہ سے ملنے والی دولت اور عہدوں نے ہم سب درباریوں کے منہ بند کر دیے تھے کہ ہم بادشاہ کو کہہ سکتے آپ غلط کررہے ہیں۔سلطان محمد تغلق کے ہم سب درباری اپنے اپنے ذاتی فائدوں کے لیے منافق بن گئے تھے‘‘ ضیاء الدین برنی نے یہ جملہ اپنی آخری عمر میں لکھا ۔
برنی کے درباریوں کے بارے کمنٹس پڑھ کر لگتا ہے محمد تغلق کے درباری ہوں یا آج کے بادشاہوں کے درباری ، سب درباری ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ منافق، لالچی اور خوشامدی ۔ وقت اور بدلتے زمانے سے درباریوں کی خصلت اور عادات پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
اوہ سوری آپ کو بتانا بھول گیا کچھ دن بعد میں اسی شیخ زادے جام کی لاش کو عدالت کے باہر سلطان نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھنکوا دیا جہاں شیخ زادے نے جرات کر کے ظالم بادشاہ کے خلاف گواہی دی تھی۔
جب دلی کے قاضی کمال الدین کی عدالت کے باہر انصاف کا قتل ہورہا تھا اورشیخ زادے جام کی لاش ٹکڑوں میں تبدیل ہورہی تھی اس وقت بھی سلطان محمد تغلق کے یہ سب منافق اور عہدوں کے لالچی درباری عدالت کے باہر خوشی سے بے حال ہو کر مبارکبادوں کے شور میں ڈھول کی تاپ پر لڈیاں ڈال کر لڈو بانٹ رہے تھے۔۔۔!
( اس ایک کالم کو لکھنے کے لیے مشہور مورخین ضیاء الدین برنی ، ابن بطوطہ ، فرشتہ کی کتب اور..A history of Delhi Sultanate The Age of Wrath جیسی کتابوں سے مدد لی گئی ہے )

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔