ثقلی امواج بمقابلہ موجاں ای موجاں


 zefferجب مولانا گیلیلیو نے دعویٰ کیا کہ زمین چپٹی نہیں گول ہے، اور اپنے محور کے گرد گھومتی ہے، تو مخالفین نے ٹھٹا اڑایا، یہی نہیں، جناب گیلیلیو فاتر العقل قرار دیئے گئے کہ ثابت شدہ اور رائج نظریات کی نفی کر رہے ہیں۔ اسی طرح حضرت انجینئرفرید اختر نے جب یہ اعلان کیا کہ نیوٹن کے ثقلی کشش کے قانون کی کوئی حیثیت نہیں، اسے ایک لیکچر کے ذریعے غلط ثابت کر سکتا ہوں، تو بنیاد پرستوں نے قہقہے لگائے۔ فرید اختر بھی کہ سکتے ہیں کہ میرا یہ لیکچر واپس لینے سے حقیقت بدل نہیں جاے گی۔

یہاں کتنے ہیں جو سائنس کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں؟ اکثر وہ ہیں، جنھیں نیوٹن کے تین قوانین رٹا لگانے کے باوجود از بر نہیں ہوئے۔ کئی طالب علموں کا مستقبل اسی نگوڑے مارے نیوٹن نے داﺅ پر لگا دیا۔ رہی سہی کسر قائد اعظم کے چودہ نکات نے پوری کر دی۔ انھی ناکام طلبا و طالبات کو دیکھ لیجیے، پاکستانی سیاست ہو، یا امریکی سائنس، یوں اپنی رائے دیتے ہیں، جوں حرفِ آخر ہوں۔ جیسے کسی مفتی کا فتویٰ ہو۔

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ نصرت فتح علی خان رہے ہوں، یا عدنان سمیع، عاطف اسلم ہوں، یا ملالہ، عامر خان (باکسر) ہوں، یا محترمہ مختاراں مائی، اعصام الحق ہوں، یا نرگس ماول والا، جب تک پاکستان کی سر زمین پر پرفارم کریں گے، میراسی، تیلی، کمی کمین، جوکر، سائیکلوں والی کہلاتے ہیں۔ جونھی پردیس میں سراہے جائیں، ہم خوشی سے دیوانے ہو جاتے ہیں، کہ یہ تو ہم میں سے ہے، ہمارا ہے۔ یہی احوال انجینئر فرید اختر کا بھی ہے۔ پس جیسے ہی ناسا نے انھیں اپنے پاس بلایا، ہم یہ کہتے نہیں تھکیں گے، دیکھا! پاکستان میں کیسے کیسے جوہرِ قابل ہیں، لیکن یہاں کسی کو ان کی قدر نہیں۔

انجینئر فرید اختر قوم کا فخر ہیں۔ مجھے ان کے ’لیکچر‘ پہ پورا پورا بھروسا ہے۔ کیوں کہ نہ میں چاند پر گیا، نہ ثقلی امواج کا نظارہ کیا، تو کیا وجہ ہے، میں کافر کی تحقیق پر یقین کروں؟ رہی ثقلی کشش کی بات تو کامن سینس کی بات ہے، جب نیوٹن نہیں تھا، تب بھی اشیا اوپر سے گر کر نیچے ہی آتی تھیں، ما سوائے ہلکے اجسام والی اشیا، جو ہوا کے زور سے اوپر کو اٹھتی ہیں۔ کم ظرف افراد کے لیے بھی یہی مثال دی جا سکتی ہے۔ اس میں ‘گریوئیٹی’ کا کیا کمال! ہاں! ایسا ازل سے ہوتا آیا ہے، ابد تک ہوتا رہے گا۔

تصور کیجیے، نرگس ماول والا اپنی تحقیق کو لے کر ایسا ہی اشتہار شائع کرواتیں تو ہم نے ان کا بھی یونھی مذاق اڑانا تھا، جیسے فرید اختر پر ہنس رہے ہیں۔ بھئی محلے کی سائیکل کی دکان سے اوزار لے کر نٹ بولٹ کسنے والی کیا جانے کہ حکیم آئن اسٹائن نے کیا کہا تھا؟ نیوٹن کون تھا؟ وغیرہ…. ایسے ہی انجینئر فرید اختر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں ہے۔

معروف لسانی سائنس دان رشید حسن خان رحمتہ اللہ علیہ میرے الفاظ میں یوں فرماتے ہیں، کہ خرابی کی ایک وجہ ہماری نصابی کتب بھی ہیں۔ توتا کو، طوطا، بوڑھے کو ضعیف لکھ کر معنی ہی تبدیل کر دیئے ہیں۔ اب ذرا اسے یوں دیکھیے، کہ ہماری نصابی کتب میں نیوٹن کے تین قوانین حرکت کی بجاے، فرید اختر کا ایک لیکچر شامل کر دیا جاے، تو نا صرف یہ کہ ہماری سمت درست ہو جاے گی، بلکہ امتحانات میں طلبا و طالبات کی کام یابی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یعنی موجاں ای موجاں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “ثقلی امواج بمقابلہ موجاں ای موجاں

  • 24-02-2016 at 6:44 am
    Permalink

    وضاحت:

    سوشل میڈیا کی غیر مستند خبر پہ ایسا ہی غیر سنجیدہ مضمون ہے۔ لہاذا سنجیدگی اختیار نہ کرنے کی استدعا ہے۔
    🙂

Comments are closed.