مسئلہ ٹائلٹ پیپر کا نہیں بلکہ بدمعاشی اور لوٹ مار کا ہے


چند دن پہلے پاکستانی ایئر پورٹ کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں ایک خاتون اہلکار کی طرف سے مسافر خواتین کو مارا پیٹا جا رہا تھا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ خواتین نے یہ پوچھا تھا کہ بیت الخلاء میں ٹوائلٹ پیپر کیوں نہیں ہیں؟

پھر ایک دوسری ویڈیو سامنے آئی، جس میں کہا گیا کہ مسافر خواتین کی طرف سے زیادتی کی جا رہی تھی۔ اگر یہ سچ بھی ہے تو ان خواتین کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا لیکن مار پیٹ کرنا بتاتا ہے کہ ہمارا ایئر پورٹ عملہ کس قدر غیر پیشہ وارانہ ہے۔

مجھے یہ تو نہیں پتا کہ قصور کس کا تھا، ایئر پورٹ عملے کا یا پھر مسافر خواتین کا لیکن میں نے گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستانی ایئر پورٹس پر دونوں طرح کی انتہائیں دیکھی ہیں۔
میں زیادہ دور نہیں جاتا میں ابھی دو ہفتے پہلے ہی لاہور ایئر پورٹ سے واپس جرمنی پہنچا ہوں۔ میں جب امیگریشن سے کلئیر ہو کر آخری سکیورٹی اسٹیج پر پہنچا تو مجھے ایک سکیورٹی اہلکار نے اشارہ کیا کہ اس خاتون سکیورٹی اہلکار کے پاس جائیں۔ میں وہاں گیا تو انہوں نے پوچھا کیا کیا ہے سامان میں؟ میں نے بتایا کہ امردو ہیں، کچھ کپڑے ہیں اور مکئی کا آٹا وغیرہ ہے۔

کسی گاؤں سے آئے ہو؟ میں نے کہا جی بالکل گاؤں سے آیا ہوں۔

اچھا کتنے پاکستانی روپے ہیں؟ میں نے بتایا کہ تقریبا۔ اتنے ہوں گے۔

اچھا، جرمنی میں تو یہ چلیں گے نہیں، ان میں سے ایک ہزار مجھے دے جاؤ۔

میں نے اس خاتون اہلکار کے قریب ہو کر کہا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اور میں آپ کے کسی افسر کو بھی یہ بات بتا سکتا ہوں۔

یہ سن کر وہ کہنے لگیں، اچھا کیا کرتے ہیں آپ جرمنی میں؟ جی میں صحافی ہوں۔ اچھا اچھا، یہ تو اچھی نوکری ہے، اچھا آپ جائیں پلیز۔

میں اسلام آباد، لاہور اور سیالکوٹ کے ایئر پورٹ استعمال کر چکا ہوں۔ ان تینوں ایئر پورٹس پر ایک چیز قدرے مشترک ہے اور وہ ہے ایئر پورٹس کے اندر بنے ویٹنگ رومز کے ٹوائلٹس میں تو آپ کو ٹشو پیپر وغیرہ مل جائیں لیکن ایئر پورٹ کے باقی ٹوائلٹس میں آپ کو ٹشو پیپر اکثر و بیشتر نہیں ملیں گے۔ اگر ٹوائلٹ کے اندر مل بھی جائیں تو باہر ہاتھ صاف کرنے کے لیے تو کبھی بھی نہیں ملیں گے۔

آپ ٹوائلٹ سے باہر آتے ہیں تو وہاں کھڑا ملازم انتہائی ادب کے ساتھ اور مسکراتے ہوئے جیب سے نکال کر فولڈ شدہ ٹیشو پیپر پیش کرے گا اور ساتھ ہلکا سا یہ بھی کہہ دے گا سر کوئی ہمارے لیے بھی تحفہ ہو جائے۔

میں عملے سے کئی مرتبہ غصے میں آ کر کہہ چکا ہوں کہ یہ ٹشو پیپر، جس جگہ پر ہونے چاہیئیں آخر وہاں کیوں نہیں ملتے، یہ ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں کیوں ہوتے ہیں یا آپ ہی کی جیبوں سے کیوں نکلتے ہیں؟ ہمارے ایئرپورٹ کے ایک ملازم دوست بتاتے ہیں کہ بہت سارے ٹشو پیپر تو افسران اور دیگر عملے کے لوگ اپنے اپنے گھر لے جاتے ہیں۔

میرے ساتھ ایک مرتبہ ایک جرمنی سے آنے والی پاکستانی فیملی بھی سفر کر رہی تھی۔ ان کی ایک اکیس، بائیس سالہ بیٹی ٹوائلٹ سے باہر آتے ہی کہنے لگی کہ ماما یہ بخشش کیا ہوتی ہے؟ اس کی والدہ نے پوچھا کیوں، تم نے یہ لفظ کہاں سے سیکھا ہے؟ وہ بولی کہ ٹوائلٹ کے اندر موجود خاتون نے کہا تھا کہ اسے بخشش بھی دے کر جاؤ۔

یہ پاکستانی ایئرپورٹس کے وہ رویے ہیں، جن کا آپ کو پاکستان چھوڑتے ہوئے اور آتے ہوئے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کسی دوسرے ملک کے کبھی کسی ایئرپورٹ پر ایسا ماحول اور ایسی عادات نہیں دیکھیں۔

میں نے کبھی دنیا میں ایسا نہیں دیکھا کہ کسی کا کوئی لینے والا آئے تو امیگریشن ڈیسک سے بھی آگے جا کر آپ کو ریسیو کرے۔ پاکستان کے تمام ایئر پورٹس پر با اثر افراد کو لینے کے لیے ان کے جاننے والے یا خصوصی لوگ امیگریشن ڈیسک سے بھی آگے پہنچے ہوتے ہیں اور خصوصی پروٹوکول کے تحت لائن میں لگے بغیر ہی اپنے مسافروں کو نکلوا کر باہر لے جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ سیالکوٹ ایئر پورٹ پر تو کسی فیملی کے رشتہ دار عین جہاز کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے، جہاں صرف سکیورٹی کا عملہ یا پھر خصوصی عملہ موجود ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ چیز مجھے تو بہت تنگ کرتی ہے اور ساتھ ہی پوری کی پوری انتظامیہ کو برا بھلا کہنے کو دل کرتا ہے۔

یہ ابھی میں نے صرف چند چیزیں بتائی ہیں، ایسے دیگر کئی معاملات ہیں، جہاں آپ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ سری لنکا جیسے ملک کے ایئر پورٹ کا انتظام پاکستان سے کئی گنا بہتر لگتا ہے۔
یہ پاکستانی ایئر پورٹس کا وہ امپریشن ہے، جو آپ اس ملک سے نکلتے ہوئے اور داخل ہوتے ہوئے حاصل کرتے ہیں۔ آپ خود بتائیں آپ ایسے ماحول میں کیسے ایئر پورٹ کی انتظامیہ کی عزت کریں گے؟

دوسری جانب میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کئی مسافر غیرملکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد خود کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے طرز عمل سے پتا چل رہا ہوتا ہے کہ وہ خود کو ایئر پورٹ انتظامیہ سے کوئی اعلیٰ اور ارفع مخلوق سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ یورپی ایئرپورٹس پر چار چار گھنٹے لائن میں لگے رہیں گے لیکن پاکستانی ایئر پورٹ پر اترتے ہی عملے کو باتیں سنانا شروع کر دیں گے۔

لیکن میرے خیال میں یہ سارے لوگ پاکستانی ایئر پورٹس پر عملے کی اسی دن دل سے عزت کرنا شروع کر دیں گے، جس دن کسی نے یہ نہ کہا کہ مجھے بھی ہزار روپیہ دے کر جائیں، جس دن کسی نے یہ نہ کہا کہ ہمیں بس ایک یورو کا نوٹ چاہیے، جس دن وی آئی پی یا با اثر لوگوں کے رشتہ داروں کو خصوصی پروٹوکول ملنا بند ہو گیا یا جس دن ٹوائلٹ پیپر اپنی جگہ پڑے مل جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔