اے بنت حوا! ہم شرمندہ ہیں….


20160126_121002ہم اکیسویں صدی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں۔ ہمارا معاشرہ کہنے کو تو عورت کی عزت کا دعوے دار ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ آج کی عورت کو ہم نے کہیں نہیں بخشا۔

ہم نے ہمیشہ عورت کو ماں ، بیوی ، بیٹی کی درجہ بندی میں تقسیم کر رکھا ہے لیکن درحقیقت ہم نے آج تک عورت کو عورت سمجھا ہی نہیں۔ہم اِسے ہمیشہ سے احساسات سے عاری ایک جسم کی صورت میں دیکھتے آئے ہیں۔اس جسم کا رنگ کیسا ہے؟ اس جسم کے نشیب و فراز ہماری آنکھوں کے محور رہے ہیں۔

ہماری ہوس زدہ نظریں اِس کے لباس کو چیر کر اس کے جسم کا تعاقب کرتی آئی ہیں۔

ہم نے اِس معاشرے میں بنت حوا کا جینا دوبھر کر رکھا ہے کیونکہ اِس کی ذات ہر وقت ہمارے اعتراضات کے نشانے پر ہوتی ہے۔اس نے دوپٹہ سر پر کیوں نہیں اوڑھا؟

یار اس کو دیکھو! اتنا چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے یہ چادر سے خود کو کیوں نہیںڈھانپتی؟

اف یار، یہ آج کی لڑکیاں بھی نا!
چادر سے چہرہ چھپانے کا کیا فائدہ؟
یہ عبایا کیوں نہیں پہنتی اور نقاب کیوں نہیں کرتی؟

عبایا تو پہن لیا، نقاب بھی کرلیا لیکن ہاتھوں پر دستانے نہیں ، پاؤں پر جرابیں نہیں ، آنکھیں صاف نظر آرہی ہیں۔اس پردے کا کیا فائدہ؟

دراصل اگر کسی خاتون نے شٹل کاک برقع پہنا ہو تب بھی ہم اس کے جسم کے ارد گرد نظر دوڑاتے آئے ہیں کہ شاید کوئی جگہ مل جائے ، آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے چاہے وہ پھر اس کے پاؤں ہی کیوں نہ ہو۔

آج کی عورت کو ہم نے اتنا مجبور کردیا ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے سو بار سو چے اور پھر ہم بڑے فخر ڈھیٹ بن کر بولتے آئے ہیں کہ یا ر زما نہ کتنا خراب ہوگیا ان عورتوں کی وجہ سے ، یہ پردہ ہی نہیں
کرتیں کیونکہ پردہ ہم نے عورتوں کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور ساتھ میں یہ تاویلیں دیتے آئے ہیں کہ ایک پردہ دار عورت ایک شریف باپ ، ایک نیک بھائی اور ایک پارسا شوہر کی نمائندگی کرتی ہیں لیکن اپنی نظریں نیچی کرکے ایک با ادب بھائی، عزت دار باپ اور غیرت مند شوہر بننا ہم میں سے کسی کو منظور نہیں تھا۔

والدین گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی بیٹیوں کو سو نصیحتیں کریں گے ان پر کڑی نظر رکھتے ہیں لیکن کبھی اپنے بیٹوں کو نہیں کہتے کہ باہر اپنا برتا و¿ اچھا رکھو اور نہ کبھی ان کے چال چلن کی خبر گیری کی ہو گی، اور تو یہ کہ اگر مرد اپنی باہمی لڑائی میں بھی اپنی تسکین کے لئے ایک دوسرے کو ماں ، بہن، بیوی کی گالیاں دیتے آئے ہیں۔

اے بنت حوا! ہم اس معاشرے کے نوجوان تمھارے ساتھ ہونے والے جنسی امتیازی سلوک اور ہراساں کئے جانے پر شرمندہ ہیں۔ جب تم صبح گھر سے نکلتی ہوتو ہم تمہیں عجیب نظروں سے دیکھتے آئے ہیں، جب تم پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہو تو ہماری آنکھیں تمہارے جسم کو ٹٹولتی آئی ہیں اور ہماری نظروں کے تیر تمہارے جسم میں پیوست ہوتے آئے ہیں۔جب تم ڈرائیونگ کرتی ہو تو ہم اور ٹیکنگ کے ذریعے تمہارا راستہ بند کرکے، ہارن بجا کر یا تمہارا پیچھا کرکے تمہارے سفر کو اجیرن کرتے رہے ہیں۔

جب تم ہماری کلاس فیلو یا دفتری رفیق کار بنتی تھی تو ہمارے خاص نشانے پر ہوتی تھی تاکہ تمہیں اپنے محبت کے جال میں پھنسا کر اور تمہارے قصے اپنے دوستوں میں بیان کر کے ان پر اپنا رعب جما سکیں۔

اے بنت حوا! ہم نے آج تک تمہیں ایک سیکس سمبل کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا لیکن اب ہمیں احساس ہوگیا ہے ، اب ہم سمجھ گئے ہیں کہ تم صرف ایک جنس نہیں ہو بلکہ احساس رکھنے والی روح بھی ہو۔

تمہارے اور ہمارے خواب ایک ہی ہیں جس کو پورا کرنے کے لئے ہمیں ہرصبح گھر سے نکلنا ہوتا ہے۔

تمہارے اور ہمارے کاندھوں پر ایک جیسی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے جو ہمیں گھرکی چاردیواری کے اندر بیٹھنے نہیں دیتا۔ تم بھی ہماری طرح اس معاشرے کی اہم ستون ہو اور ہم اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ تمہارے کردار کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا خواب ادھورا ہے۔

اے بنت حوا! ہم جان گئے ہیں، سمجھ گئے ہیں اور اب تک ہم نے جو کیا اس پر شرمندہ ہیں۔ ہاں ہم شرمندہ ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اے بنت حوا! ہم شرمندہ ہیں….

Comments are closed.