شہرلاہور کا حال دیجئے!


اب ایسا بھی نہیں کہ  راولپنڈی اسلام آباد سے دل اکتا گیا ہے کہ ہمارے جیسے درویش خصلت اپنی جنت ہر جگہ بنا لیتے ہیں لیکن لاہور کی بات اور ہے۔ یہ باقاعدہ واردات کرتا ہے ۔ آج رات نہ جانے کیوں لاہور دل کے راستے آنکھوں میں امڈ آیا۔ پھر ڈھیر سارے سوالات کا سامنا ہوا۔ لاہور میں اتنے دوست بستے ہیں کوئی لاہور کا حال دے۔۔ خبر دے۔

برکت مارکیٹ سے جو سڑک مغل اعظم شادی ہال سے ہوتے ہوئے جناح ہسپتال کی جانب جاتی ہے کیا اس پر اب بھی سرخ اور گلابی رنگ کے پھول نچھاور ہوتے ہیں؟ کیا کبھی کوئی بڑا سا پھول اچانک آپ کی گاڑی کی ونڈ سکرین پر گرتا ہے؟

کیا لاہور کی رہیڑیاں اور ریستوران ایسے ہی آباد ہیں ؟ کیا انار کلی میں جوس کے بڑے گلاس کے ساتھ چھوٹا اعزازی گلاس آج بھی ملتا ہے؟ کیا حلوے پوری اور چنوں کے ساتھ ملنے والے سلادمیں پیاز آج بھی کچا اور اچار اتنا  ہی لذیذ ہے؟  کیا چنوں کے ساتھ مرغ، کوفتے  اور انڈے ایسے ہی سنگت کرتے ہیں؟   کیا چنوں میں سبز مرچ ایسے ہی چمکتی ہے؟

دنیا کا واحد شہر لاہور جہاں کے رکشوں کا شور ، شور نہیں لگتا۔ لگتا ہے جیسے رکشے نہ ہوئے تو لاہور کیسا بے رونق ہو جائے گا؟ کیا لاہور کے رکشے اورکشادہ دل رکشے والے سلامت ہیں؟

 کیسا وقت گزرا ہے۔رات کا ایک بجا ہے ۔ گرمی ایسی کہ پنکھا آگ کی لپٹیں دے رہا ہے۔ ہم  دوست گلبرگ سے اٹھتے ہیں اور پانچ کلو آم لے کر نہر کنارے پہنچ جاتے ہیں ۔ نہر میں چھلانگیں لگاتے ہیں۔ چنددوست کچھ دیر بعد نہر سے نکل کر سگریٹ سے تمباکو نکالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ شاید تمباکو مناسب نہیں تھا ۔۔لیکن پھر اسی تمباکو سے سگریٹ کا خالی سفید پیٹ بھرکر سلگا لیتے ہیں ۔میں سادہ آدمی مجھے کیا معلوم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟  میں تو آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا  نہر کا پانی اسی طرح ٹھنڈا ہے؟  کیا اب بھی لوگ   زیادہ سے زیادہ اوپر کی سمت نہانے  کو ترجیح دیتے ہیں جس جانب سے نہر کے پانی آ رہے ہیں تاکہ پانی زیادہ صاف ہو ۔یہ جانے بغیر کہ چاہے وہ ہربنس پورہ یا مغل پورہ تک چلے جائیں ان سے اوپر نہر میں نہانے والوں کی تعداد ہزاروں نہیں  توسیکڑوں میں ضرور ہو گی۔

کیا آپ کو بھی آلو اور مولی کے پراٹھوں کی چاہ مزنگ چونگی لے گئی اور آپ اس سب  کو پراٹھے سمجھ کر کھاتے رہے؟ یا آپ سمجھدار تھے اور لاہوری دوستوں کی راہنمائی میں سیدھا وہاں گئے جہاں مال کے پاس لارنس روڈ اور ٹیمپل روڈ ملتی ہیں اور وہاں  کےپراٹھوں کی دو تہوں کے اندر اک جہان سبزیات  قید ہوتا ہے۔ نوالہ توڑنے جائیں تو پراٹھا دو تہوں کو توڑ کر اپنی شناخت کے درپے ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم جیتتے کیوں نہیں ؟

کیا ڈیوس روڈ عبور کرنے کے لیے اب بھی  دیر تک رکنا پڑتا ہے؟ شملہ پہاڑی کے ساتھ والے ریسٹورنٹ کا حال دیجئے؟کیا  ڈیوس روڈ پر اب بھی چھلی بیچنے والے بغیر آپ سے پوچھے  چھلی پر لیموں اور نمک مرچ زیادہ لگاتے ہیں؟  کیا ڈیوس روڈ پر پارکنگ کی جگہ تلاش کرنے کے لیے شملہ پہاڑی کے دو دو دفعہ چکر لگانے پڑتے ہیں؟ذیشان حسین آپ ہی بتائیے  کیا جیو کی پرانی عمارت میں منفرد سی خوشبو اب بھی آتی ہے؟   کیا جیو کا سموکنگ ایریا آج بھی نظریات کی کشتی لڑنے کا اکھاڑا ہے؟

کیا اب بھی دن کے وقت سخت گرمی میں   لارنس گارڈن میں دو  ہی مخلوقات نظر آتی ہیں؟  ایک پانی کے فوارے چھوڑتے مالی اور دوسرے کوتاہ قد سرو کے پودوں کے پاس ۔۔چمٹ کر بیٹھے  پاپڑ کھاتے پریمی جوڑے۔ کیا لاہور میں محبت نے قدم ایسے ہی جما رکھے ہیں؟ کیا لاہور میں اب بھی لڑکیاں محبوب سے سائیکل پر کراری چاٹ بیچنے والے کے پاس رکنے کو کہتی ہیں ؟ کیا گول گپے کھاتے ہوئے اب بھی لڑکیا ں ایسے ہی ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے کھٹا میٹھا پانی کپڑوں پر گرا لیتی ہیں؟

کیا اب بھی مذہبی اور غیر مذہبی دوستوں کے مابین خدا کے وجود پر ایسے ہی بحثیں ہوتی ہیں؟  کیا گھنٹوں کی بحث اب بھی ایسے ہی فقرے پر خوشدلی سے ختم ہوتی ہے کہ چھڈو یار ۔۔چلیں لکشمی چوک میں دیسی بکرے کے ‘ایٹم بم سری پائے’ کھانے چلتے ہیں۔ اور پھر مذہبی و غیر مذہبی دوست نظریاتی اختلاف کو برطرف رکھتے ہوئے  لطیفے اور چٹکلے سناتے لکشمی چوک جا نکلتے ہیں؟

کیا اب بھی سڑکوں کی گرین بیلٹس پر ڈھول والے رنگ برنگے پہناووں کے ساتھ بیٹھتے ہیں؟ لیکن اس میں کیا خاص ہے وہ تو ہر شہر میں بیٹھتے ہیں۔ لاہور میں جب ٹریفک اشارہ بند ہوتا ہے تو ڈھول والے کے برابر کوئی گاڑی کھڑی ہوتی ہے تو شیشے سے ایک ہاتھ نکلتا ہے اور  ہاتھ والا۔۔ڈھول پر دھم دھم کر کے  خوش ہوتا ہے کندھے اچکا اچکا کر تھوڑی دیر گاڑی کے اندر ناچ لیتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا اب  بھی ایسے ہاتھ گاڑیوں میں سے نکلتے ہیں اور ڈھول پر دھم دھم کرتے ہیں۔

کیا مین مارکیٹ میں رضوان برگر ایسے ہی قائم ہے۔ کیا اس کا جہازی سائز کا سینڈوچ اب بھی یونہی من بھرتا ہے۔کیا مین مارکیٹ کے سموسے ایسے ہی خستہ ہیں۔ کیا مین مارکیٹ کا چوک اب بھی  صبح تک یونہی آباد رہتا ہے۔کیا  فیروز پور روڈ کے پاس پنجاب کالج کے ساتھ  ماجاریکا کا شوراما ایسا ہی لذیذ ہے؟ کیا مون مارکیٹ میں قہقہے رات گئے یونہی گونجتے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  بھارت سے کشیدگی کے پاکستان پر اثرات

کیا اندرون لاہور کی گلیوں میں دھوتی پہنے صاف ستھرا پہلوان ناشتے کا افتتاح خدا رسول کا نام لیکر کرتا ہے۔ کیا وہ چنوں کے دیگچے کا ڈھکن اسی طرح داتا صاحب پر سلام بھیج کر اتارتا ہے؟ کیا ناشتوں کے ان ٹھیوں پر اب بھی گھر سے ناشتہ لینے کے لیے بھیجے ہوئے بچے برتن لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا ان بچوں کی آنکھوں پر آسودگی کی سوجن آج بھی ایسے ہی قائم ہے؟

کیا  نئے پاک ٹی ہاؤس ٗ الحمرا ٗ  نیرنگ گیلری اور ماڈل ٹاؤن لائبریری میں ادبی نشستیں ہوتی ہیں؟ کیا ان نشستوں کے بعد شرکاء علم و محبت سے سیر ہو کر اٹھتے ہیں؟  کیا وہ نشست کے بعد باہر کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے گفتگو کر کے نشست سے کہیں وقت لگا دیتے ہیں؟ ایکدوسرے کو خدا حافظ کہتے کہتے گھنٹوں کا وقت صرف کر دیتے ہیں؟

لاہور پر ایک خوبصورت وقت تب ہوتا ہے جب صبح کی روشنی کم کم ہوتی ہے۔ صفائی والے صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہال روڈ ، نسبت روڈ  اور گمٹی بازار جیسی جگہیں نہ جانے کیوں آسیبی سی دکھائی دیتی ہیں۔ جیسے یہ سب کوئی جادو کا محل ہو۔ کسی نے پھونک مار کر تمام انسان اٹھا لیے ہوں اور صفائی کرنے والے فرشتہ صفت لوگوں کو رہنے دیا ہو۔کیا میرا لاہور اب بھی ایسا ہی جادو کا محل ہے؟ کیا اس کی صبح اب بھی ایسی ہی آسیبی ہے؟

د   دس کھاں شہر لاہور اندر ۔۔بئی کِنے بوئے تے کِنیاں باریاں نے
نالے دس کھاں اوتھوں دیاں  اِٹاں۔۔ کِنیاں ٹُٹیاں تے کِنیاں ساریاں نے

د  دس کھاں شہر لاہور اندر ۔۔کھوئیاں کنیاں مٹھیاں نے کِنیاں کھاریاں نے
ذرا سوچ کے دیویں جواب مینوں ۔۔اوتھے کِنیاں ویائیاں تے کنیاں کنواریاں نے

د   دساں میں شہر لاہور اندر ۔۔بئی لکھاں  بوئے تے لکھاں ای باریاں نے
جناں اِٹان تے تھر گئے پیر عاشق۔۔اہوہی ٹُٹیاں  تے باقی ساریاں نے

جناں کھوئیاں توں  بھر گئےمعشوق پانی ۔۔اوہو مٹھیاں  تے باقی کھاریاں نے
تے جہڑیاں  بھیندیاں اپنے نال سجن دے۔۔اوہو ویائیاں  تے باقی کنواریاں نے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 116 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik