وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے پر وکلا تنظیموں میں اختلافات


پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون  کا کہنا ہے کہ نواز شریف عہدے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں تاہم قانونی طور پر وہ وزیراعظم ہیں، ان کے استعفے کا مطالبہ جذباتی اور بچگانہ ہے، کسی بھی اقدام سے قبل وکلا کو جے آئی ٹی کی تحقیقات کا انتظارکرناچاہیئے۔

سپریم کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری آفتاب باجوہ نے لاہور ہائیکورٹ بار کے اعلان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار کو وکلا کا کنونشن بلا کر مشاورت کرنی چاہیئے جب کہ لاہور ہائی کورٹ بار کا مطالبہ ذاتی ہے، سپریم کورٹ بار تمام وکلا اور بار ایسوسی ایشنز سے مشاورت کے بغیر اس تحریک کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزیراعظم کے خلاف تحریک چلانے کے فیصلے میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  آرمی چیف کا ریٹائرمنٹ کا اعلان قبل از وقت ہے: آصف زرداری