میر سلطان خان، شطرنج کا فراموش کردہ عظیم کھلاڑٰی


 چند برس ہوئے پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار نے سو نامور پاکستانیوں کے پر وفائلز پہ مبنی خصوصی شمارہ شائع کیا۔ شخصیات کی اس فہرست میں سیاست دان اورحکمران حاوی تھے لیکن شاعروں ادیبوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی تھی۔ یہاں ناصر کاظمی کی موجودگی پہ مجھے دلی خوشی ہوئی لیکن سلطان خان کو نہ پا کر باقاعدہ رنج ہوا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے کارہائے نمایاں تقسیم سے پہلے سرانجام دئے گئے تھے لیکن ان کا تعلق پاکستان کے شہر سرگودھا سے تھا جہاں انہوں نے تمام زندگی گزاری۔ اوکسفورڈ کمپینین ٹو چیس (The Oxford Companion to Chess, 2nd ed. 1992) کے الفاظ میں سلطان خان شطرنج میں دنیا کے دس بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ ناخواندہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے شطرنج کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی؛ آغاز کی چالوں (openings) پہ، جو تجرباتی ہونے کے باعث محض عقل سلیم کی مدد سے نہیں سیکھی جا سکتیں، عبور حاصل نہیں کیا ؛ یورپی شطرنج سے واقفیت محض سات برس سے تھی، جن میں سے صرف آدھے یورپ میں گزارے تھے اور انہیں مشق کرانے والے ان کے حریف بھی تھے۔ ان نامساعد حالات کے باوجود درمیان کے کھیل (middlegame) میں چند اور اختتامی کھیل (endgame)میں دو تین کھلاڑی ہی ان کے ہم مرتبہ تھے۔ چنانچہ وہ جدید دور کے غالباًعظیم ترین فطری کھلاڑی تھے۔

میر سلطان خان 1905 میں مٹھا میں پیدا ہوئے، نو برس کی عمر میں اپنے والد سے ہندوستانی شطرنج سیکھی اور 1928میں ، جب ان کی عمر تیئس سال تھی، انہوں نے آل انڈیا چیمپئن شپ جیتی۔ سر عمر حیات خان ٹوانہ نے ، جن کے پاس وہ ملازم تھے، ان پہ توجہ دی اور انہیں یورپی شطرنج سکھائے جانے کا انتظام کیا۔ وہ1929 میں سلطان خان کو لندن لے گئے جہاںان کے لئے ایک تربیتی ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا۔ اس میں ان کی کارکردگی ، تھیوری کا علم نہ ہونے کے باعث، خراب رہی۔ انہیں برٹش چیمپئن شپ کے لئے تیاری کرائی گئی جو انہوں نے، سب کی توقع کے خلاف، جیت لی۔ سر عمر انہیں ہندوستان واپس لے آئے اور اگلے برس دوبارہ یورپ لے گئے۔ یہاں سلطان خان نے اپنے تمام حیرت انگیز کارنامے صرف تین برسوں میںسر انجام دیے ۔ انہوں نے سابق عالمی چیمپئن کیپابلانکا (Capablanca) سے جو بازی جیتی اس نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ کیپابلانکا نے انہیں جینئس کہا تھااور وہ یہ خطاب شاذونادر ہی کسی کو دیتے تھے ۔

 کیپابلانکا ایک اور عالمی چیمپئن بوبی فشر (“Bobby” Fischer) کے پسندیدہ ترین کھلاڑی تھے۔ بوبی کو، جنہیں بعض تجزیہ نگار تاریخ کا عظم ترین کھلاڑی قرار دیتے ہیں، ان کی زندگی میں ”آج کا کیپابلانکا“ (Capablanca of Today) بھی کہا جاتا تھا۔ سلطان خان نے مختلف مقابلوں میں دنیا کے سرکردہ کھلاڑیوں کا سامنا کیا؛ کیپابلانکا کے علاوہ فلوہر (Flohr ) اور روبن سٹائن (Rubinstein ) اور ٹارٹا کوور (Tartakower) سے بازیاں جیتیں اور اس وقت کے عالمی چیمپئن ایلک ہین ( Alekhine) کے علاوہ گرینڈ ماسٹروں کیشڈن (Kashdan)، گرنفیلڈ(Grünfeld )، سٹالبرگ (Ståhlberg ) اور بوگول یبف (Bogolyubov) سے برابر کیں۔ اورمزید دو بار برٹش چیمپئن شپ جیتی ( 1932, 1933میں) اور تین دفعہ شطرنج اولمپک میں انگلستان کی طرف سے کھیلے۔ انٹرنیٹ پہ ان کھلاڑیوں ،ان کے کارناموں اور تصنیفات کے بارے میں ڈھیروں معلومات دستیاب ہیں جن سے ان کے مقام و مرتبے کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  غیرت کے نام پر بے غیرتی ....

سر عمر حیات سلطان خان کو 1933 میں واپس ہندوستان لے آئے۔ 1935 میں سلطان خان نے کھادیلکر (Khadilkar) کے خلاف ایک میچ کھیلا جس کی نو بازیاں جیتیں اور ایک برابر کی۔ اس کے بعد شطرنج کی دنیا نے ان کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا۔ عالمی شطرنج فیڈریشن (FIDE ) نے 1950 میں گرینڈ ماسٹر اور بین الا قوامی ماسٹر کے خطابات دینا شروع کئے ۔ جن 27کھلاڑیوں کو یہ خطابات دئے گئے ان میں سلطان خان شامل نہیں تھے۔ ایک سبب یہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پندرہ برس سے کوئی ٹورنامنٹ یا میچ نہیں کھیلا تھا۔ لیکن مذکورہ بالا روبن سٹائن (Rubinstein ) کو گرینڈ ماسٹر کا خطاب دیا گیا جس نے سترہ برس سے شطرنج نہیں کھیلی تھی۔ 1977میں ایک کھلاڑی کارلز ٹور (Carlos Torre) کو بھی یہی خطاب دیا گیا حالانکہ وہ 1926 میں اس کھیل سے کنارہ کش ہو گیا تھا۔ بہر حال، سلطان خان کو پہلا، غیر سرکاری، ایشیائی گرینڈ ماسٹر تسلیم کیا جاتا ہے۔ کھلاڑیوں کا مقام متعین کرنے کے ایک جدید معیار (ELO Rating) کے مطابق ڈھائی ہزار سے زیادہ پوائنٹ پہ گرینڈ ماسٹر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ روبن سٹائن کے 2501 ,سلطان خان کے2530 ، عالمی چیمپئن بورس سپاسکی( Borris Spasky ) کے2660 اور بوبی فشر کے 2785 پوائنٹ تھے۔

 قیام پاکستان کے بعد میر سلطان خان انیس برس زندہ رہے اور 25اپریل 1966کو فوت ہوئے۔ انہیں کوئی سرکاری اعزاز نہیں دیا گیا۔ کھیلوں کا کوئی کمپلیکس یا سینٹر ان سے منسوب نہیں، ان کے نام سے کوئی اعزاز نہیں دیا جاتا ہے۔ اور مجھے خوشی ہو گی اگر کوئی بتائے کہ ان کی رہائش گاہ کے آس پاس کوئی گلی یا سڑک ان کے نام کی ہے۔ سلطان خان نے اپنے بچوں کو شطرنج نہیں سکھائی اور انہیں کوئی زیادہ مفید کام کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ ان کے بیٹے اطہر سلطان پولیس افسر بنے اور آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔

وصیت میر نے مجھ کو یہی کی

کہ سب کچھ ہونا تو عاشق نہ ہونا

یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ شطرنج کی اہمیت ہی کیا ہے؟ تسلیم کہ پاکستان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن دنیا میں تو ہے۔ اور ہمارے بیشتر کام دنیا کے لئے ہوتے ہیں۔ ہاکی ، فٹ بال اور کرکٹ کے عالمی کپ، سکواش اور ٹینس کی چیمپئن شپ، اولمپک کھیلوں کے میڈل جیتنے کی طرح شطرنج کا ٹائٹل جیتنے پر بھی کامیاب ملک کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سفارتی تعلقات بڑھانے یا برقرار رکھنے، تجارت کو فروغ دینے، اور دوسری اقوام کے دلوں میں جگہ بنانے لئے بہت کچھ کیا جاتا ہے ۔

اسی بارے میں: ۔  بھٹو اور دار کی خشک ٹہنی

شطرنج کا آغاز مشرقی ہندوستان میں پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی کے دوران ہوا۔ اسے چترنگا کہا جاتا تھا۔ سنسکرت کے اس لفظ کامطلب فوج کے چار حصے تھا، یعنی پا پیادہ دستے اور گھوڑوں، ہاتھیوں اور رتھوں پہ سوار جنگجو۔ چترنگا مشرق و مغرب میں پھیل گیا۔ چھٹی صدی کے اوائل میں ایران میں اسے چترنگ کہا جاتا تھا۔ سو سال بعد مسلمانوں نے ایران فتح کرنے کے بعد اسے اپنا لیا اور اس کا نام شطرنج رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ایران کی ملکہ کواچانک صدمے سے بچانے کے لئے اس کے شوہر، یعنی بادشاہ، کے ہلاک ہو جانے کی خبرشطرنج کی ایک بازی کے ذریعے سمجھائی گئی.

سپین میں شطرنج کو الشطرنج کہا جاتا ہے۔ شطرنج سیکھنے اور کھیلنے کے بارے میں جس قدیم ترین کتاب کا سراغ ملتا ہے وہ نویں صدی کے ایک معروف عرب کھلاڑی نے لکھی تھی۔ اہل یورپ کا اس کھیل سے تعارف ہسپانوی مسلمانوں نے کرایا۔ ایک اور روایت کے مطابق عیسائیوں اور مسلمانوں کا ایک سنگین تنازعہ انہیں جنگ تک لے آیا تھا۔ مسلم لشکر میں شامل شطرنج کے ایک اعلی کھلاڑی نے مخالفین کو پیغام بھیجا کہ ان کا کوئی کھلاڑی اس سے شطرنج کھیل لے اور اس بازی کا جو نتیجہ ہو اسے جنگ کا فیصلہ سمجھ لیا جائے۔ ایک پادری نے اس کا چیلنج قبول کر لیا۔ یوں دو شہروں کی آبادی خونریزی سے بچ گئی۔

 12 فیصد برطانوی ، 15 فیصد امریکی، 23 فیصد جرمن، 43 فیصد روسی اور 70 فیصد ہندوستانی سال میں کم از کم ایک بار ضرور شطرنج کھیلتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں شطرنج سیکھنے کے بے شمار سینٹر اور کلب ہیں۔ آئے دن مختلف ٹورنامنٹ ہوتے رہتے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں شطرنج کلب ہیں اور ان کی ٹیمیں مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔ روس سمیت کچھ ممالک میں شطرنج کو ایک مضمون کے طور پہ پڑھائے جانے کی ’مہم‘ چلی ہوئی ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شطرنج کھیلنے سے توجہ، حافظہ، قوت فیصلہ، تنقیدی نظر، تخلیقی سوچ، کامیاب ہونے کا جذبہ اور ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ فروغ پاتے ہیں۔ 2011 میں آرمیینیا میں چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے لئے شطرنج کو ایک لازمی مضمون قرار دے دیا گیا۔ اس وقت ملک کے صدر سرز سرکیزین (Serzh Sarkisian) اس پروگرام کو متعارف کرانے میں شامل رہے۔ نوجوانوں کے ایک کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے وہاں ایک نوجوان کے ساتھ شطرنج بھی کھیلی۔ وہ آرمینیا کی شطرنج اکیڈمی اور قومی شطرنج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں۔ میں اس کھیل کو مضمون کے طور پہ پڑھائے جانے کا تو قائل نہیں البتہ ایک مثبت سرگرمی کی حیثیت سے اس کے فروغ کا حامی ہوں۔

[زیر اشاعت کتاب ”ایک شاعر کی سیاسی یادیں“ سے اقتباس]


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔