دو مختصر کہانیاں: بجلی اور ہاتھ


بجلی

یہ بجلی کیا ہوتی ہے۔۔
اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا
بجلی ایک ایسی چیز ہے
اس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔
کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلتی ہیں۔
مزدور کا گھر اس سے چلتا ہے۔
دکاندار کی دکان چلتی ہے۔
درودیوار روشن ہوتے ہیں۔
میں نے جواب دیا
بھولا بولا؛
کل تو ایک شخص کہہ رہا تھا
بجلی وہ چیز ہے,جو آتی کم اور جاتی زیادہ ہے۔ جس کی پاکستان میں کافی عرصہ سے کمی ہے,
سیاستدان اسے پورا کرنے کے وعدے پر الیکشن لڑتے ہیں اور
پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔
ہاں پاکستان میں اس کا سب سے بڑا استعمال یہی ہے۔
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

ہاتھ

تمہیں ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرم نہیں آتی۔
تمہیں پتہ ہے اگر یہ ہاتھ کسی کے سامنے پھیلا دیا جائے تو انسان کی عزت نفس اس آدمی کے قدموں میں جا گرتی جس کے سامنے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے۔۔
اس نے تحقیر بھرے لہجے میں کہا۔
فقیر کے گال پچکے ہوئے تھے اور اس نے چیتھڑے پہن رکھے تھے۔
اس نے اپنا ہاتھ نیچے کر لیا۔
صاحب یہ جو ہاتھ ہے نا کمبخت یہ اس پاپی پیٹ کے تابع ہے ۔اس نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔
اور جب یہ پیٹ خالی ہوتا ہے نا
تو لفظ شرم کے معنی بھول جاتا ہے۔
یہ کہہ کر اس نے ہاتھ پھر سے
اس کے سامنے پھیلا دیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔