عمران عام شہری نہیں: چیف جسٹس


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد کے مضافات بنی گالہ میں تین سوکنال کی پہاڑی خریدی اور اس پر گھر تعمیر کیا، پندرہ برس بعد اب اس علاقے میں ہرطرف تعمیرات سے سبزہ ختم ہونے لگا ہے، پہاڑی کے دامن میں جڑواں شہروں کو پانی کی فراہمی کیلئے موجود راول ڈیم میں بنی گالہ اور ملحقہ آبادی کا گندا پانی جا رہا ہے۔

عمران خان نے اس معاملے پر چیف جسٹس کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا۔ چیف جسٹس نے نوٹس لیا، وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے اپنی رپورٹ جمع کرائی ۔

آج مقدمے کی کھلی عدالت میں سماعت ہوئی تو عمران خان اپنے وکیل بابراعوان کے ساتھ روسٹرم پر آئے۔ چیف جسٹس کے سامنے عمران خان نے معاملہ کا پس منظر بتاتے ہوئے کہاکہ یہ سنجیدہ عوامی مفاد کامسئلہ ہے، پندرہ برس قبل بنی گالہ آیاتھا، اب تعمیرات سے دو مسئلے سامنے آرہے ہیں، ایک بوٹانیکل پارک ہے جو دونوں جانب سے تجاوزات کے بعد آدھا رہ گیا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی بھی تعریف کی، بولے، پانچ برس قبل میرے خط پر انہوں نے ازخود نوٹس لیاتھا اور درختوں کی کٹائی کاعمل رک گیاتھا، مگر اب دوبارہ تجاوزات بڑھ گئی ہیں اور کورنگ روڈ کی جانب سے آدھا پارک قبضہ ہوگیاہے۔ عمران خان نے عدالت کو بتایاکہ اس بار ازخود نوٹس کے بعد تجاوزات اور درختوں کی کٹائی رک گئی ہے، گرین ایریا ختم ہورہاہے، سی ڈی اے نے کچھ ہی درخت لگائے ہیں، اونچی عمارتیں بن رہی ہیں، پلازے تعمیر ہورہے ہیں جن کا گنداپانی راول ڈیم میں جارہاہے، پانچ برس مزید گزرے تو بہت تاخیر ہوجائے گا۔ (عمران خان کی انگریزی میں بریفنگ میں وقفہ آیا تو چیف جسٹس نے بات شروع کر دی)۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مخاطب کرکے کہاکہ ہم نے اس معاملے کا نوٹس لے لیاہے، اب اس کو کیسے روکاجائے اس کو دیکھیں گے، اس کیلئے آپ او ر آپ کے وکیل عدالت کی معاونت کریں، جوپہلے ہوچکا، کیا اس کو واپس کیا جاسکتاہے؟ اب اس میں بہت سے لوگوں کے بھی مفاد ہوں گے، دیکھنا ہوگا کیا پلازے قانون کے مطابق بنے ہیں؟۔ پہلے ہمیں قانونی پوزیشن دیکھنا ہوگی، آپ صحیح معنوں میں عوامی مفاد کامعاملہ لے کر آئے ہیں، یہ بنیادی حقوق کامسئلہ ہے کیونکہ صاف پانی اور ماحول بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ خان صاحب، آپ کی اور بھی کئی مصروفیات ہوں گی مگر اس مقدمے کیلئے وقت نکالیں اور عدالت کی معاونت کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم شاہ بلوط کے درخت کے نیچے بیٹھے قاضی نہیں کہ کوئی بھی حکم جاری کردیں، ہم قانون کی عدالت ہیں، پہلے قانون کو دیکھیں گے۔ ( اس کے بعد پانامہ کیس فیصلے کا حوالہ دیے بغیر چیف جسٹس نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہا کہ میڈیا میں جو کچھ ہورہاہے ، لوگ قانون نہیں سمجھتے۔ عدالت کی عزت ، احترام اوروقار کا خیال رکھاجاناچاہیے، اس ادارے (عدلیہ) کے احترام کو ختم نہ کیاجائے، دنیابھرمیں فیصلوں میں اختلاف بھی ہوتاہے مگر اس طرح کے خیالات کا اظہار نہیں کیاجاتا جیسا یہاں ہو رہا ہے، سسٹم اور عدلیہ کو مضبوط کرناچاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا خان صاحب، آپ عام شہری نہیں ہیں، آپ کی بات سے بہتری سے بھی آسکتی ہے اور خرابی بھی ہوسکتی ہے، آپ سمجھ رہے ہونگے جو میں کہنا چاہ رہا ہوں، لوگ آپ کو سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، آپ کے پیچھے عوام ہیں، موجودہ حالات میں آپ کو اہم اور تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔

(بات کو زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کیلئے یا اپنا پیغام درست طور پرپہنچانے کیلئے چیف جسٹس نے پرانی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی) بولے، خان صاحب، آپ کو یاد ہوگا یا نہیں، ہم کیتھڈرل میں اکھٹے تھے۔جب آپ ایچی سن سے آئے تھے، آپ کی لگائی گئی شاٹ آج بھی یاد ہے جو اتنی زوردار تھی کہ چرچ کی عمارت کے اوپرسے دوسری جانب چلی گئی تھی، میں آپ کی کپتانی میں کھیلا ہوں، ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت ہے، آپ ہیں اور بھی بہت سے لوگ ہیں، مقصد صرف قوم کو آگے لے جانا ہونا چاہیے، بے اعتباری اور بے اعتماد ی کی فضا کو ختم کرنا ہے، قوم میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عمران خان غیر جمہوری قوتوں کیلئے راہ ہموار نہ کریں

( اس موقع پر ٹی وی چینل رپورٹر کمرہ عدالت چھوڑ کر ٹکر/خبر دینے کیلئے باہر بھاگ کھڑے ہوئے، مجبورا مجھے بھی نکلنا پڑا، اس دوران سات منٹ کی سماعت نہ سن سکا)۔

واپس آیا تو چیف جسٹس تین باتیں نمٹا چکے تھے، ایک یہ کہ ان کے خیال میں دنیا میں ان قوموں نے ترقی کی ہے جن کے لیڈر پاک صاف ہوں،ملک میں قانون کی حکمرانی ہو، اور تیسرا یہ کہ انصاف کا بہترین نظام ہو۔ غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے، اگرکسی سے غلطی ہوئی بھی ہے تو اس میں بدنیتی شامل نہیں ہے۔ ( یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس سے ان کا کیا مطلب تھا)۔

(بہت زیادہ تیز رفتار اور انگریزی اور اردو میں مسلسل بولنے کی وجہ سے چیف جسٹس کی تمام باتیں پوری کوشش کے باوجود نہ لکھ سکا۔)

عمران خان بولے،پاکستان بدل گیاہے، جس طرح کی پانامہ کیس کی سماعت ہوئی ہے اس طرح کبھی نہیں ہواہوگا، یہ تاریخی موقع تھا، ہم اس بنچ (پانامہ کیس سننے والے ججوں) کا ہمیشہ دفاع کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ دوہزار تیرہ کے الیکشن کے فوری بعد ناروے میں تھا، خان صاحب، آپ کی پارٹی بہت زیادہ نشستیں نہیں لے سکی تھی، مجھ سے وہاں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیاکہ لوگوں میں ادراک پیدا ہواہے، شعور آگیاہے اورکسی بھی کام یا فیصلے سے پہلے جب شعوربیدار ہوتو بہتری آتی ہے۔تاریخ ہمیں یاد نہیں کرے گی، ہم سب نے مل کر آئندہ نسل کیلئے کیا کیا تاریخ یہ یاد ر کھتی ہے،ہم نے تاریخ میں آنے کیلئے اپنا کردار اداکرناہے اور یہ اداروں کو کمزور کرکے نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرکے ہوگا۔ خان صاحب، آپ کو برطانیہ کو زیادہ علم ہے، انیس سو ستانوے میں جب پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کے پچاس سال ہوئے تو اس حوالے سے ولنٹن پارک میں تقریب ہوئی، سوال یہ تھاکہ پچاس برس بعد پاکستان اور انڈیا کہاں کھڑے ہیں۔ وہاں ایک بات سمجھی کہ ترقی انہی قوموں نے کی ہے جنہوں نے ادارے بنائے، جن کے ادارے مضبوط ہیں، اداروں کے پیچھے قوم کھڑی ہوتی ہے اور جب لیڈر اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صاف پانی نہیں دے سکتے، ہوا، اور پانی پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے، اپنی کو کیوں آلودہ کیاجارہاہے، اس کی دن رات نگرانی کریںگے۔ عدالت نے سماعت میں وقفہ کرکے سرکاری وکیل اور عمران کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپس میں بیٹھ کر وہ نکات عدالت کے سامنے لائیں جس پر متعلقہ اداروں کو حکم دینا ہے۔

عمران خان عدالت کے باہر کیمروں کے سامنے آئے اور گفتگو شروع کی۔ میرا سوال تھا کہ ’آرمی چیف سے ملاقات کے بعد آج چیف جسٹس نے بھی آپ سے وہی بات دہرائی ہے، کیا اعلی سطح پر کوئی ایسا اتفاق رائے پیدا کیاجارہاہے کہ اس ملک میں بڑی جماعتوں کے سیاست دانوں سے کہاجارہاہے کہ ملک کے اداروں پر اعتماد کریں‘۔؟

اسی بارے میں: ۔  ضیا دور کی باغی لالہ رخ

معلوم نہیں عمران خان کو سوال سمجھ نہیں آیا ، یا پھر آرمی چیف سے سوال شروع ہونے کی وجہ سے وہ کچھ کنفیوز ہوگئے۔ خیر انہوں نے جواب دیاکہ ہم تو شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ادارے کمزور ہو رہے ہیں، اس لیے ایک ادارے پر اعتماد رہ گیاہے وہ سپریم کورٹ ہے۔

ایک اور اہم سوال جو عمران خان سے پوچھا گیا وہ یہ تھا کہ جس وقت آپ نے بنی گالہ میں گھر بنانا شروع کیا تھا اس وقت دوقوانین اس علاقے پر لاگو تھے، ایک جنگلی حیات سے متعلق بھی تھا، کیا آپ نے متعلقہ اداروں سے اجازت لی تھی؟۔

عمران خان نے جواب دیاکہ جس وقت میں نے بنایاتھا اس وقت سب سے اجازت لی تھی، موہڑہ نور کی یونین کونسل کے سیکرٹری سے تحریری اجازت لی تھی، میں نے تو فارم ہاﺅس بنایاتھا۔اب تو پانچ پانچ مرلے کے پلازے بن رہے ہیں۔

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل بابراعوان اور سرکاری وکیل عبدالروف پیش ہوئے، عدالت کو سرکاری وکیل نے بتایاکہ معاملے کے چار پانچ جزو ہیں، اسلام آباد انتظامیہ نے بھی رپورٹ دی ہے، وزیراعظم نے سات مارچ کو علاقے کی ڈیمارکیشن کی ہدایت کی تھی جس پر بار ہ اپریل کو عمل ہواہے، سات ہزار ایکڑ زمین ہے، سات سو پچیس ایکڑ کا بوٹانیکل گارڈن ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے اس کو لیاہے، چودہ ہزار تین میٹر کی چاردیواری کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، تجاوزات ختم کرکے متعلقہ محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے، سروے ہو چکا ہے، یہ زمین موضع اٹھال، ملوٹ، پھلگراں اور بنی گالہ کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس پارک یا گارڈن کے علاقے میں عام لوگوں کے قطعہ زمین بھی آتے ہیں تو خرید کرشامل کرلیں، اس علاقے میں کوئی درخت نہیں کٹے گا، جہاں غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں ان کو بجلی اورگیس فراہم نہ کریں۔ عدالت نے کورنگ روڈ نیشنل پارک اور مری روڈ سے بنی گالہ تک کے پارک کی حفاظت کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ سے راول ڈیم کی زمین کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔ عدالت نے سرکاری اداروں کی رپورٹ پر عمران خان کے وکیل سے جواب جمع کرانے کیلئے کہا۔

سماعت ختم ہوئی تو میں سوچ رہاتھا کہ عوامی مفاد کے اس مقدمے میں بظاہر سرکار، عدالت اور عمران خان ایک ہی بات پر متفق ہوگئے ہیں، اب اس عام شہری کا کیا بنے گا جو بنی گالہ میں پانچ مرلے کی جگہ خرید بیٹھا ہے کیونکہ وہ تو عمران خان کی طرح تین سوکنال نہیں خرید سکتا۔عام شہری کے حقوق کاتحفظ کون کرے گا؟ ( ملک کے چیف جسٹس بھی عمران خان کو عام شہری نہیں سمجھتے)۔

کیا آپ نے وہ پروگرام دیکھا تھا جس میں بابراعوان نے عمران خان پر بنی گالہ میں جنگل کی زمین پر قبضے کا الزام لگایا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ اسی مقدمے میں اب بابراعوان وکیل بن گئے ہیں اور عمران خان کی طرف سے پیش ہورہے ہیں۔ بابراعوان نے پروگرام میں کہا تھا’راول ڈیم خراب کرنے والا پہاڑ کس نے قبضہ کر رکھا ہے، ڈیڑھ کلومیٹر جنگل کا رقبہ عمران خان نے قبضہ کیا ہے‘۔

اس پروگرام کے کلپ کا لنک پیش خد مت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔