جھوٹے بلاگرز کی سچی کہانیاں


آج کل تو رواج بن گیا ہے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بننا۔ جسے سب معلوم ہے وہ بھی دانشور ہے اور میرے جیسے کن ٹٹے بھی جعلی دانشوری کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ فیمینزم اور وومن امپاورمنٹ پر لکھنے اور بولنے والے بے شمار لوگ ملیں گے۔ بلاگز کہیں خواتین کے حقوق کے لئے آواز اُٹھاتے نظر آئیں گے اور کہیں کامیاب خواتین کی کہانیوں پر فخریہ تبصرے پیش کرتے دکھائی دیں گے۔ یہ سب پڑھ کر اچھا تو بہت لگتا ہے مگر یہ تو سوچنا پڑتا ہے نا کہ کیا یہ سب ان سے تعلق رکھنے والی خواتیں لئے بھی لاگو ہوتا ہے یا وہاں ان کے نظریات میں ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی آجاتی ہے؟

آج کل خواتین کی نقل و حمل کی آزادی پر بہت بات کی جارہی ہے۔ پڑوسی ملک کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ کیسے وہاں کالج کی لڑکیوں سے لے کر ادھیڑ عمر کی خواتین خود سکوٹی یا موٹر سائکل چلا کر جہاں چاہے جا سکتی ہیں۔ اس سے لوئر مڈل کلاس کی خواتین جو گاڑی نہیں خرید سکتیں ان کے مسائل بھی کم ہوتے ہیں۔ اس پر پاکستان میں لبرل بلاگرز نے خوب لکھا ہے۔ اس پر چلیں ایک کہانی سُناتی ہوں۔ ایک لڑکی کو سکوٹی لینے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ یونیورسٹی روز آنے جانے میں مشکلات بھی ہیں اور بہرحال مشکلات نہ بھی ہوں تو اس کا حق ہے۔ اُس کے گھر والے کہتے ہیں اگر سمسٹر میں ٹاپ کر لو گی تو سکوٹی لے دیں گے۔ وہ آٹھ سمسٹرز میں ٹاپ کرتی ہے کسی ایک میں بھی سکوٹی نہیں ملتی۔ ہاں اُس کے شہر میں سی ڈی ستر چلاتی لڑکیوں کی اس کے سامنے تعریف بھی کی جاتی ہے اور  ان کی ہمت کو سراہا بھی جاتا ہے۔ ویسے یہ بتا دوں آپ کو کہ اُس لڑکی کے گھر میں دانشور موجود ہیں اور خواتین کے حقوق کے علم بردار بھی۔

چلیں ایک اور قصہ سنیں اب۔ ایک صاحب ہیں جو کہ بلاگر بھی ہیں اور خواتین کے حقوق پر خوب آواز  بھی اُٹھاتے ہیں۔ ان کے پاس دفتر کی ایک خاتون کسی کام کے سلسلے میں گئیں۔ خاتون کی مجبوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان سے ناجائز مطالبہ کر دیا جاتا ہے اس تسلی کے ساتھ کے ہماری مراد بر آئی تو سمجھیں کہ آپ کا کام بھی ہوگیا۔ خاتون ان کی طبیعت درست کر کے آفس سے باہر آگئیں۔ اس خاتوں کی نوکری چھوٹی، در بدر کی ٹھوکریں کھائیں وہ صاحب اب بھی خواتین کے حق میں لکھتے ہیں۔ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین ایسی بے شمار کہانیوں کا یا تو حصہ ہیں یا ان کی ساتھی خواتین ایسے عذاب سے گزرتی رہتی ہیں۔ ایسے مرد لیکن ڈھٹائی سے ساری دنیا کے سامنے عورتوں کے حقوق کے علم بردار رہتے ہیں۔ اپنی خصلت کے مردوں کو جانتے ہوئے گھر کی عورتوں پر البتہ پابندیاں لگانے سے نہیں چوکتے۔

چلتے چلتے ایک اور کہانی پڑھ لیں۔ ایک محترمہ نوکری کے سلسلے میں دوسرے شہر منتقل ہوئیں۔ اپنے حساب سے وہ صحیح کما رہی ہیں۔ دو نوکریاں کر رہی ہیں اور تیسری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کتھک  سیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اپنے فلیٹ یا الگ گھر میں رہیں مگر دانشور گھرانہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ خیر جنگ جاری ہے دیکھیں کب تک جاری  رہتی ہے۔

آپ نے ان سب باتوں کو دل پر نہیں لینا۔ کیونکہ یہ تو بس شروعات ہے۔

آہستہ آہستہ آپکو بھی پتہ لگیں گی

جھوٹے بلاگرز کی سچی کہانیاں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔