صحافت یکطرفہ نہیں ہوتی


ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

جون ایلیا

عدنان کاکڑ صاحب کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا اور نہ ہی ان کے نظریات سے واقف ہوں لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے۔ جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اور ہم سب کی ٹیم نے مولانا لدھیانوی صاحب کا ایک انٹرویو کیا ہے، جو ان کے بہت سے انٹرویوز کی ایک کڑی ہے اور تنقید یہ کی جا رہی ہے کہ کیوں کیا گیا؟

دنیا بھر کے صحافتی ادارے مواد پر بات کرتے ہیں کہ کیا جانے دیا جائے یا کیا ایڈٹ کیا جائے؟ لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایک مخصوص شخص یا گروہ کا موقف ہی نہ سنا جائے یا نہ لیا جائے۔

سن 2009 کی بات ہے۔ جرمن وزارت خارجہ نے ایک تین روزہ ان ڈور میٹنگ کا اہتمام کیا۔ اس میں پاکستان سے حامد میر، رحیم اللہ یوسفزئی صاحب، سلیم صافی، نسیم زہرہ، ثنا بچہ اور تین دوسرے صحافی شامل تھے۔  جرمنی کے چار ٹاپ صحافی اور ایک یا دو میڈیا پروفیسر شامل تھے۔ میں اس میں ایک ٹرینی کے طور پر شریک تھا کیونکہ میں صحافت کی ٹریننگ حاصل کر رہا تھا۔

وہاں طالبان کے موقف کی بات آئی تو دو پاکستانی صحافیوں کا کہنا تھا کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور انہیں کسی بھی طرح کا پلیٹ فارم نہیں دیا جا سکتا۔

جرمن پروفیسر نے سوال اٹھایا کہ وہ ایک فریق ہیں۔ ان کے بندے مرنے کی خبر آئے گی تو یہ خبر یکطرفہ تو نہیں چلائی جا سکے گی۔ اب حکومت کہے گی کہ چالیس لوگ مار دیے ان کے، آپ کو تصدیق تو کرنا پڑے گی کہ کتنے مرے ہیں، آیا ان میں سویلین بھی تھے یا کوئی بچہ بھی تھا یا صرف تین مرے ہیں اور حکومت پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ صحافت یکطرفہ موقف کا نام تو نہیں ہے۔ کوئی قاتل بھی ہو، آپ کو جاننا تو پڑے گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟

اسی بارے میں: ۔  آپ آ گئے ہیں یہی تو فکر کی بات ہے

بحث چلتی رہی لیکن دو طرفہ موقف حاصل کرنا ایک بنیادی صحافی اصول ہے اور سبھی اسی پر متفق ہوئے کہ الزام لگانے والے کی ہی نہیں بلکہ ملزم کا موقف بھی جاننا آزاد معلومات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔

لیکن یہ خیال بھی سبھی ادارے رکھتے ہیں کہ کسی دہشت گرد کو دہشت گردی کے لیے پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

چند برس پہلے جرمنی کے سب سے مشہور، معتبر اور ترقی پسند میگزین ڈئیر اشپیگل نے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کا اس وقت انٹرویو شائع کیا تھا جب سارا یورپ ایرانی سیاست اور احمدی نژاد کے خلاف تھا۔ اور اس شرط پر کیا تھا کہ کچھ بھی حذف نہیں کیا جائے گا۔ ان پر کچھ حلقوں نے تنقید بھی کی، جس کے جواب میں میگزین نے کہا تھا کہ دوسرے یا متبادل موقف تک رسائی جرمن عوام کا بنیادی حق ہے۔ کسی کا انٹرویو کرنا ہے یا نہیں یہ ایک ادارے کا داخلی فیصلہ تو ہو سکتا ہے لیکن اسے صحافتی اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خیر میں اس حوالے سے مزید مثالیں دے سکتا ہوں لیکن جن دوستوں کا باقاعدہ صحافتی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، وہ اسے مشکل سے سمجھیں گے۔

میں ابھی تک یہ سمجھتا ہوں ’ہم سب‘ صحافتی اصولوں پر قائم ایک ادارہ ہے اور ہر ادارے میں ہر وقت بہتری کی گنجائش ہر وقت رہتی ہے۔ بطور ایک ادنیٰ صحافی اور صحافی نقطہ نظر سے یکطرفہ رپورٹنگ کی گنجائش تو صحافت میں کبھی بھی نہیں رہی۔ صحافت کا کام اگر میرا یکطرفہ یا ایک ہی موقف پیش کرنا ہے تو یہ عوام کے ساتھ بہت بڑی بلکہ سب سے بڑی زیادتی ہے۔ دوسرے معنوں میں اسے ایک خاص نظریے کی ترویج یا ایک خاص نقطہ نظر کے لیے پروپیگنڈا کہتے ہیں۔ ایک صحافتی ادارے میں پروفیشنلزم کی نشانی ہی یہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کے نقطہ نظر کو ”مناسب انداز” میں سامنے لایا جائے تاکہ ایک قاری کو ہر زاویے سے کسی مخالف کے خیالات اور نظریات کو پڑھنے اور پرکھنے کا موقع مل سکے۔

اسی بارے میں: ۔  ایک صالح صحافی کی نہایت قابل اشاعت خبر

ایک ’پروفیشنل  اور تبلیغی یا نظریاتی صحافی یا لکھاری‘ میں یہی فرق ہوتا ہے۔ ایک ’نظریاتی صحافی‘ سر سطح پر اپنے ہی نظریات کو مقدم رکھتا ہے اور ایک ’پروفیشنل صحافی‘ اپنے نظریات اور ذات کو پس پشت رکھتے ہوئے اس شخص کی خصوصیات کو بھی بیان کرتا ہے، جو اس کو سخت نا پسند ہے۔

مغربی میڈیا میں بھی کسی انتہائی متنازعہ شخصیت کا وہ حصہ ’’ایڈٹ‘‘ کیا جاتا ہے، جس سے یہ خدشہ ہو کہ یہ حصہ کسی عسکری گروپ کے لیے پیغام ہو سکتا ہے یا پھر اس کے منظر عام پر آنے سے معاشرے میں انتشار پھیل جائے گا۔

اگر ایک ‘مخصوص پروپیگنڈا یا نظریے کی ترویج چاہیے تو یکطرفہ مواد شائع کرنا ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی ویب سائٹ کو صحافتی معیار پر چلانا چاہتا ہے تو معاشرے کے تمام طبقات کی آواز سنی بھی جاتی ہے اور اس کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔

ناقدین شائع شدہ مواد پر مکالمہ کریں کہ وہ معاشرے کے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟ یا اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ لیکن کسی انٹرویو نہ کیجے یا دوسرے فریق کا موقف نہ لینا صحافتی بد دیانتی ہے۔

پاکستان میں ہر دور میں اوبجیکٹیو رہنے کی کوشش کرنے والے صحافی کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کو ایسا کیوں بنایا جا رہا ہے کہ آپ کو اسی وقت سراہا جائے گا، عزت دی جائے گی، جب آپ کسی ایک مخصوص، نظریے، پارٹی یا شخص کی حمایت کریں گے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔