غریب کسان سڑک بننے پر ناراض کیوں ہوا؟


پچھتاوا تو آگے نکل جانے والوں کو بھی بہت ہے۔ گھائل، لیکن، پیچھے رہ جانے والے زیادہ ہیں۔

دُکھ ان لاکھوں تارکینِ وطن کا ہے جو اپنی تعلیم مکمل نہ کر پائے۔ محدود وسائل یہاں حصولِ رزق میں آڑے آ گئے۔ اب گھروں سے ہزاروں میل دور سولہ، سولہ گھنٹے مزدوری کرکے ایک کمرے میں آٹھ، آٹھ لوگ فرش پر بستر لگا کر سونے سے ذرا پہلے انٹرنیٹ سے سستے داموں فون کر کے وطن کے دوستوں سے غم زدہ ہنسی میں ڈوبی آواز میں اِدھر اُدھر کی بے مقصد باتیں کر کے تن کی نہیں، من کی تھکن اتارتے ہیں۔

تعلیم مکمل ہو جائے تو بھی مقدر کا دُکھ تو کم نہیں ہوتا۔

دل کے امراض کے ماہر، سرگودھا کے اس ڈاکٹر کا بھی بہت دُکھ ہے جو نیوجرسی کے ایک ہسپتال میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تو درست کرتا ہے لیکن ہر شام ڈوبتے سورج کو دیکھ کر اپنے ڈوبتے دل کو سہارا نہیں دے پاتا۔ دُکھ، ڈیرہ غازی خان کے اس انجینئر کا بھی ہے جسے وطن میں روزگار میسر نہ آیا اور اب برجِ خلیفہ کی چکا چوند روشنیوں میں گِھرا اپنے گاؤں کے اندھیروں کو یاد کرتا ہے۔ دُکھ اس مدبر آدمی کا بھی ہے جس کے والد نے قریب رکھنے کی چاہ میں اسے خالصتاً دیہاتی مضمون، زراعت، میں اعلیٰ تعلیم دلوائی اور وہ اپنا آپ کینیڈا کے ایک تحقیقاتی ادارے کو فروخت کر بیٹھا ہے۔ دُکھ اپنے گاؤں کے اس شربتی آنکھوں والے کڑیل جوان کا بھی ہے جو گوروں کے دیس میں مستقل سکونت کے چکر میں ایسی غلطی کر بیٹھا جس نے واپسی کے سارے راستے مسدود کر ڈالے۔

دُکھ یہیں ختم ہو جاتے تو بھی دِل کو قرار آ جاتا۔

دُکھ، وطن کے اندر، ان لاکھوں دربدر بد نصیبوں کا بھی ہے جو لمبی مسافت کے آسیب سے خوف زدہ بیرونِ ملک نہ گئے لیکن ایسے “آئی۔ڈی۔پی” پھر بھی بن گئے جن کا کوئی حکومت اندراج نہیں کرتی۔ دُکھ اس وفاقی سیکرٹری کا ہے جس کے دفتر میں بہت رونق رہتی ہے لیکن اٹھارہ ہزاری کے گاؤں والے قبرستان میں اپنی والدہ کے پہلو میں اس نے دو گز زمین پر اپنے لیے اینٹیں لگوائی ہوئی ہیں۔ دُکھ اس پڑھے لکھے نوجوان کا بھی ہے جسے بڑے شہر میں عزت والی نوکری ملی تو محلے میں مٹھائی بانٹی گئی اور اب وہ جلدباز سارا دن غریب الوطنی کے نشتر سہ کر ہر رات بستر پر لیٹ کر سوچتا ہے کہ میں نے وہیں گھر کی اوطاق میں ٹیوشن مرکز ہی کھول لیا ہوتا۔۔۔! دکھ تو جفت ساز فیکٹری میں بغیر کسی حفاظتی اقدام کے کام کرتے اس مزدور کا بھی ہے جو مہینے کے اٹھائیس دن اس آس میں آگ کی بھٹی کی قربت میں گزار دیتا ہے کہ تنخواہ لے کر دو روز کے لیے گھر جائے گا۔ دُکھ تو منڈی بہاؤ الدین کے اس جوان کا بھی ہے جو نوشکی میں ایف-سی کی چیک پوسٹ پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے۔ اور دکھ تو ان لاکھوں خاندانوں کا بھی ہے جو قومی شناختی کارڈ پر دو پتے لکھواتے ہیں اور عیدین و محرم منانے اپنی اصل کو لوٹتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر عبدالسلام کو کسی نوازش کی ضرورت نہیں

کارخانے میں معمولی اجرت پر کام کرنے والوں سے بات کریں تو انہیں حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے اور ہنرمند لوگ جو یہاں باعزت رزق کما سکتے تھے وہ باہر کیوں گئے؟ دیارِ غیر میں مبتلائے عذاب سے بات ہو تو وہ فرماتے ہیں کہ ہاں، ہم گھروں سے دور ہیں تو لاکھوں کما رہے ہیں۔ ان حضرات کے پاس کیا منطق ہے جو محض دو وقت کی روٹی کے لیے اپنا گھر دان کیے بیٹھے ہیں؟ میں دونوں کی باتیں سن کر اپنی نم آنکھیں موند لیتا ہوں۔ ہم سب مہاجر ہیں۔ ہم سب غریب لوگ ہیں۔ کیا وطن کے اندر، کیا وطن سے باہر۔ جھوٹ کہتا ہے معاشیات کا علم کہ غربت کی لکیر ہوتی ہے۔ غربت کا تو صرف احساس ہوتا ہے۔ کسی کو خود ہو جاتا ہے، کسی کو ساتھ بسنے والے کروا دیتے ہیں۔ ہم سب اپنی غربت کے ہاتھوں اپنا گھر بار چھوڑے بیٹھے ہیں۔

یہ سب دُکھ بجا لیکن اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اس، دُکھوں کی تجارت، میں کچھ جنس تو بدلے میں مِل رہی ہے۔ کچھ دولت اور کچھ آسائشیں۔ ہم سب کے پاس زندگی کرنے کے سو بہانے بھی ہیں۔ کچھ خواب ہیں، کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ انہی بھول بھلیوں میں گھومتے ہوئے عمر بیتے جا رہی ہے۔ کسی کو احساسِ زیاں جلد ہو رہا ہے کسی کو بدیر۔ کوئی چند ماہ یا چند سال میں اس خسارے کے کاروبار سے الگ ہو جاتا ہے تو کوئی ریٹائرمنٹ تک جاری رکھتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کارزار میں زندگی ہار کر محض دفن ہونے واپس جاتے ہیں۔ لکین ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس تجارت میں شریک نہیں ہوتا۔ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کی تجارت کر بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔! پھر بھی سب سے زیادہ خسارہ انہی کے حصے میں آتا ہے۔ انہیں کچھ بھی نہیں درکار ہوتا، دولت، نہ آسائشیں۔ میرا نوحہ ان ہارے ہوئے، بد نصیب، بوڑھے، تنہا، زندگی کا بوجھ اٹھائے والدین کے لیے، جن سے ملنے بچے آتے ہیں نہ عزرائیل۔

اسی بارے میں: ۔  عائشہ گلالئی کی کہانی اور ہمارا سماجی رویہ

پچھتاوا تو آگے نکل جانے والوں کو بھی بہت ہے۔ گھائل، لیکن، پیچھے رہ جانے والے زیادہ ہیں۔

احمد سلمان نے کیا خوب کہا ہے۔

وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا

جب ان کے بچے بھی شہر جا کے کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔