اور ابلیس نے کہا


کنہیا لال کپور( 1910۔ 1980) برصغیر کے ان ادیبوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے طنزومزاح کو نئے افق فراہم کیے۔ ان کے ہاں طنزو مزاح سستی تفریح اور بے ربط جگت بازی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا فن ہے جسے خود احتسابی کا عمل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

کنہیا لال کپور لکھتے ہیں:

”مزاح اپنے آپ پر ہنسنے کا نام ہے۔ دوسروں پر ہنسنے کے لیے ایک بتیسی چاہیے لیکن اپنے آپ پر ہنسنے کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن برگزیدہ اشخاص کو اپنے آپ پر ہنسنے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں غالب سرفہرست ہیں، دیکھیے کس بے باکی اور بانکپن کے ساتھ اپنے آپ پر ہنستے ہیں

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

اپنے آپ پر ہنسنا ایک طرح کا سیفٹی والو (Safety Valve) ہے۔ جس میں سے خود سری اور خود ستائی کی وافر بھاپ خارج ہوتی رہتی ہے اور دماغی توازن قائم رہتا ہے“۔

لیکن طنز و مزاح کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے، اس سے سیکھا جائے نہ کہ طنز و مزاح کو انا کا مسئلہ بنا دیا جائے۔
لکھتے ہیں:

”طنز کرنے کے لیے دماغ اور اس کی تاب لانے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ طنز ان ممالک میں پنپتی ہے جہاں قارئین طنزیہ تحریریں پڑھ کر طنز نگاری کی بلائیں لیتے ہیں۔ اسے (طنز نگار کو) جیل یا جہنم بھجوانے کی دھمکیاں نہیں دیتے“۔

پچھلے دنوں کنہیا لال کپور کی کتاب ”نازک خیالیاں“ پڑھ رہا تھا جس میں ان کی تحریر ”اور ابلیس نے کہا“ نظر نواز ہوئی، تحریر کیا ہے ہمارے سماج کا آئینہ ہے، انسانیت کا ماتم ہے لیکن انداز تحریر اتنا دلگداز کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہے۔ لکھتے ہیں:

”وہ ایک چبوترے پہ کھڑا ہو گیا اور اس نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں خدا کا دوست ہوں نہ اس کا بیٹا، میں خدا کا اوتار بھی نہیں۔ میں تو اس کا دشمن ہوں۔ میں خدا کی رحمت سے مایوس ہوں لیکن انسان کی شفقت سے کبھی محروم نہیں رہا۔ خدا نے مجھے دھتکارا۔ انسان نے سر آنکھوں پہ بٹھایا۔ مجھے فخر ہے کہ انسان نے ہمیشہ میرے پیغام کو پیغمبروں کے پیغام پر ترجیح دی“۔

اس پیراگراف کو پڑھیے اور انسان کی وفاداری کو داد دیجیے۔ کیا مشال خان کیس میں انسان نے خدا کے برگزیدہ پیغمبروں کے پیغام پر ابلیس کے پیغام کو ترجیح نہیں دی؟ کیا چترال واقعہ میں مولانا خلیق الزمان کی خدا پرستی کو انسان نے جھٹلا کر ابلیس کا ساتھ نہیں نبھایا۔ ؟ سیالکوٹ میں تین عورتوں کے ہاتھ ایک گستاخ کی ہلاکت میں انسان نے پیغمبرانہ پیغام ”قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لو“ کو پیروں تلے نہیں روندا۔ ؟ مولانا حسن جان شہید کیس میں حریت کی صدا بندی کرتے ہوئے انسان نے ابلیس کی ہدایت پر عمل پر کرتے ہوئے خدا کے حکم سے روگردانی نہیں کی۔ ؟

آگے چل کر لکھتے ہیں:

”اور تم سے کہا گیا کہ آسمانی خدا تمہارا باپ ہے اس کی اطاعت قبول کرو لیکن آفریں کہ تم گمراہ نہیں ہوئے اور تم نے روپے کو ہی آسمانی باپ سمجھا“۔

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ابلیس ان جملوں میں براہ راست مجھ اور آپ کو مخاطب کر کے شاباشی دے رہا ہے۔ ہم میں سے کون ہے جو روپے پیسے کے سامنے گھٹنے ٹیک نہیں دیتا۔ ؟ کیا ہم وہی نہیں جنہوں نے اڑوس پڑوس سے روپے اینٹھنے کے لیے پوری قوم کو دہشت گردی کی بھٹی میں دھکیل رکھا ہے۔ ؟ دہشت گردی، لاقانونیت، نا انصافی کو تو رہنے دیجیے صرف اسی نکتے پر غور کیجیے کہ سی پیک جیسے شاندار منصوبے میں فقط روپے کی خاطر ہم نے پورے ملک کا سودا کر رکھا ہے۔ شاید میرے جملے قارئین کی سماعتوں پر بھاری پڑیں گے مگر سچ یہ ہے کہ سی پیک پر کام کرنے والی چینی کمپنیاں ایکویپمنٹس اور مشینری کے ساتھ ساتھ لیبر بھی چینی ہی استعمال کر رہی ہیں جبکہ ہماری قوم دور کھڑی تماشا دیکھنے اور اپنی انمول زمینیں کوڑی کے بھاؤ ہاتھ سے جاتے دیکھنے پر مجبور ہے۔ چونکہ ”ہمیں“ روپیہ مل رہا ہے یا مل جائے گا اس لیے واحد سچے آسمانی خدا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے قوم کی بہتری کے لیے سوچنے کی کیا ضرورت، زمینی خدا یعنی روپیہ تو مل رہا ہے، بس کافی ہے۔

مزید لکھتے ہیں:

”اور تمہیں بتایا گیا خون کا بدلہ خون نہیں۔ آگ سے آگ بجھائی نہیں جا سکتی، لیکن میں (ابلیس) کہتا ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ آگ اور خون سے ڈرتے ہیں۔ تم ان کی باتوں میں مت آؤ“۔

جی آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔ سماج اور مذہب کی یہ تعلیم کہ آگ سے آگ بجھائی نہیں جا سکتی، ہماری نظروں کے سامنے کبھی رہی ہی نہیں کیونکہ ہم نے مسلک، مذہب، سیاست، علاقائیت، لسانیت، قومیت اور گروہی عصبیت کے نام پر آگ لگانی ہے بجھانی نہیں۔ خون بہانا ہے کسی کی جان بچانی نہیں۔ دیکھیے نا اگر ہم خدائی تعلیمات پر ایمان رکھتے تو کیا خون بہاتے۔ ؟ آگ بھڑکاتے۔ ؟ نہیں نا۔ لیکن ہم خدا کی نہیں ابلیس کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم انسان تو ہیں لیکن خدا کے بندے نہیں شیطان کے پجاری ہیں۔

کنہیا لال کپور انیس سو اسی میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے اگر زندہ ہوتے تو آج ہمارے کرتوت دیکھ کر ”اور ابلیس نے کہا“ مضمون نہ لکھتے بلکہ ”اور انسان نے ابلیس سے کہا“ لکھتے۔ اوراپنے اس مضمون میں وہ تمثیلی روایت بھی ضرور نقل کرتے جس میں لکھا گیا ہے کہ ایک بزرگ کا گزر ابلیس پر ہوا، دیکھا تو نکما اور بور حالت میں بیٹھا ہے۔ حیرت سے پوچھا: تم، یوں نکمے اور سست، آخر کیوں۔ ؟ حالانکہ تم تو رگوں میں خون کی مانند دوڑتے ہو۔ میرا خیال تھا تم پارے کی طرح تیز اور ہرن کے جیسے چست رہتے ہو گے۔ ابلیس نے جواب دیا: ہاں میں ویسا ہی تھا جیسا آپ کا خیال تھا۔ کیونکہ مجھے دن رات کام کرنا پڑتا تھا۔ سو جتن کر کے کسی ایک انسان کو پھانستا تھا لیکن پھر پاکستان میں ایک ایسا دور آیا جس نے میری کایا ہی پلٹ ڈالی، اس دور میں ابلیسیت کے اعلی قسم کے جراثیم پوری قوم میں انجیکٹ کیے گئے اس عمل کے نتیجے میں آج ایک ایسی نسل تیار ہو چکی ہے جس نے میرا کام اپنے ذمے لے کر بخوبی سنبھال رکھا ہے اور نا صرف سنبھال رکھا ہے بلکہ اسے مزید ترقی دے کر چار چاند لگا دیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج کل میں نکما ہوں تو سست رفتار ہو گیا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔