فوج کی دیانت اور سپریم کورٹ کی ساکھ کا سوال


پاک فوج نے سپریم کورٹ کے حکم پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں اپنے نمائندوں کے ذریعے شفاف اور قانونی طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کور کمانڈر کانفرنس میں پاناما کیس کا فیصلہ زیر غور آیا۔ اس حوالے سے جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس میں فوج کے دو اداروں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کی شمولیت کے حکم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کور کمانڈر کانفرنس نے یقین دلایا ہے کہ سپریم کورٹ نے فوج پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ اس پر پوری اترے گی۔ اس دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آج ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران سیاستدانوں پر زور دیا کہ ملک میں عدالت عظمیٰ کے بارے میں پیدا ہونے والی بداعتمادی ختم کرنا ہوگی۔ بنی گالہ میں تجاوزات کے بارے میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران انہوں نے کمرہ عدالت میں موجود تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن جس طرح پاکستان میں پاناما کیس کے فیصلہ کے بعد ہو رہا ہے، ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں اور اسی لئے لوگ انصاف کی امید لے کر عدالت میں آتے ہیں۔ ایک طرف ملک کے دو اہم ترین ادارے اپنی اپنی ساکھ کی حفاظت کی لئے ہاتھ پاؤں مارے رہے ہیں تو دوسری طرف تحریک انصاف نے اب نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

ان حالات میں آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ پاناما کیس اور اس پر ہونے والے مباحث یا سامنے آنے والا فیصلہ صرف میاں نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کےلئے ہی پریشانی کا سبب نہیں ہے بلکہ ریاست پاکستان کا ہر ادارہ براہ راست یا بالواسطہ طور سے اس سے متاثر ہے۔ 20 اپریل کو سامنے آنے والے فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ایک اہم معاملہ پر اپنی رائے کا اظہار کر دے گی تو سیاسی جماعتیں اور عام لوگ اطمینان کا سانس لے کر آگے بڑھ سکیں گے۔ تاہم یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی نتیجہ تک پہنچنے میں تو ناکام رہا ہے لیکن اس میں وزیراعظم سے لے کر ملک کے تمام سول اداروں کو مشتبہ ضرور قرار دیا گیا ہے۔ فیصلہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیب کے چیئرمین اس حوالے سے اقدام کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس ہچکچاہٹ کی وجہ جاننے اور نیب کی حدود و قیود کو سمجھنے کی بجائے سپریم کورٹ کے ججوں نے یہ مناسب سمجھا کہ نیب کے چیئرمین کو ہی مشکوک قرار دیا جائے۔ حالانکہ قمر زمان چوہدری نے اس بنیاد پر معذوری ظاہر کی تھی کہ نیب دوسرے ملکوں میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کرنے سے قاصر رہے گی۔ اسے پاناما میں دستاویزات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی اور وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے گی۔ دیانتدارانہ رائے کو سپریم کورٹ نے ان کی عذر خواہی قرار دیتے ہوئے نیب پر ہی بداعتمادی کا اظہار کیا ہے۔ اسی بنیاد پر اب پاکستان تحریک انصاف چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس لے کر گئے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے حال ہی میں شہرت پانے والے جج شوکت عزیز صدیقی سمیت پانچ ججوں کے خلاف ریفرنس موجود ہیں لیکن اس کے پاس ان معاملات پر غور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اب نیب کے چیئرمین کے خلاف ریفرنس بھی اس قطار میں شامل ہو جائے گا۔ اکتوبر میں قمر زمان چوہدری کے عہدہ کی مدت پوری ہونے تک ہو سکتا ہے سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کی سماعت کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کےلئے ایک نیا معاملہ ضرور مل گیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار آج سپریم کورٹ پر اعتماد بحال کرنے کی اپیل کر رہے ہیں لیکن یہ اعتماد صرف اختیاارات کے حصول اور ان کے بے دریغ استعمال کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کےلئے سپریم کورٹ سمیت ہر ادارے کو اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے سارے جج جانتے ہوں گے کہ زیریں عدالتوں میں سائلین کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اور ملک کی کچہریاں اور عدالتیں کس طرح بدعنوانی کے اڈے بنی ہوئی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے جج دوسرے مسلمہ سویلین اداروں کے خلاف بداعتمادی اور بدگمانی پیدا کرتے ہوئے خود اپنے انتظام میں کام کرنے والے عدالتی نظام کی اصلاح میں بری طرح ناکام ہیں۔ ملک کے ہر چیف جسٹس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدمات پر سرعت سے فیصلے کرنے اور سائلین کو ایجنٹوں اور بدعنوان ججوں کے چنگل سے بچانے کےلئے موثر اقدامات کریں گے۔ لیکن 2007 سے چلنے والی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد سے ہر چیف جسٹس نے دعویٰ کرنا تو ضروری خیال کیا لیکن اصلاح احوال کےلئے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ حتیٰ کہ اس دوران کئی ایسے معاملات بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں قتل کے الزام میں برس ہا برس قید کاٹ کر انتقال کر جانے والے لوگوں کو مرنے کے کئی برس بعد انصاف ملا اور انہیں بری کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے کسی اجلاس میں اس اندھیر نگری پر غور کرنے کی نہ تو ضرورت محسوس کی گئی اور نہ اس کے تدارک کےلئے کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔

پاناما کیسی کے فیصلہ میں سپریم کورٹ کے 5 ججوں پر مشتمل بینچ نے ملک کے منتخب وزیراعظم کے خلاف الزامات کی تحقیقات کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی خطرناک روایت کا آغاز کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ فیصلہ ہے کہ اس جے آئی ٹی میں فوج کے اداروں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے بھی شامل کئے جائیں۔ یہ حکم دیتے ہوئے جج حضرات اس فیصلہ کے مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات سے بے خبر رہے ہوں گے۔ آئندہ کوئی بھی جج کسی بھی عہدے دار کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے کر اسے بے توقیر کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ فیصلہ اس سچائی کے باوجود کیا گیا ہے کہ ملک میں قائم ہونے والے ایسی تحقیقاتی کمیٹیوں کے فیصلے کبھی اطمینان بخش نہیں ہوتے اور نہ ہی ان پر عملدرآمد ہو پاتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ ایک ایسی کمیٹی جو حکومت کی بجائے براہ راست سپریم کورٹ کو جوابدہ ہو گی اور جس میں فوج کے نمائندے بھی شامل ہوں گے ۔۔۔۔۔ اس کی طے کردہ ہدایات اور مقررہ وقت کے اندر سارا سچ سامنے لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن فاضل جج صاحبان یہ ادراک کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ جس معاملہ میں 5 ماہ سر مارنے کے بعد بالآخر وہ بھی مزید تحقیقات کروانے کے نتیجہ تک پہنچ سکے ہیں، تو وہی کام ایک جے آئی ٹی دو ماہ میں کیسے پورا کرے گی۔ اس کے علاوہ جن افسروں پر اس لئے اعتماد کیا جائے گا کہ وہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کو رپورٹ کریں گے ۔۔۔۔۔۔ کیا ان کے بارے میں یہ غور کرنے کی زحمت بھی کی گئی ہے کہ یہ دو ماہ گزرنے کے بعد انہیں اسی حکومت کے وزیروں اور دیگر عمال کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے نمائندے شامل کرنے کا مقصد معاملہ کی شفافیت سے زیادہ سول اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ لیکن اس سوال کا کیا جواب ہے کہ یہ سارے ادارے اسی نظام کا حصہ ہیں۔ اس نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر ایک حکم اور اس میں ظاہر کئے گئے جلال سے معاملات کیوں کر اصلاح پذیر ہو سکتے ہیں۔

ملک میں اس حوالے سے سیاسی نعرے بازی اور کیچڑ اچھالنے کا کام اس شدت سے کیا جا رہا ہے کہ اب فوج کی کور کمانڈر کانفرنس کو بھی اس پر غور کرنے اور اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی اصولی طور پر اس معاملہ کا سیاسی حل چاہتی تھی اور عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کی حامی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی پاناما کیس میں فریق بھی نہیں تھی لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ نے اپوزیشن کو جو سیاسی امکانات فراہم کئے ہیں، ان کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے لیڈر بڑھ چڑھ کر اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک طرف اقلیتی ججوں کے اختلافی فیصلہ کا حوالہ دے کر وزیراعظم کو مطعون کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے فوج پر بداعتمادی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو نواز شریف کا رشتہ دار بتا کر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ فوج کے نمائندے بھی غیر جانبدار نہیں ہوں گے۔ انہی الزامات کی وضاحت پہلے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کی اور اب کور کمانڈرز کانفرنس کی طرف سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ لیکن فوج کے کمانڈر اس بات پر غور کرنے میں ناکام رہے کہ سپریم کورٹ کیوں انہیں ایک وزیراعظم کے خلاف تحقیقات میں ملوث کرنا چاہتی ہے۔ اور اگر کل کلاں سپریم کورٹ کے کسی جج نے فوج کے کسی افسر کے خلاف تحقیقات کےلئے سول افسروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا تو کیا وہ فیصلہ فوج کےلئے قابل قبول ہوگا۔

فوج اپنے اندرونی معاملات کے بارے میں حد درجہ حساس ہے۔ وہ ان میں سول انتظام کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز شخص کی مداخلت بھی قبول نہیں کرتی۔ اس اصول کا احترام کروانے کےلئے ضروری تھا کہ وہ بھی ملک کے وزیراعظم کے خلاف فریق بننے سے معذرت کر لیتی۔ تب ہی اداروں کی خود مختاری اور دیانتداری کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ الزامات عائد کرنے، بداعتمادی کا اظہار کرکے اور امور مملکت کے دو اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لانے سے حالات میں سدھار کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 650 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali