انصاف کے پلڑے میں ادب کا بوجھ


گزشتہ دنوں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خاندان کے خلاف ایک آئینی مقدمہ میں دو کے مقابلہ میں تین کی اکژیت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مقدمہ میں نا مکمل  شہادتوں کی وجہہ سے مزید تحقیقات کی ضرورت  ہے ۔اس لیے ایک تفتیشی کمیٹی بنائی جائے جو سپریم کورٹ کی زیرِ نگرانی کام کرے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکا کہ کسی کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ اس فیصلہ میں اختلافی رائے لکھنے والے منصفوں میں خود عدالت کی اس بنچ کے سربراہ  جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی شامل تھے۔

عدالت کے یہ تسلیم کرنے کے باجود کہ شہادتیں نا کافی ہیں، مقدمہ کے فیصلہ کا افتتاحی جملہ کسی بھی معصوم یا ملزم کا منہ کالا کرنے کے لیئے کافی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ محترم منصف نے اس فیصلہ کو لکھتے وقت خامہ کو مہمیز دی، تو وہ عالمِ ادب کی حدود پھلانگتا ہوا دنیا کے بدترین مجرموں کی زندگی پر مبنی بننے والی فلم ’گاڈ  فادر‘‘  Godfather  کے پاس جا کر رکا، اور  وہ جملہ رقم کیا کہ جس کو پڑھتے ہی یو ں لگے کہ اس مقدمہ میں کسی کو نہ صرف مجرم بلکہ بد ترین مجرم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلہ کے افتتاحی اقتباس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہو سکتا ہے، ’’ سمجھ میں نہ آنے والی کسی بھی بڑی کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ اس کے پس منظر میں ایسا جرم مضمر ہوتا ہے جس کی کبھی پکڑ نہ ہو سکے ، کیونکہ یہ جرم کمال ِ مہارت سے انجام دیا گیا ہوتا ہے۔‘‘ محترم منصف نے یہ بھی سمجھایا کہ یہ جملہ اس فلم میں ایک نہایت اہم فرانسیسی مصنف ’بالزاک‘ سے مستعار لیا گیا تھا۔

ممکن ہے کہ فاضل منصف نے ’بالزاک ‘ کا نام اس لئے ڈال دیا ہوکہ اس سے فیصلے کے وقار میں اضافہ ہو سکے ۔ لیکن حق  تو یہ ہے کہ ایک نہایت اہم مقدمہ میں اس جملہ کی شمولیت ایک ایسے  دانستہ یا نادانستہ عدالتی تعصب کی علامت ہے کہ جس میں مدعا علیہ کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی نیت پوشیدہ نظر آتی ہے۔اور یوں انصاف کے ترازو میں ادب کا بوجھ، اس طرح،  ڈال کر نا انصافی کی گئی ہے۔  ماہرینِ قانون کی رائے کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن قانون اور آئین کے طالب ِ علم کی حیثیت میں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اگر اس فیصلے میں شامل اس ایک جملہ کے خلاف اپیل کی جائے تو دنیا کی کئی منصفانہ عدالتیں مجموعی فیصلہ کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس افتتاحی اقتباس کو اس فیصلے سے خارج کرنے کا حکم دیں گی۔

دنیا کی اہم عدالتوں کے اہم مقدمات میں ادبی حوالے دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اب سے چند سال پہلے امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ سو سالوں پر محیط بیس لاکھ وفاقی مقدموں کے تقریباًپانچ سو فیصلوں میں افسانوی ادب کے حوالے ملتے ہیں جن میں سے تقریباً نصف ایسے ہیں جو فیصلے کے قاری کے جذبات کو ابھاریں۔ یہ حوالے عموماً انصاف کی فراہمی میں تاخیر، عدلیہ کے کردار،  اور قانونی اصطلاحات کی وضاحت کے بارے میں ہیں۔ لیکن کوئی بھی ادبی حوالہ کسی فریق کی حمایت یا اس سے ہمدردی کے لیئے استعمال نہیں کیا گیا۔

امریکہ کی اعلیٰ عدالتوں میں جن اہم ادبی مصنفین کے حوالہ دیے گئے ہیں ان میں جارج اورویل(اکسٹھ بار)، شیکسپیئر( پینتیس بار)، کافکا (چونتیس بار)، ملٹن ( بیس بار)، اور ہومر، چوسر، اور اوسکر وائلڈ(چودہ بار)، سرِ فہرست ہیں۔  امریکی سپریم کورٹ کے حال ہی میں انتقال پانے والے جسٹس اسکالیا، اپنے فیصلوں میں ادبی حوالوں کے لیے سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اہم مقدمات میں تقریباً  آٹھ سو آرا ، تحریر کیں، اور چند مقدموں میں پندرہ بڑے ادیبوں کے انتالیس حوالے دیئے۔

موقر جریدے ، اکنامسٹ ،  Economist  نے مقدموں میں ادبی حوالوں کی ضمن میں شیکسپیئر کا خصوصی ذکر کیا ہے۔  یہ حوالے عام طور پر وکلا اور ماہرینِ قانون کے استعمال کردہ ہیں۔  اس جریدے کے مطابق ادبی حوالوں میں شیکسپیئر سرِ فہرست ہے اور اس کے بعد جورج اورویل  کا نمبر آتا ہے۔  جریدہ لکھتا  ہے کہ شایدشیکسپیئر  ماہرینِ قانوں میں یو ںمقبول ہے کہ اس کی تحریر میں قانون کا ذکر دیگر پیشوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔ (بعضوں کا خیال ہے کہ قانون کے بارے میں اس کا علم اتنامفصّل نظر آتا ہے کہ شاید اصلی شیکسپیئر کوئی وکیل ہی ہو)۔

اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جو مصنفین اپنے فیصلوں میں یا اپنی آرا ،  میں ادبی حوالے دیتے ہیں ان کا مطالعہ بہت وسیع ہوتا ہے ، اور وہ وسیع النظرہوتے ہیں، جس سے ان کے فیصلہ میں گہرائی کے ساتھ ساتھ توازن بھی قائم ہوتا ہے۔ لیکن تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ ایسے ماہرینِ قانون انصاف کے پلڑے میں توازن قائم رکھنے کے بارے میں پوری دیانت داری سے کام لیتے ہیں۔

پناما گیٹ کے فیصلہ میں انصاف کے ایک پلڑے میں ادب کاوزن اس طرح ڈالا گیا ہے کہ پلڑا ایک فریق کے خلاف جھکا نظر آتا ہے۔ یہاں دیا گیا ادبی حوالہ اس لیئے تو دلچسپ ہے کہ ’بالزاک‘ کا نام  اب سے پہلے شاید زیادہ، یا کبھی استعمال نہیں ہوا۔ اس فیصلے میں بالزاک  بالواسطہ ’گاڈ فادر‘ کے کندھے پر سوار ہو کر پہنچتادکھائی دیتا ہے۔

 سولہویں صدی سے  انصاف کی دیوی کی آنکھوں  پر بندھی پٹی  توازن اور انصاف کی علامت اور ضامن ہے۔ انصاف کی دیوی کی   آنکھوں پر بندھی پٹی بعض اوقات منصفوں کو اندھیاروں میں بھی بھٹکاسکتی ہے۔  پناما گیٹ کے فیصلے میں مافیا کے مجرموں کے سیا ہ کرتوتوں کا حوالہ  دیکھ کر ایک ستم ظریف نے کیا خوب کہا ہے کہ:

‘منصف کو اندھیرے میں بڑی دُور کی سوجھی’


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔