سعودی شاہی خاندان میں پھوٹ: کیا شاہ سلمان اپنے تخت کو بچا پائیں گے؟


 ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی حکمران شاہ سلیمان نے سول سروسز کے وزیر خالد العراج پر بے بنیاد الزامات لگا کر اسے برطرف کر دیا ہے۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے اس اقدام کو سیاسی مخالفت کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ شاہ سلمان کی جانب سے سول سروسز کے وزیر پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور اختیارات سے تجاوز جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ برطرف وزیر نے شاہ سلمان کی جانب سے لگائے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والے اقدام کو بے انصافی اور ظلم قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات میں سے کوئی ایک الزام بھی ثابت نہیں ہے اور مجھے برطرف کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت برائے ڈیفنس فورس کے ڈائریکٹر ملٹری آرڈر کرنل فلاح الجعد کا کہنا ہے کہ سول سروسز کے وزیر پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لئے انہیں برطرف کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ان کو حتمی سزا دی جائے گی۔

مزید برآں سعودی شاہ سلیمان نے امریکہ مین سعودی سفیر کو بھی عہدے سے برطرف کر کے اپنے بیٹے کو یہ منصب سونپ دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور شاہ سلمان کی حکومت غیر مستحکم ہو رہی ہے۔

شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پرنس عبد اللہ بن فیصل بن ترکی کی امریکہ میں اپنے عہدے سے برطرفی سے ثابت ہوتا ہے کہ شاہ سلمان کو خاندان کے افراد پر بھروسہ نہیں رہا اور وہ تمام اہم عہدوں پر اپنے بیٹوں اور قریبی قرابت داروں کو تعینات کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔