لوہے کا کمر بند (2)


سوداگر کی بیوی بولی​

“بس، بس میں سمجھ گئی تم کیا کہنا چاہتے ہو لیکن آئندہ ایسی بات زبان پر کبھی مت لانا۔ سمجھ لو میں اپنے شوہر کی پاک دامن بیوی ہوں۔ اس کے علاوہ میں کسی بھی دوسرے کا خیال اپنے دل میں نہیں لاسکتی لیکن تمہارے جذبات کی میں اس حد تک ضرور قدر کروں گی کہ تم کبھی کبھی یہاں آ کر مجھے اپنے گیت سنا جایا کرو کیونکہ اس سے تمہارے جذبات کو تسکین حاصل ہو گی۔ ایسی تسکین یقیناً مجھے بھی حاصل ہو گی کیونکہ تمہارے گانے کی وجہ سے میرے دل میں میرے شوہر کی یاد تازہ رہے گی۔ جب میرا شوہر واپس آ جائے گا تو اسے یہ معلوم ہو گا کہ اس کی غیر حاضری میں تم نے اپنی موسیقی کے ذریعے میرے دل میں اس کی محبت کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے تو وہ بہت خوش ہو گا۔ بہت ممکن ہے اس خدمت کے عوض وہ تمہیں انعامات و کرامات سے بھی نوازے۔”​

سوداگر کے ملازم جو ان کی باتیں پردوں کے پیچھے سے سن رہے تھے۔ اب پوری طرح مطمئن ہو گئے کہ ان کی مالکن اپنے شوہر کی محبت میں مکمل طور پر سرشار ہے۔ اس سے بے وفائی کی توقع رکھنا اب بے کار ہو گا۔ چنانچہ جب مغنی نے سوداگر کی بیوی کی پیش کش قبول کر لی تو پھر اس کے آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائی گئی۔ مغنی قریب قریب روز ہی آنے لگا اور اب وہ بڑی آزادی سے سوداگر کی بیوی سے تنہائی میں بھی مل لیتا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے ملتے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا لیکن دونوں نے ابھی تک ایک دوسرے کو نہیں چھوا تھا۔ مغنی اسی غم میں دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس کے چہرے کی تازگی رخصت ہونے لگی۔ لگتا تھا اسے رات کو کبھی نیند نہیں آتی ہے۔​

سوداگر کی بیوی یہ دیکھ کر فکر مند رہتی تھی لیکن وہ مغنی کو ابھی تک اپنے سامنے صاف اظہار محبت کرنے کی اجازت نہیں دے سکی تھی۔ وہ جانتی تھی آگے بڑھنے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ جب مغنی کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ اس کے جسم پر پہنے ہوئے بھاری ریشمی لبادے کے نیچے اس کی کمر کے نچلے حصے پر لوہے کا مضبوط کمر بند لگا ہوا ہے تو وہ کتنا مایوس ہو گا! ہو سکتا ہے اس کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہو جائے اور وہ خود کشی کر بیٹھے اسی لئے وہ اسے ابھی تک اپنے جسم سے دور ہی رکھتی آ رہی تھی۔​

ایک دن جب مغنی اس کے ساتھ حسب معمول تنہا تھا اور اس کے سامنے اپنے عشق کا اظہار کر رہا تھا تو اچانک جذبات کے ہاتھوں بے قابو ہو گیا اور اس کے قدموں سے لپٹ کر زار زار رونے لگا۔ کہنے لگا۔​

“اب میرے لئے زندہ رہنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ میں آپ کو اس قید خانے سے نکال کر لے جانے کے لئے تیار ہوں۔ بس آپ کے اشارے کی دیر ہے۔ اگر آپ نے انکار کیا تو ہو سکتا ہے میں زبردستی اٹھا لے جانے کی بھی گستاخی کر بیٹھوں۔”​

اسی بارے میں: ۔  چچا تارڑ کے نام پہلا خط

اغوا کئے جانے کا سن کر سوداگر کی بیوی اپنے حسین ترین خوابوں میں کھو گئی۔ اس قسم کے خواب اس نے کئی مرتبہ سوتے جاگتے ہوئے دیکھے تھے۔ اس نے سمجھ لیا کہ اس کے خوابوں کے حقیقت میں بدل جانے کی گھڑی آ پہنچی ہے لیکن اسے فوراً ہی لوہے کے کمر بند کا خیال آگیا۔ اس کمر بند سے چھٹکارا پانا تو کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔​

مغنی کو جب اپنی درخواست کا کوئی جواب نہ ملا تو وہ اور بھی غمگین ہو گیا۔ بے خود سا ہو کر ایک نئی غزل گانے پر مجبور ہو گیا۔​

زندگی رنج و غم کا نام سہی

مل گئی ہے تو اسے پیار کرو​

موسیقی بڑوں بڑوں کی کمزوری ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو یہ اچانک ایسا سیلاب بن جاتی ہے جس کے سامنے کئی ثابت قدم بھی ڈگمگا کر بہہ جاتے ہیں۔ مغنی سمجھ گیا، اپنی محبوبہ کو وہ اب اپنے فن سے ہی شکست دے سکے گا اس لئے اس نے پوری طرح اپنے اندر ڈوب کر ایک لے نکالی۔​

ہم سے خوئے وفا نہ چھوٹے گی

تم کوئی جبر اختیار کرو

گاتے گاتے اسے کافی دیر ہو گئی۔ وہ بے حال ہو گیا۔ سوداگر کی بیوی کی بھی یہی حالت تھی۔ آخر اس نے مغنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔​

میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔ زندگی بھر کرتی رہوں گی لیکن میں کسی وجہ سے مجبور بھی ہوں، تم نہیں جانتے اس گھر کو چھوڑ کر بھی میں اپنا آپ تمہارے حوالے نہیں کر سکوں گی۔”​

اس کے بعد اس نے مغنی کو لوہے کے کمر بند والی بات بھی بتا دی جس کی چابی اس کا شوہر اپنے ساتھ لے گیا ہوا تھا۔ یہ سن کر مغنی ہکا بکا سا رہ گیا اسے یقین نہ آیا جو کچھ اس کی محبوبہ نے کہا تھا۔ اس نے لباس کے اوپر سے نیچے کے کمر بند کو چھوا تب ہی اسے یقین ہو سکا لیکن کئی لمحوں تک وہ کھڑا سوچتا رہا۔ اس کے چہرے پر کئی لہریں آئیں اور گئیں، آخر اس نے زبان اس طرح کھولی۔ “میں اس کمربند کو کاٹ کر پھینک دوں گا۔ ا بھی بازار جا کر اتنے تیز اوزار لے کر آتا ہوں جو پلک جھپکتے میں اس غیر انسانی کمر بند کو کاٹ دیں گے۔”​

یہ سن کر سوداگر کی بیوی کو غصہ آگیا، بولی۔​

“یہ کہتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔ کیا تمہارے خیال میں جب تم لوہے کے کمربند کو کاٹ رہے ہو گے تو میں تمہارے سامنے کپڑے اتار کر کھڑی رہوں گی۔”​

مغنی نے اپنی غلطی کے لئے فوراً معذرت چاہی لیکن ساتھ ہی اس نے ایک اور تجویز بھی پیش کر دی۔ یہ کام میں اپنے ایک لوہار دوست کے بھی سپرد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دوں گا تاکہ وہ تمہاری حسین کمر پر نگاہ نہ ڈال سکے لیکن وہ اپنے کام میں اتنا ماہر ہے کہ آنکھیں بند ہونے پر بھی وہ اپنا کام حسبِ خواہش انجام دے لے گا۔”​

اسی بارے میں: ۔  دیوتا کی یاد میں

سوداگر کی بیوی نے یہ بات بھی منظور نہ کی اور مغنی سے کہا۔ “جاؤ او مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔”​

مغنی کو وہاں سے جاتے جاتے ایک ایک اور بات کا خیال آیا چنانچہ اس نے پلٹ کر کہا، “حسین عورتوں کا سب سے بڑا دشمن ان کا موٹاپا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنا وزن کم کرنا شروع کر دیں تو آپ کے جسم کی کشش بھی برقرار رہے گی اور اس کمربند سے بھی نجات حاصل ہو جائے گی۔”​

سوداگر کی بیوی اچھّی اچھّی مرغن غذاؤں کی بڑی دلدادہ تھی۔ اس قسم کی تجویز کو وہ کسی صورت میں قبول نہیں کر سکتی تھی۔ چمک کر بولی۔​

“اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہاری خاطر میں خود کو بھوکا ماروں! کھانا پینا چھوڑ دوں! لیکن بھوکا پیاسا رہنے سے بیمار پڑ جانے کا بھی تو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پھر بھلا تم میری طرف نظر اٹھا کر بھی کیوں دیکھو گے۔ جاؤ جاؤ تمہاری ایک بھی تجویز معقول نہیں ہے۔”​

مغنی کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ بہت افسردہ ہو کر اب وہ وہاں سے جانے والا تھا کہ پلٹ کر پھر آیا اور بولا۔​

“خدا کے لئے میری ایک تجویز پر غور ضرور فرما لیجئے۔ کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دے سکتی ہیں کہ میں آپ کے سامنے مسلسل کئی روز تک گاتا رہوں۔؟ مجھے یقین ہے اپنی موسیقی کی بدولت میں آپ کے بدن میں ایک ایسی سنسنی پیدا کر دینے میں کامیاب ہو جاؤں گا جس سے آپ کا کمر بند خود بخود کمر سے نیچے پھسل جائے گا۔ انتہائی ہیجان کے کسی بھی لمحے میں ایسا ہو جانا ممکن ہے۔ آپ کو پتہ بھی اس وقت لگے گا جب یہ کمر بند سرک کر آ پ کے قدموں میں آگرے گا۔”​

سوداگر کی بیوی نے اس کی نئی تجویز کو بھی ہنسی میں اڑا دیا۔ کہنے لگی۔​

“تم پہلے بھی تو کئی بار گانا سنا چکے ہو۔ کبھی ایسا ہو سکا؟ میں جانتی ہوں تم مجھے صرف افسردہ بنا سکتے ہو۔ کسی اور بات میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔”​

اب وہ وہاں سے بالکل ہی مایوس ہو کر چل دیا۔ پھر کئی مہینوں تک اس نے پلٹ کر سوداگر کی بیوی کو اپنی صورت نہ دکھائی لیکن سوداگر کی بیوی کو اپنے ملازموں کے ذریعے اس کے بارے میں خبریں ملتی رہیں کہ وہ گلی کوچوں میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے۔ اب اسے اپنے تن بدن کا ہوش بھی نہیں رہتا ہے۔ کسی کی فرمائش پر گانا بھی نہیں گاتا ہے۔ بس ایک خاموشی اس نے اختیار کر رکھی ہے۔​

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رام لعل کی دیگر تحریریں
رام لعل کی دیگر تحریریں