لوہے کا کمر بند (3)


لوگوں میں یہ بھی مشہور ہو گیا ہے کہ وہ سوداگر کی بیوی کے عشق میں مبتلا ہے اور وہ دن دور نہیں جب وہ بالکل پاگل ہو جائے گا۔ آخری بات سوداگر کی بیوی کے لئے خاصی پریشان کن تھی کیونکہ اس سے اس کی بدنامی ہو رہی تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی اس کی محبت میں گرفتار ہونے لگی۔ اسے احساس ہونے لگا کہ محبت کے میدان میں مغنی زیادہ ثابت قدم نکلا اور وہی اس سے سچا عشق کر رہا ہے۔ اگر مرگیا تو لوگ ہمیشہ اس کے چرچے کیا کریں گے لیکن اسے کبھی اچھے نام سے یاد نہیں کیا جائے گا کیونکہ مغنی کی موت کا سبب وہی بنے گی۔ اس معاملے میں تھوڑی سی قربانی وہ بھی دے سکے تو اس کا نام بھی امر ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ سوچ کر سوداگر کی بیوی نے فاقے کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ شروع شروع میں تو اس نے کھانے پینے کی مقدار میں کمی کی پھر غذائیت سے بھرپور اور لذیذ چیزیں ترک کر دیں جس سے وہ جلد ہی پتلی ہو گئی۔ پر کشش ہو گئی۔ آئینے کے سامنے جا کر وہ اپنے آپ کو دیکھتی تو خوشی سے پھولی نہ سماتی۔ کبھی کبھی اس کا جی وہ ساری میٹھی اور لذیذ چیزیں کھانے کو مچل اٹھتا جو اسے ہمیشہ ہمیشہ مرغوب رہ چکی تھی۔ وہ چیزیں اس کے خوابوں میں بھی آتی تھیں۔​

ایک روز وہ اچانک اچھے اچھے ذائقوں کو یاد کر کے روپڑی۔ اس نے اسی دم اپنے محبوب کا خیال دل سے نکال پھینکا اور اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ وہ اس کے سامنے بہترین قسم کے سارے کھانے فوراً حاضر کریں۔ پہلے تو نوکر بہت حیران ہوئے، کیونکہ اس نے ایک عرصے سے عمدہ قسم کے کھانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا لیکن وہ فوراً ہی دودھ، گھی، شہد اور چینی وغیرہ سے بنائے ہوئے قسم قسم کے لذیذ ترین کھانے لے کر حاضر ہو گئے جنہیں دیکھتے ہی وہ ان پر ٹوٹ سی پڑی۔ کھاتے ہوئے وہ دل ہی میں یہ عہد بھی کرتی گئی کہ اب وہ کبھی بھوکا رہنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ زندگی کی بہترین مسرت ایسی ہی لذیذ غذاؤں کے کھانے میں ہے۔​

کچھ ہی دنوں میں اس کے جسم کے قوسیں پھر سے بھر گئیں۔ جن پر سے خوراک میں کمی کر دینے کی وجہ سے گوشت غائب ہونے لگ گیا تھا اور وہ اس بات کی قائل ہو گئی کہ کسی سے عشق کرنے کے لئے بھوکا رہنا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ مغنی بھی اب شہر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بھی تھا یا نہیں!​

ایک روز اچانک وہی مغنی پھر اس کے دروازے پر حاضر ہو گیا۔ اس نے ملاقات کی اجازت چاہی۔ سوداگر کی بیوی نے اسے ایک مدت سے نہیں دیکھا تھا۔ اس نے مغنی کو فوراً اندر بلوایا۔ مغنی نے آتے ہی اس کے سامنے ایک نئی تجویز پیش کر دی۔​

“میں آپ کی خاطر دور دراز کے علاقوں میں پھرتا رہا ہوں۔ میں ایک ایسی جڑی بوٹی کی تلاش میں تھا۔ جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ اس کے استعمال کے ساتھ لذیذ کھانوں سے محروم نہیں ہونا پڑتا لیکن اس سے بدن کی فالتو چربی بھی کم ہوتی جاتی ہے۔”​

سوداگر کی بیوی اس وقت بڑے اچھے موڈ میں تھی۔ اپنے سامنے شکر چڑھے باداموں کی ایک پلیٹ رکھے بیٹھی تھی۔ وہ ایک ایک بادام اٹھا کر منہ میں ڈالتی اور دانتوں کے درمیان آہستہ آہستہ پیستی اور مسکراتی جاتی تھی۔​

“اچھا تو پھر تم نے وہ جڑی بوٹی حاصل کر لی؟”​

مغنی نے جواب دیا۔​

“اس جڑی بوٹی کا صحیح پتہ ایک بڑھیا کو تھا۔ اسے بھی میں نے دور افتادہ ایک گاؤں سے ڈھونڈ نکالا۔ وہاں وہ جادو گرنی کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے بے شمار امیر و کبیر گھرانوں کی ایسی بہو بیٹیوں کا بڑی کامیابی سے علاج کیا ہے جو اچھی خوراکیں کھانے کی وجہ سے بہت فربہ ہو چکی تھیں اور اس طرح اپنی دل کشی سے محروم ہو جانے پر افسردہ بھی رہتی تھیں۔ اس بڑھیا کی دی ہوئی دوا سے انہیں اپنے بدن کی خوب صورتی پھر سے واپس مل چکی ہے اور ان کی صحت پر بھی برا اثر نہیں پڑا ہے۔”​

یہ کہہ کر مغنی نے جیب میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکالی۔ سوداگر کی بیوی نے خوش ہو کر وہ ڈبیہ لے لی اور تھوڑی سی دوا اس نے اسی وقت چاٹ لی۔​

اس کے بعد وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اسے استعمال کرنے لگی۔ دوا نے واقعی اپنا اثر دکھایا۔ وہ کچھ ہی روز میں دبلی ہو گئی۔ اس کے بدن میں جگہ جگہ بھرا ہوا پلپلا گوشت غائب ہو گیا۔​

ایک دن وہ مغنی کے ساتھ اپنے مکان کے پائیں باغ میں تالاب کے کنارے کنارے ٹہل رہی تھی کہ اچانک اس کی کمر کے ساتھ چپا ہوا لوہے کا کمر بند سرک کر نیچے گر پڑا۔ پاؤں کے پاس گرے ہوئے کمر بند کو اس نے حیرت سے دیکھا پھر مسرت کی ایک عجیب سے جوش میں مبتلا ہو کراس نے کمر بند کو زور سے ٹھوکر ماری۔ کمر بند ایک پیڑ کے ساتھ جا ٹکرایا اور اس نے خود کو مغنی کے حوالے کر دیا لیکن اس وقت کسی نے دروازے پر زنجیر کھٹکھٹائی۔ اس کے ملازم کسی غیر ملکی شہری کی آمد کی خبر لے کر آئے تھے۔اس نے گھبرا کر اس آدمی کو بلوا بھیجا۔ پردے کھنچوا دیئے گئے۔ اس نے پردے کے عقب سے اس غیر ملکی شخص کو سر جھکائے کھڑے ہوئے دیکھا جو اپنے ساتھ کئی صندوق بھی لایا تھا۔ اس نے کہا۔​

“یہ سارے صندوق ہیروں اور جواہرات سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہیں آپ کی خدمت میں پہنچا دینے کا حکم آپ کے شوہر نے ہی مجھے دیا تھا۔ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ ایک زہریلے سانپ نے انہیں ڈس لیا تھا۔ آپ کا نام مرتے دم تک ان کی زبان پر رہا۔ مرنے سے پہلے انہوں نے ایک اور چیز بھی آپ تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ایک چابی ہے۔”​

سوداگر کی بیوی نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر وہ چابی لے لی۔ یہ وہی چابی تھی جس کے ساتھ ایک پرچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ جس پر لکھا تھا:​

“میری پیاری بیوی!

اب تم آزاد ہو

خدا حافظ!”​

وہ چابی سینے کے ساتھ لگا کر زور زور سے رونے لگی۔ مغنی نے جو اس خبر کو سن کر بہت خوش تھا، اسے سمجھایا۔​

“اب تو آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ کوئی خطرہ نہیں رہ گیا۔ اب ہم شادی کر کے ہمیشہ ساتھ رہ سکتے ہیں۔​

لیکن اس کی بات سن کر سوداگر کی بیوی کو اچانک غصہ آگیا۔ چلا کر بولی۔​

“نکل جاؤ یہاں سے۔ اب کبھی مت آنا۔ میں تمہاری صورت تک دیکھنا نہیں چاہتی۔ میں اپنے پیارے شوہر کو کبھی بھلا نہ سکو ں گی اور بقیہ عمر اسی کی یاد میں گزار دوں گی۔” یہ میرا ایک مقدس فریضہ ہو گا۔”​

یہ کہہ کر روتے روتے اس نے لوہے کے کمربند کو پھر سے اٹھایا جسے تھوڑی دیر پہلے اس نے ٹھوکر مار کر دور پھینک دیا تھا۔ اس میں چابی لگا کر اسے کھولا اور اپنی کمر کے گرد پہلے سے بھی زیادہ سختی سے کس لیا اور چابی تالاب کے اندر پھینک دی۔​

مغنی دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چل دیا۔ اس حسینہ کو حاصل کرنے کی اب اس کے دل میں کوئی امید نہیں رہ گئی تھی۔ وہ کسی دور دراز کے شہر میں جا کر رہنے لگا اور وہاں اس نے کئی سال گزار دئے لیکن محبوبہ کی یاد اس کے دل سے کبھی نہ نکل سکی۔ وہ ابھی تک اس کے دل میں بستی تھی اور اسے ہمیشہ بے قرار رکھتی تھی۔​

ایک روز اس کا ایک شاگرد جو اسی سوداگر کی بیوی کے شہر میں رہتا تھا، اس سے ملنے کے لئے گیا تو مغنی نے سب سے پہلے اپنی محبوبہ کے بارے میں سوال کیا۔​

“تمہیں سوداگر کی بیوی کا کچھ حال معلوم ہے؟”​

شاگرد نے کہا۔​

“استاد کیا عرض کروں! وہ تو بڑی عجیب و غریب قسم کی عورت ہے۔ اس کے متعلق کئی قصے مشہور ہیں۔ میں نے تو اسے نہیں دیکھا ہے لیکن جن لوگوں نے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے بہت زیادہ موٹی ہو گئی ہے اور اس کی کمر میں کسی وجہ سے بہت شدید درد رہتا ہے لیکن وہ اس کا علاج بھی نہیں کراتی۔ اگرچہ درد کی شدت سے ہمیشہ تڑپا کرتی ہے۔ لوگ یہاں تک بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی وہ تالاب کے کنارے جا بیٹھتی ہے۔ اس نے کئی بار تالاب کا سارا پانی خارج کر لیا ہے اور تہہ میں جمی ہوئی مٹی کے ذرے ذرے کو اپنی نگرانی میں ہٹوا کر دیکھا ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ کس چیز کی تلاش میں ہے۔ شاید کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہو گی جو تالاب میں گر گئی تھی اور اب اسے نہیں مل رہی ہے!”​

اس کے شاگرد نے کہا اور مغنی کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ ہنسے یا روئے۔​

​(مکمل)

اس سیریز کے دیگر حصےلوہے کا کمر بند (2)
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
رام لعل کی دیگر تحریریں
رام لعل کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “لوہے کا کمر بند (3)

Comments are closed.