بنوں کے یاغستانی اور نوشکی کا احمدی پیش امام


)میرے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری، کی خود نوشت سوانح ”سفری زندگی“ کے دو اقتباسات ہم سب پر شائع ہو چکے ہیں۔ اس وقت اس کتاب کا ایک اور اقتباس پیش خدمت ہے۔(

***   ***

سنہ 1917ءکا اخیر آ گیا تھا او ر میرے لیے شروع بچپن سے ہر سال کا اخیر کوئی نہ کوئی تبدیلی کا نیا پیغام لایا کرتا ہے۔ لہٰذا مجھے بطور سب اوورسئیر سہارن پور ریلوے ریکروٹنگ آفس سے چٹھی آ گئی۔ آفر آنے پرمیں سہارنپور چلا گیا۔ ٹرائی وغیرہ لینے کے بعد ریکروٹنگ آفیسر نے میری تنخواہ 105 روپے (70+35) روپے مقرر کی؛ تنخواہ جمع الاؤنس جو کہ تنخواہ میں شامل کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں کچھ روز کھنالم پورہ میں رہنے کے بعد مجھے ایک لیبر کور کے ساتھ بطور سب اوورسئیر لگایا گیا۔ اس لیبر کور میں 500 مزدور مع جمعدار اور ایک مستری، جس کا نام گنگا رام اور ایک سکھ حوالدار ہیرا سنگھ، جو کہ فوج سے ریٹائرڈ تھا، ایک سیکنڈ لیفٹننٹ کے ماتحت کر دیے گئے۔جس لیبر کور پر مجھے لگایا گیا تھا اس میں اور کوئی مسلمان نہیں تھا۔

بنوں کو روانگی

ہماری لیبر کور بڑے جاہ و جلال سے ایک سپیشل ٹرین کے ذریعے سہارن پور سے روانہ ہوئی۔ ہم لوگوں نے وزیرستان کے قریب بنوں کی طرف جانا تھا۔ جب ہماری ٹرین انبالہ چھاو ¿نی پہنچی تو وہاں پر ایک دوسری ٹرین میں چند زخمی سپاہی فرنٹیرکی طرف سے آ رہے تھے۔ وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ سرکار جدھر چاہے بھیج دے لیکن اس سرحد کی جانب نہ بھیجے کیونکہ وہاں کے پٹھان لوگ بہت سخت اور بری طرح مارتے ہیں۔ پس ہمارے جن آدمیوں نے ا ن کی گفتگو سنی، ان کو تو فکر لاحق ہو گئی۔ لیکن کیا کر سکتے تھے؛ سرکار کا حکم اور پیٹ پالنے کی خواہش دونوں مجبور کر رہے تھے۔ ہم لوگ دوسرے روز کالاباغ پہنچے۔ وہاں سے بذریعہ فیری دریائے اٹک پار کرکے کیمپ لگا دیا۔ اس وقت ہماری سرکار کی کچھ گڑبڑ سرحدی لوگوں کے ساتھ تھی۔ ویسے اس علاقے میںلڑائی کا شغل تو ہوتا ہی رہتا ہے کیونکہ یہ علاقہ برائے نام سرکار کے ماتحت ہے۔دوسرا علاقہ، جس کو یاغستان بولتے ہیں اور جو وزیرستان کے ساتھ ملحق ہے، بالکل آزاد ہے۔ وہ لوگ کسی کے ماتحت نہیں۔ نہ وہ لوگ افغانستان کے ماتحت ہیں اور نہ ہی گورنمنٹ انگلشیہ کے زیر سایہ ہیں۔

پس کیمپ وغیرہ ہم نے سر راہ لگا لیا۔ ہماری اس لیبر کور نے آگے جانا تھا، یعنی افغانستان کی سرحد کی طرف، لیکن رستے میں ریلوے لائن، جو کہ ڈھائی فٹ گیج کی تھی، ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس لیے ہم کو وہ ریلوے لائن مرمت کرنے کے لیے چند روزٹھہرنا پڑا۔ ایک رات ایسا ہوا کہ آفیسر کمانڈنگ 250 مزدوروں کے ساتھ کام پر گیا ہوا تھا۔ دن کو میں نے 250مزدوروں کے ساتھ جانا تھا۔ اس رات ہمار ا افسر گیا ہوا تھا۔ پاخانہ کی ٹٹیاں کیمپ سے تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلہ پر بنائی ہوئی تھیں جیسا کہ ملٹری کا قاعدہ ہے۔ اس رات کور کا آدمی رات تقریباً آٹھ بجے پاخانہ گیا۔ اس کو کہیں پٹھان نظر آ گیا اور ڈر کے مارے ہو ہو کرنے لگا۔ اس کی آواز پر دوسرے قلی، جو کیمپ میں تھے، سب واویلا کرنے لگ گئے۔ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ مجھے نمازتو بھول گئی۔ میں سیدھا بھاگا ہوا ملٹری کیمپ گیا جو کہ ہمارے نزدیک ہی لگا ہوا تھا۔ وہاں کے افسر سے شکایت کی کہ ہمارے کیمپ میں چور آ گئے ہیں۔ انھوں نے تحقیقات اور سوال میرے اوپر کرنا شروع کر دیے تو میں گھبرا گیا۔ ابھی تحقیقات اور سوالوں کا سلسلہ شروع ہی تھا کہ میں نظر بچا کر بھاگ آیا کیونکہ ملٹری افسروں کے سوال بڑے بے ڈھنگے اور الٹے تھے۔ پس وہ مجھے پکارتے اور ڈھونڈتے رہے کہ لیبر کور کا اوورسئیر کہاں گیا۔ میں بھاگ کر اپنے کیمپ میں چلاآیا۔ان کے سوالات اس طرح کے تھے: تمہارا افسر کہاں ہے؟ تم افسر کے بغیر کیوں آیا؟ یہاں کوئی خطرہ نہیں، تم خواہ مخواہ خلل ڈالتے ہو۔ بس ان ایسے ویسے سوالوں سے میں لاجواب ہو گیا اور بھاگنے میں ہی خیریت سمجھی۔

خیر اس قصہ نے بہت طول پکڑا۔ اب اس واقعہ کو ہم نے سچا کرنے کے لیے ایک پٹھان کو ،جو کہ فصل بونے کے لیے اپنے کھیت کو جا رہا تھا، چار بجے صبح پکڑ کر باندھ لیا اور پولیس کو رپورٹ کر دی۔ پولیس افسر پنجابی مسلمان تھا۔ اس کو اصل قصہ بتلا دیا کہ ہم لوگ ڈرتے ہیں اس لیے ہم کو کچھ سپاہی پہرہ کے لیے ملنے چاہییں تاکہ ہم بے فکر ہو کر سو رہیں۔ پس اس نے سفارش کر دی کہ واقعی لیبر کور پر پہرہ ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس بندوق وغیرہ کچھ نہیں تھی۔تب ہمیں چھ ملٹری کے جوان پہرے کے لیے مل گئے اور ہم لوگوں نے شکر کیا۔ وہاں پر، یعنی کالا باغ میں، چند روز ٹھہر کر ہماری لیبر کور دو سپیشل ٹرینوں میں شام کے وقت بنوں شہر پہنچ گئی۔ کیونکہ ہم لوگوں نے بنوں شہر سے40 میل دور آگے جانا تھااس لیے تنبو وغیرہ لگائے بغیر ریلوے سٹیشن کے قریب کھلی جگہ میں پڑ رہے۔ موسم بھی گرمی کا تھا۔

 اگلے روز ہم اپنا ڈیرہ اٹھا کر چل دیے۔ جوں جوں آگے جاتے تھے پہاڑ اور پٹھان ڈراؤنی شکل کے آتے جاتے تھے۔ دو روز کوچ کے بعد آخر کار ہم نے ایک جگہ، جس کا نام کھجوری پڑاؤ تھا، کیمپ وغیرۃ جا کر لگا لیے۔ ملٹری محکمہ کے ماتحت سڑک کو، جو کہ ٹوچی روڈ کہلاتی تھی، درست کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں تو وہاں پر ایس ڈی او اور اوورسئیر سے کہہ کر پلوں کے کام پر لگ گیا۔ مستری گنگا رام اور ہیرا سنگھ  بلاسٹنگ یعنی پتھروں کو اڑانے کے کام پر لگ گئے۔ ہم لوگوں کو دس پٹھان پہرے کے لیے مل گئے جن کو بدرقے کہتے تھے۔ وہ ہر وقت منکر نکیر کی طرح دائیں بائیں رہتے۔ دو ہمارے آفیسر کمانڈنگ کے ساتھ، اور باقی چھ مزدوروں کے ساتھ۔ ایک روز بڑا زبردست حادثہ ہوا جس سے بہت سے مزدور جل کر زخمی ہو گئے اور مستری گنگا رام اور دو مزدور جان سے گئے ۔ سرنگ کو اڑاتے و قت بارود کی بوری کو آ گ لگ گئی جو کہ پاس ہی پڑی تھی۔ اس واقعہ سے چمار مزدوراور بھی بددل ہو گئے۔ پھر کور کی طرف سے گمنام چٹھیاں A.G. شملہ و G. O. C.کوئٹہ کو بھیجنا شروع کر دیں اور مزدوروں نے کام بند کر دیا۔ ویسے انکار تو نہیں کر سکتے تھے مگر کام کی پروگریس کچھ نہیں دکھاتے تھے جس سے وہاں کے ملٹری افسروں نے کہا کہ ہم کو یہ لیبر کور نہیں چاہیے۔

نوشکی کو روانگی

پورے چالیس روز بعد ہماری کور کو نوشکی ریلوے Extension پر جانے کا حکم ہو گیا، تب ہم لوگوں کی جان میں جان پڑی۔ اس علاقے سے نکل کر ہمارے سب آدمیوں نے شکر کیا اور سکھ کا سانس لیا۔ جب تک میں اس علاقے میں رہا ہمیشہ قرآن شریف اپنی بغل میں حمائل کیے رکھتا تھاجو کہ اس علاقے کے پٹھانوں سے بچنے کے لیے پستول ا ور بندوق سے زیادہ موزوں خیال کیا جاتا تھا۔ پس نوشکی ریلوے سٹیشن پر پانچ سو کی لیبر کور سہارنپور سے اور آ گئی اور اب ایک ہزار مزدور ہو گئے۔ دوسری لیبر کور کے ساتھ کچھ مسلمان اور ہندو مزدور، مستری اور کلرک وغیرہ بھی تھے۔ اب ہمارے کیمپ میں کافی رونق ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے میں نے اپنا کھانا پکانے کے لیے چمار چھوکرے ہی رکھ چھوڑے تھے جو کہ بدستور ایک سال تک ہمارے ساتھ رہے۔ میرا اپنا خیال تھا کہ یہ بھی خدا کے بندے ہیں۔ ان کی پیشانی پر چمار وغیرہ لکھا ہوا تو نہیں ہے۔ لہٰذا انہیں اور ہمیں جو راشن کپڑا ملتا ہے وہی یہ کھاتے اور پہنتے ہیں۔ پھر چمار اور غیر چمار کا کیا سوال۔ یہ ہندو مذہب کا ایک ڈھکوسلا ہے اور ہندو مذہب پر بہت بڑا دھبا ہے۔

ہم نے کوئی دو سو میل ریلوے لائن کی جڑائی کی اور میں نے ایک ہزار آدمی کا خوب بندوبست رکھا۔ اس سے خوش ہو کر میرے افسر کمانڈنگ نے میری تنخواہ 105سے120 روپے کر دی جو کہ ایگریمنٹ کی رو سے مقرر نہیں تھی۔ یہ علاقہ جہاں سے لائن بچھائی گئی برٹش بلوچستان کہلاتا تھا جس کو ابھی تک اصلاحات نہیں ملی ہیں۔ علاقہ بالکل ریگستان، بنجر اور بغیر آب و شجر کے ہے۔ ہماری لیبر کور کو پانی دو سو میل یعنی دالبندین سے جایا کرتا تھا جہاں اس ریلوے کنسٹرکشن کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ نوشکی یعنی بلوچستان میں اس قدر سرد اور خشک ہوا چلتی ہے کہ پانی ٹینکوں سے ٹپکتا ہوا زمین پر گرنے سے پہلے ہی رستے میں جم جاتا تھا ۔ ہم لوگ ڈبل کوٹ اور ڈبل پتلون پہن کر کام پر جایا کرتے تھے لیکن پھر بھی سردی محسوس ہوا کرتی تھی۔جب ریلوے کی جڑائی کا کام جاوہ تک ختم ہو گیا تو ہماری لیبر کور واپس سہارن پور آ گئی۔

مذہبی رواداری کا ایک واقعہ

1918ء میں نوشکی میں عید کا دن آ گیا۔ درحقیقت پردیس میں گھر سے دور اور اپنے عزیز و اقارب سے جدائی میں عید تو بمثل بعید کے ہی ہوتی ہے۔ لیکن خدا کا فرض اور رسول ﷺ کی سنت ہم مسلمانوں کے لیے ہر جگہ اور ہر موقع پر ادا کرنا ضروری ہے۔ اس جگہ کوئی آبادی اور مسجد نہیں تھی۔ ہم جو چار پانچ مسلمان تھے وہ بھی مختلف فرقہ و خیالات کے تھے۔ ایک تو مرزائی بابو مہر الٰہی تھے جو اخیری سے اخیری نبی کے پیروکار تھے۔ دوسرے شیعہ مسٹر مہدی خاں تھے جو گالی گلوچ اور لعنت ملامت کے قائل تھے۔ ایک وہابی مستری مولا بخش صاحب تھے جو سب سے جابر اور سخت گیر تھے۔ چوتھا یہ خاکسار تھا جو سب کا ہم نوا اور معمولی درجہ کا مسلمان تھا۔ اب ہم بطور مسلمان اور پنجابی ہونے کے یکجا تو ہو گئے لیکن جو سوال مشکل اور ٹیڑھا نظر آیا وہ یہ تھا کہ نماز کی امامت کون کرائے۔ اس وقت ہم میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ اور حنائی ریش والے مرزائی صاحب ہی تھے گو ان کا نیا پنجابی نبی بلحاظ ہمارے نبی عربی ﷺ کے ناقابل قبول تھا۔ پھر بھی ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے میں نے استدعا کی کہ آپ ہی بطور پیش امام کے کھڑے ہو جائیے لیکن مہربانی رکھنا کہ آیت قرآن شریف سے ہی پڑھنا؛ کوئی اور مرزا صاحب کی بتائی ہوئی یا ایجاد کردہ مت پڑھنا۔ دوسروں سے التجا کی کہ اپنے عقیدے کے مطابق بے شک ہاتھ لٹکا کر یارفع یدین کرتے پڑھ لینا۔ کیونکہ یہ ایک اللہ میاں کے قواعد ہیں جیسا کہ فوجی محکمہ و پولیس میں ڈرل ہوتی ہے۔ پس ہم لوگوں نے جیسے بھی اس موقع پر ہو سکا وقت پورا کر لیا یعنی نماز کی دو رکعت واجب ادا کر لی اور بعد فراغت اپنے اپنے خیموں میںآ گئے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بہت خوش ہو اہو گا کیونکہ ہم نے اس کے حکم کو اصولی اور عملی طور پر بجا لا کر کل مسلم اخوة کی مثال قائم کر دی ۔ کیا میرے دیگر مسلمان بھائی ایسی کوئی مثال پیش کر سکتے ہیں یا کرنے کے لیے آمادہ ہیں؟ اگر ہیں تو جزاک اللہ اور اگر نہیں تو کس منہ سے مسلمان کہلانے کے حق دار ہیں؟

ایک پٹھان کا عجیب واقعہ

یہاں پر ایک عجیب واقعہ، جو سننے میں آیا، بیان کر دینا بہت ضروری ہے۔ ریلوے کے ایک تھانے دار کے ، جو کہ پٹھان تھا، بھائی کو گورنمنٹ نے کسی پولیٹیکل معاملے میںزیر حراست لے لیا۔ اس تھانے دار نے اپنے افسروں کے ذریعے گورنمنٹ سے استدعا کی کہ بہتر ہو گا کہ اس کے بھائی کو رہا کر دیا جائے لیکن پولیٹیکل ایجنٹ نہ مانا۔ اس تھانے دار نے ایک روز ریلوے کے انگریز اسسٹنٹ انجنیئرکو، جو ریلوے کی ایک گاڑی میں ہی رہتا تھا، رات کے وقت پکڑ کر ایک قافلے کے ساتھ جو کہ اوپر ایران کی طرف جا رہا تھا، باندھ کر زبردستی روانہ کر دیا۔ ادھر ریلوے اور گورنمنٹ کے محکمہ میں اس افسر کے گم ہو جانے کی وجہ سے کھلبلی مچ گئی۔ بعد ازاںجب اصل قصے کا گورنمنٹ کو پتہ چلا تب گورنمنٹ کو اس کے بھائی کو رہا کرنا پڑا اور اس افسر کو واپس لیا۔ پولیس کا ملازم ہوتے ہوئے اس پٹھان تھانے دار نے کیسی دلیری اور سینہ زوری کی جس کی مثال کم دیکھنے میں اور سننے میں آئی ہے اور نہ آئے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔