اسلام آباد میں سجے کتابوں کے میلے


اسلام آباد کا شمار ابھی تک نہ شہروں میں ہوتا ہے نہ دیہات میں۔ نوے کی دہائی تک تو یہاں کوئی ایسا شخص شاذ ہی ملتا تھا جس کا بچپن یہاں گزرا ہو۔ ہفتہ وار تعطیلات ، اور عید کی چھٹیوں کے دوران یہاں سناٹا چھا جاتا تو راولپنڈی سے من چلے ویران سڑکوں پر موٹر سائیکل ایک پہیے پر چلانے کے کرتب دکھانے آتے تھے۔ اب بھی راولپنڈی پاس نہ ہوتا تو اسلام آباد کی رونقیں ایسی نہ ہوتیں ۔ یہ راولپنڈی ہی ہے جس کی بدولت اسلام آباد پاکستان جیسے گنجان آباد ملک کا دارالخلافہ نظر آتا ہے۔

ہر سال یوم جمہوریہ کے دن افواج پاکستان کی سالانہ پریڈ کے لئے بنائے جانے والے پریڈ ایونیو اور شاہراہ دستور پرویز مشرف کے جرنیلی دور میں میڈیا کے ذریعے مقبول ہوئے جب عدلیہ بچاو تحریک کے دوران لوگ جرنیلی حکم سے برطرف کئے جانے والے چیف جسٹس کو روز سپریم کورٹ پہنچانے آ جایا کرتے تھے اور شیر جوان ان کو عدالت کی کرسی پر بیٹھنے سے روکنے کی کوشش کرتے نظر آتے تھے۔ ہر روز ہونے والی یہ دھینگا مشتی ملک بھر کے عوام کے لئے براہ راست دکھائی جاتی رہی۔ سالا نہ فوجی پریڈ تو مشرف کے دور اقتدار میں ابتدائی سالوں کے بعد کبھی نہ ہوسکی لیکن سیاسی ہلچل یہاں خوب رہی۔ یہاں پر اعتزاز احسن کی ریاست کے ماں جیسی ہونے والی نظم نے شہرت دوام پائی اور علی احمد کرد جیسے شعلہ بیان مقرر بھی یہیں پر دریافت ہوئے۔ پرویز مشرف نے تو ڈی چوک عوام کے لئے کھولے رکھا اور اس کے بعد زرداری صاحب نے بھی ایسا بند نہیں کیا تھا جو اب چوہدری نثار نے وسیع تر قومی مفاد میں مستقل کنٹینر لگا کر کیا ہے۔ اب یہاں عوام کا داخلہ بند ہے۔ پریڈ گراونڈ اور شاہراہ جمہوریت کے عوام کے لئے نو گو ایریا بن جانے کے بعد اس کے پیچھے بنی قومی لائبریری بھی قومی اسمبلی کی عمارت کی طرح عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔

اسلام آباد کے اس پر شکوہ شہر میں لوگ امیدیں اور تمنائیں لے کر آتے ہیں اور یہاں کی سڑکوں کی خاک چھاننے کے بعد جاتے جاتے اس شہر ناپرسان کو جلی کٹی سنا کر چلے جاتے ہیں۔ کسی کی نوکری نہیں ہوئی تو کسی کا تبادلہ، تو کسی کے اگلے گریڈ کی پروموشن رکی ہوئی ہے اور کسی کی پنشن کے کاغذات سیدھے کرتے کرتے کمر ٹیڑھی ہوگئی ہے۔ باہر سے آنے والے اس شہر کے رہنے والوں کو ایک مختلف سیارے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور اپنے ہونے اور نہ ہونے والے کاموں کا ذمہ دار بھی انہی کو ٹھہراتے ہیں۔

اسلام آباد کے مکینوں کا بھی تفریح کا واحد ذریعہ ٹی وی پر چلنے والے ترکی ڈرامے ہیں یا رات سات سے بارہ بجے تک مختلف چینلز پر انفو ٹینمنٹ کے نام پر جگت بازی رہ گئی ہے۔ سنیما نام کی شے تو اس ملک سے کب کی ناپید ہوچکی جس کی وجہ سے فلم کسی بڑی سکرین پر اب لوگوں کو پاکستان سے باہر جاکر ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ اس شہر کی اشرافیہ تو یہاں پانچ ستارے والے ہوٹلوں اور اس شہر میں عوامی پیسے سے اشرافیہ کے لئے بنائے کلبوں میں کسی نہ کسی طور محظوظ ہوتی رہتی ہے لیکن متوسط طبقہ کے لوگ ایسی تفریح کاصرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

اسلام آباد کو بسانے والوں نے ابتدا میں یہاں کے مکینوں کے لئے تقریبا ً ہر سیکٹر میں ایک ایک لائبریری کے قیام کو بھی یقینی بنایا تھا مگر پچھلے سالوں میں یہ لائبریریاں غائب ہوگئی ہیں۔ کسی لائبریری پر مسجد والوں نے اپنی دکان بنالی تو کسی پر کوئی پلازہ بن چکا۔ چونکہ یہ لائبریریاں متوسط اور غریب طبقے کی ضرورت تھی اس لئے اشرافیہ کے اس شہر میں کسی نے اس بارے میں پوچھا بھی نہیں۔ امرا اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ تو اسلام آباد کے پوش ایریا میں کتابوں کی دکانوں میں رکھی مہنگی کتابیں خریدتے نظر آتے ہیں مگر متوسط طبقہ کتابیں صرف اپنے بچوں کے لئے اگلی جماعت کی ہی خریدتا ہے۔

اسلام آباد میں پچھلے دنوں آکسفورڈ پریس کے زیر اہتمام لٹریچر فیسٹیول منعقد کیا گیا جس میں کوشش کی گئی تھی کہ ارزاں نرخوں پر کتابیں دستیاب کرنے کے علاوہ لکھاری ، کتاب اور قاری کے درمیان فاصلے بھی کم کئے جائیں۔ فیسٹول جہاں منعقد کیا گیا اس جگہ کے کشادہ نہ ہونے کے باوجود یہ ایک کامیاب کاوش تھی۔ اس میلے میں انگریزی زبان میں لکھی کتابوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔ چونکہ انگریزی میں تو نئے ادب کی تخلیق جاری ہے اور معاصر حالات پر کتابیں تواتر سے لکھی جاتی ہیں اس لئے ایک بڑی تعداد نئی لکھی جانے والی کتابوں کی بھی نظر آرہی تھی۔ پاکستان پر لکھی گئی بدیسی مصنفین کی کتابوں کے علاوہ پاکستانی مصنفین کی لکھی کتابیں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنی رہیں۔ یہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اشرافیہ طبقے سے تھا اور ان کی دلچسپی کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا تھا۔ اس میلے میں مصنفین کے ساتھ گفتگو اور شعر و ادب کی نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں لوگوں نے بھر پور شرکت کی اور کوئی نشست مشال خان کی اندوہ ناک موت پر ماتم سے خالی نہیں رہی۔ بعض مواقع پر مناظر کافی جذباتی بھی رہے۔

نیشنل بک فاونڈیشن کے زیر اہتمام قومی کتب میلہ لٹریچر فیسٹیول کے بعد ہی منعقد ہوا ۔ اس میلے کی نمایاں بات یہ تھی کہ اس میں اردو کتب زیادہ تھیں۔ یہاں آنے والے زیادہ تر اردو میڈیم لوگ تھے لیکن ان کی تعداد لٹریچر فیسٹیول میں آنے والوں سے زیادہ ہی تھی۔ کتابوں کی نمائش میں پبلشرز خود ہی براہ راست حصہ لیا تھا جس کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں نصف ہوگئی تھیں۔

اردو میں نئی لکھی کتابیں تو زیادہ نہیں تھیں لیکن بہت سی دوسری زبانوں میں لکھی کتابوں کے ترجمے دستیاب تھے۔ اچھی بات یہ ہے کہ سید سبط حسن کی کافی کتابیں دوبارہ چھپ چکی ہیں تاہم ان کی بعض کتابیں ابھی تک ناپید ہیں۔ انجمن ترقی اردو کی چھپی کتابیں بھی نئی طباعت کیساتھ دستیاب تھیں۔ اردو املا، فرہنگ اردو ، اردو ادبی خاکوں اور فسانہ عجائب جیسی کلاسک اردو ادب کی کتابوں کے ارزاں نرخوں پر دستیاب ہونے سے میری طرح بہت سارے زبان و ادب کے طلبا نے فائدہ اٹھایا ہوگا۔

اردو زبان میں لکھی جانے والی مذہبی کتب کی نمائش اور فروخت کافی زیادہ تھی۔ یہاں دس روپے کے ہدیے والے رسالوں سے لے کر ہزاروں روپے قیمت والی متعدد جلدوں پر مشتمل کتب کی ورائٹی مختلف مذہبی مکتبہ فکر کے کتابوں کے سٹالز پر دستیاب تھی۔ بعض جگہوں پر نفیس کاغذ پر اعلیٰ کولٹی کی طباعت کیساتھ بہت ہی سستی کتابیں بھی دستیاب تھیں جو ہمارے ہاں کم آمدنی والے طبقے کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں۔ بہت سارے لوگ جو قیمت دیکھ کر کتاب خریدتے ہیں ان کے لئے ایسی کتابیں نہایت پر کشش ہوتی ہیں۔ ایسی کتابوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ دراصل یہ کتابیں مختلف ممالک کے مالی تعاون سے چھاپی جاتی ہیں اس لئے سستی ہوتی ہیں۔ ایسی کتابوں کے مواد کا جائزہ لینا بھی بہت ضروری ہے ورنہ جس بیانئے کی بات کی جا رہی ہے اس کا ایسی کتب کے ہوتے ہوئے پنپنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

قومی کتب میلے کی اختتامی تقریب میں ایک خوش گلو، خوش لباس ، خوب رو اور خوش کلام شاعرہ فرزانہ کی حادثاتی موت نے اس میلے سے اسلام آباد میں آنے والی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ اس میلے کے ناقص انتظامات اور غلام گردشوں میں آقاوں کی آو بھگت کی وجہ سے ایک شاعرہ کو بر وقت ہسپتال تک نہ پہنچا یا جاسکا جو ایک المیہ سے کم نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔