غیر ملکی ایجنڈے کو پروان تو ہمارے اپنوں نے چڑھایا


احسان اللہ احسان سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اگر فنڈنگ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے نہ ہو رہی ہوتی تو کیا پاکستانیوں کا قتل جائز تھا! ان کو معافی یقینا اسی شرط پہ ملی ہوگی کہ اس نوعیت کا ویڈیو پیغام آپ کو ریکارڈ کرانا ہوگا۔

2008 سے 2013 تک احسان اللہ احسان پورے اطمینان قلب سے پاکستانیوں کو ذبح کرنا جائز اور شرعی سمجھتے رہے۔ انڈین اور افغانی پیسوں کی ملاوٹ نے اس قتل عام کو حرام اور غیر شرعی بنادیا ورنہ تو بڑا ثواب اور نیکی کا کام تھا ان ’مرتد‘ پاکستانیوں کے چیتھڑے اڑانا۔ بھارتی فی الحقیقت اسلام دشمن ہیں، نہ اپنی ’کافر‘ دولت جماعت الاحرار کے عمر خالد خراسانی کو دیتے نہ ہی احسان اللہ احسان کا ضمیر ’مردہ‘ ہوتا اور نہ یہ ’جہاد‘ کا راستہ ترک کرتا۔

احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان سے یہ لگتا ہے کہ انہوں نے جماعت الاحرار کو تو چھوڑ دیا ہے مگر اپنے نظریہ کو نہیں چھوڑا یعنی پاکستانیوں کو مارنا ، پاک افواج کو مرتد سمجھ کر ان کے ساتھ جنگ لڑنا اس وقت تک جائز ہے جب تک بھارتی یا افغانی پیسہ امداد کی شکل میں احرار جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ملنا شروع نہیں ہو جاتا۔ اس اعتبار سے تو ہمیں بھارتیوں اور افغانیوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کے فنڈ نے ایک دہشت گرد کو ہتھیار ڈالنے اور پاکستانیوں کی خونریزی سے باز آنے پہ مجبور یا آمادہ کیا۔

جماعت الاحرار کے دہشت گردوں نے دو نومبر 2014 سے لے کر 31 مارچ 2017 تک نو دہشت گردانہ حملے کئے اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے 2008 سے 2013 تک چالیس کے قریب حملے اور دھماکے پاکستانیوں، ان کی املاک، پولیس اور افواج پہ کئے۔ ان حملوں ،دھماکوں میں بلاشبہ سینکڑوں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے۔ اس دوران آج گھر لوٹنے ،جنگی نام احسان اللہ احسان رکھنے والے مہمند ایجنسی کے لیاقت علی ان دونوں دہشت گرد جماعتوں میں شامل رہ کر معصوم پاکستانیوں کے بے گناہ خون سے اپنے ہاتھ رنگتے رہے اور ان کو بالکل خیال نہ آیا کہ یہ غارت گری صریح اسلام کی خلاف ورزی ہے۔

ان کی اعترافی ویڈیو دیکھئے اور ان کی باڈی لینگوئج سے کہاں لگتا ہے کہ یہ اتنی قتل و غارت گری کے بعد کسی پشیمانی ، ندامت یا شرمندگی کا شکار بھی ہیں!

اِن کا بیان سنئے اور سوچئے کہ اِن کو ان دہشت گرد تنظیموں کے وجود پہ کوئی اعتراض نہیں بلکہ ان کا اعتراض ہے ان تنظیموں کے سربراہ کا قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونا۔ ان کو تحفظات ہیں کافر بھارتیوں کی دولت اور امریکیوں کی ساتھی کٹھ پتلی افغان حکومت کے پیسے کی امداد سے پاکستانیوں کے قتل ہونے پر۔ اگر کسی برادر اسلامی ملک سے خالص اسلامی دولت آتی رہتی تو عین ممکن تھا کہ عصرحاضر کا یہ مجاہد ہنوز پاکستانیوں کے کشتے کے پشتے لگاتا رہتا۔

خیر احسان اللہ احسان سے کیا گلہ ، گلہ تو ہمارا بنتا ہے آئی یس پی آر سے جس نے بیان جاری کیا کہ احسان کا اعتراف غیر ملکی معاندانہ ایجنڈے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے منصوبے کو بے نقاب کرتا ہے۔ اسی سانس میں فرمایا کہ ہماری نوجوان نسل ہماری طاقت ہے اور کبھی بھی دشمن ایجنڈے کا شکار نہ ہوگی۔ بالکل درست ہے جناب دشمن ملک کا تو ایجنڈا ہی دشمن ملک کو غیر مستحکم کرنا ہوتا ہے مگر یہ جو’ ہماری نوجوان نسل‘ ہے اور جو’ ہماری طاقت‘ ہے اس کا بھی تو اپنا ایک ایجنڈا ہے۔ اگر اس ’ نوجوان نسل‘ کا ہمیں مرتد کہہ کر واجب القتل قرار دینے کا ایجنڈا نہ ہو تو کسی بھارت یا افغان کی کیا جرات ہو سکتی ہے کہ ہمارے خلاف کسی بھی قسم کا معاندانہ ایجنڈا تیار کرسکے اور ہمیں غیر مستحکم کرنے کا کوئی ڈیزائن ترتیب دے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔