اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے


مجھے یاد ہے کہ جب ضیا الحق کے دور میں اخبار کی آخری کاپی رات دو ڈھائی بجے سنسر کروانے کے لیے انفارمیشن آفسر کے پاس لے جائی جاتی تھی تو یہ دیکھ دیکھ کر بہت غصہ آتا تھا کہ وہ ایسی تمام خبریں نوچ لیتا تھا جو اس کے خیال میں حکومت کی بدنامی کاسبب ہوسکتی ہیں۔ اس بچارے کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اخبار کی سنسر خبروں سے خالی ہونے والی جگہ کل صبح حکومت کو اور زیادہ بدنام کرے گی۔

آج خدا کا شکر ہے کہ سنسر شپ کا کوئی وجود نہیں کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں۔ دل و دماغ سے لے کر حروف تک سب کنٹرول میں ہیں۔ پرائیویسی اور چادر اور چار دیواری جیسی اصطلاحات ڈکشنری کے حرفی قبرستان میں دفن ہوچکی ہیں۔ کچھ خفیہ نہیں سب عیاں ہے۔ دنیا ایک گلوبل ولیج سے ترقی کرکے وہ حمام بنا دی گئی ہے جس میں سب ننگے ہیں۔ آمریت بھی، جمہوریت بھی، شخصی آزادی بھی اور اجتماعی اقدار بھی۔ لہذا چھپانا کیا اور دکھانا کیا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکا کے ایک سرکردہ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی اور ایف بی آئی نو بڑی امریکی انٹرنیٹ کمپنیوں کے مرکزی سرورز براہ راست ٹیپ کررہی ہیں۔ اس نگران پروگرام کا نام ہے پرزم۔ اور اس کے دائرے میں سلیکون ویلی، مائیکرو سافٹ، یاہو، گوگل، فیس بک، پال ٹاک، اے او ایل، سکائپ، یوٹیوب اور ایپل سمیت انٹرنیٹ کی دنیا کے تمام عظیم دیوتا شامل ہیں۔ حالانکہ گوگل، ایپل، یاہو اور فیس بک نے اپنے اربوں ٹیرا بائٹس کے ڈیٹا بینک تک سرکاری ایجنسیوں کی براہِ راست رسائی کی تردید کی ہے۔ لیکن اعتبار اٹھ چکا ہے۔ جس امریکی اہلکار نے یہ بھانڈا پھوڑا، وہ اب ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگا پھر رہا ہے اور امریکی انتظامیہ اس کے پیچھے پیچھے ہے۔ یہ ایک ایسا انکشاف ہے کہ وکی لیکس بچوں کا کھیل لگتا ہے۔

جب کہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت انڈیا میں دو ہزار گیارہ سے سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم لاگو ہے۔ اس وقت انڈیا کے نو سو ملین لینڈ لائن فون اور ایک سو بیس ملین انٹرنیٹ استعمال کرنے والے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سمیت نو ایجنسیوں کے مانیٹرنگ سسٹم کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ کسی بھی بھارتی شہری کی ای میلز اور ایس ایم ایس تک رسائی اور فون ٹیپنگ کے لیے عدالتی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔

پاکستانی پارلیمنٹ نے گذشتہ سال بیس دسمبر کو متفقہ طور پر فئیر ٹرائل بل منظور کرلیا۔ اس کے تحت آئی ایس آئی، آئی بی اور مجاز پولیس اہلکار فون کالز، ای میلز، ایس ایم ایس، انٹر نیٹ پروٹوکول ڈیٹیل ریکارڈ ( آئی ڈی پی آر )، کال ڈیٹیل ریکارڈ ( سی ڈی آر) اور کوئی بھی اور کمیونکیشن ٹیپ کرسکتی ہیں اور اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے مطابق مجاز افسر کو وزارتِ داخلہ کے ذریعے جج سے وارنٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس سہولت کے غلط استعمال اور خلاف ورزی پر مجاز افسر کو تین برس قید بھی ہوسکتی ہے۔ (اس پر ایک ہا ہا ہا ہا۔ )۔

اسی بارے میں: ۔  فن .... اور کچھ فن کار سرپرست

انیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت ہر شہری کو آزادیِ اظہار کا حق میسر ہے۔ اور آرٹیکل انیس اے کے تحت ہر شہری کو مفادِ عامہ سے متعلق اطلاعات تک رسائی کا حق بھی ہے۔ ملک میں اطلاعات تک عام شہریوں کی رسائی کا قانون مجریہ دو ہزار دو بھی نافذ ہے۔ جون دو ہزار دس میں صدر آصف زرداری نے شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان انفرادی آزادیوں بشمول آزادیِ اظہار، آزادیِ اجتماع، آزادیِ انتخاب، اور منصفانہ مقدمہ چلانے کے بنیادی حقوق کے احترام کا پابند ہے۔ لیکن پاکستان کی گذشتہ جمہوری حکومت نے گذشتہ برس وہ کام کردکھایا جو آج تک کسی آمرانہ حکومت نے بھی نہیں کیا۔ یعنی مارچ دو ہزار بارہ میں باقاعدہ ایسا سسٹم حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر نوٹس شایع کرایا گیا جو انٹرنیٹ کی پانچ کروڑ ویب سائٹس تک رسائی روکنے کی گنجائش رکھتا ہو۔

ایک امریکی کمپنی ویب سینس نے اس ٹینڈر کی بڈنگ میں حصہ نہیں لیا اور اس نے دیگر کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ آزادیِ اظہار پر روک لگانے والی اس غیر اخلاقی بڈنگ کا حصہ نابنیں۔ چنانچہ پانچ کمپنیوں نے ٹینڈر نہیں بھرے۔ البتہ کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے منک اسکول آف گلوبل افیئرز کے ایک تحقیقی گروپ سٹیزن لیب کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ کینیڈا کی ایک کمپنی نیٹ سویپر نے پاکستان کو پچاس ملین یو آر ایل ( یونیفارم ریسورس لوکیٹر ) بلاک کرنے کا وہ سسٹم فراہم کردیا ہے جو چینی حکومت بھی گریٹ فائر وال کے نام سے انٹرنیٹ ٹریفک روکنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ کے گاما گروپ نے فن فشر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔ اس سسٹم سے کئی ممالک میں صحافیوں، منحرفین اور اسٹیبلشمنٹ مخالف کارکنوں کی موثر نگرانی کا کام لیا جا رہا ہے۔

ویب سائٹس تک رسائی روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز کو کسی بھی سائٹ کا ڈی این ایس ٹمپر کرنے پر مجبور کیا جائے۔ پاکستان میں اس وقت جتنے بھی انٹرنیٹ سروس پروائڈرز کام کررہے ہیں انھیں کس کس نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے اور سیلولر کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسی کیا ہے۔ وہ کس نوعیت کا ڈیٹا کس ایجنسی کو دینے کی پابند ہیں یا نہیں۔ اس کی تفصیلات میں گھسنے سے بظاہر کسی نشریاتی یا اخباری ادارے کو دلچسپی نہیں۔ کیونکہ اشتہارات کی آمدنی کی اپنی کیمسٹری، فلاسفی اور کشش ہوتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کوئی کام ہو تو بتانا.....!

حکومتیں عام آدمی کے موبائل فون اور کمپیوٹر میں گھسنے کی یہ تاویل دیتی ہیں کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا ضروری ہے۔ دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے جدید ہتھکنڈوں سے نمٹنے کے لیے ایسا کرنا اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے کہ وہ تمام مواصلاتی ڈیٹا اپنی چھلنی سے گذارے تاکہ منفی عزائم کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔ اگر یہ دلیل مان بھی لی جائے تو نجی زندگی میں ہر طرح کی مداخلت کا حق حاصل کرنے کے باوجود دہشت گردی گھٹنے کے بجائے کیوں پھیلتی چلی جارہی ہے۔ کوئی حکومت یہ بتانے میں کیوں دلچسپی نہیں رکھتی کہ عام آدمی کے فون اور کمپیوٹر میں اپنی ناک گھسانے سے پہلے دہشت گردی کی کتنی وارداتیں ہورہی تھیں اور اب ان میں کتنی کمی ہوئی ہے۔ لیکن مفادِ عامہ کے کپڑے پہن کر جو ہاتھی عام آدمی کے خیمے میں گھس چکا ہے وہ شاید کبھی وہاں سے نہ نکل پائے۔ دہشت گردی بھلے ختم ہوجائے لیکن ’’عظیم تر قومی مفاد اور اس کا مستقبل‘‘ اس ہاتھی کے لیے مستقل چارہ بنا رہے گا۔

کچھ حکومتوں نے نہ صرف اپنے شہریوں کے جسمانی بلکہ اخلاقی و ذہنی تحفظ کا ٹھیکہ بھی اٹھا رکھا ہے اور ان ممالک میں بھی پاکستان سرِ فہرست ہے۔ اس ٹھیکے کے بموجب پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی اب تک لگ بھگ بیس ہزار ایسی ویب سائٹس تک رسائی روک چکی ہے جو فحش اور مخربِ اخلاق سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن آج بھی پاکستان ان پانچ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس دیکھی جاتی ہیں۔ اس بارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مقامی سرکاری علما کیا فرمائیں گے؟ میں ان سے یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ یو ٹیوب پر نو ماہ سے لگی پابندی سے قوم کی اخلاقی صحت کتنی بہتر ہوئی ہے؟

اچھی بات یہ ہے کہ اس اطلاعاتی جال کے طفیل اب ہم سب ایک ہی گلوبل خاندان میں شامل ہیں جہاں سب کے دکھ سکھ بھلے سانجھے ہوں نا ہوں لیکن سب کی نقل و حرکت، سوچ اور نجی زندگی ضرور سانجھی ہوچکی ہے۔ سب کو سب کے بارے میں بھلے کچھ نا معلوم ہو لیکن کچھ کو سب کے بارے میں سب معلوم ہے۔ بقولِ جون ایلیا،

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔