بلوچی سٹریٹ سے بلوچی سٹریٹ تک


دوستوں کی خدمت میں کینیا کے دار الحکومت نیروبی سے آداب۔ گزشتہ مراسلے میں محترم مظفر جمعہ خان کا ذکر ہوا تھا جنہوں نے اپنے والد جمعہ خان مرحوم کی کینیا آمد اور یہاں پیش آنے والے نشیب و فراز کا تفصیلی تذکرہ اپنی کتاب میں کیا ہے۔ آج ایک اور خان صاحب کا قصہ سنیے۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں محمد طفیل خان نامی افغان نژاد نوجوان نے دہلی کے مشہور حکیم عبدالوہاب انصاری عرف حکیم نابینا کے زیر سایہ حکمت کی تعلیم مکمل کی۔ فیصلہ یہ کیا کہ اطبابت کو بنیادی طور پر شوق کا درجہ دیا جاے چنانچہ ملازمت کی تلاش شروع کر دی۔ بالآخر انگریز حکومت کے محکمہ ڈاک میں آذوقہ مقرر ہوا۔ کچھ عرصے بعد جب سامراج نے مشرقی افریقہ میں پاوں پھیلانا شروع کیے اور ریل کی پٹڑی بچھنے لگی تو اس کے ساتھ ہی دیگر ذرایع رسل و رسائل کی بنیاد رکھی گئی۔ اسے ترقی کا ایک زینہ سمجھتے ہوے محمد طفیل خان نے بھی مشرقی افریقہ کے محکمہ ڈاک میں تعیناتی کی درخواست داغ دی اور قرعہ فال اس کے نام کا نکل آیا۔ اس دور میں مشرقی افریقہ کا سب سے اہم برطانوی مقبوضہ ممباسہ نامی ساحلی شہر تھا اور محمد طفیل خان کو اس شہر کے ڈاک خانے کا مہتمم مقرر کیا گیا۔ کم عمری میں ہی اس دور کے رواج کے مطابق اپنے عزیزوں میں شادی ہو چکی تھی۔ ایک عدد عقد افریقہ میں عُمانی نژاد خاتون سے بھی کیا۔ واضح ہو کہ اس خلیجی ریاست کا نام سلطنت عُمّان ہے جسے ہمارے ہاں انگریزی کی پیروی میں غلط طور پر ’اومان‘ لکھا جاتا ہے۔ وطن آنا جانا لگا رہتا تھا۔ غالبا ہر دو بیویوں سے یکساں سلوک کے پیش نظر ہندستان (بعد میں پاکستان) اور افریقہ میں سات سات اولادیں ہوئیں۔ سرکاری ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد کوئٹہ اور افریقہ کے مابین وقت تقسیم کرتے رہنے کی کوشش کی مگر دل وہیں افریقہ میں اٹکا ہوا تھا جہاں کئی دہائیوں تک راج کیا تھا۔ چنانچہ وہیں ممباسہ کے نواح میں ایک وسیع و عریض قطعہ اراضی خرید کر اس میں آم کا باغ لگایا اور اس کے بیچ مکان بنا کر رہنا شروع کیا۔ وہیں سن چھپّن میں فرشتہ اجل کو لبیک کہا اور اپنے باغ کے ایک کونے میں آخری ٹھکانہ نصیب ہوا۔

دوست سوچتے ہوں گے کہ اس خادم کو ان خان صاحب سے اس قدر دلچسپی کیوں کر پیدا ہوئی۔ سو سبب اس تمہید کا یہ ہے کہ حکیم محمد طفیل خان افریقی اس خادم کے نانا تھے۔ صومالیہ میں فرائض منصبی کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ارادہ بندھ گیا تھا کہ نانا کی قبر کی زیارت کی جائے اور عزیزوں کی بازیافت بھی۔ سوشل میڈیا کی برکت سے اپنے ماموں زاد کو ڈھونڈ نکالا اور ملاقات کی خاطر نیروبی سے ممباسہ پہنچ گیا۔ ممباسہ ایک عجوبہ روزگار شہر ہے۔ چہار جانب سے سمندر سے گھرے جزیرے پر واقع مشرقی افریقہ کا دروازہ ہونے کے سبب اس شہر پر صدیوں سے ہر قسم کے سامراجیوں کی نظر رہی ہے۔ چنانچہ شہر کی تاریخ پرتگیزوں، انگریزوں اور عُمّانیوں کی لگاتار آویزش کی تاریخ ہے۔ پرتگیزوں نے یہاں لبِ ساحل ایک سنگین قلعہ پندرہویں صدی میں قائم کیا مگر وہ یہاں سے پہلے سے روابط رکھنے والے عمانی عربوں کی یورشوں کی زد پر آتا رہا۔ بالآخر پچاس کے قریب سپاہیوں اور افسروں کے ضیاع کے بعد پرتگیزوں کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ ایک بار پھر قبضے کی کوشش ہوئی مگر عمانیوں نے اسلحے سے لدے پرتگیزی جہاز کو سمندر میں ہی آگ لگا کر غرق کر دیا۔ دیگر یورپی طاقتوں کی نظرِبد سے بچانے کی خاطر عمّانی حکمرانوں اور انگریزوں کے مابین ایک سمجھوتے کے تحت اسے انگریزوں کی عمل داری میں دے دیا گیا اور یہ مشرقی افریقہ میں انگریزی سامراج کا اہم مرکز ثابت ہوا۔ بلوچوں کے عمّان سے قدیمی ربط ضبط کے سبب بہت سے نسلاً بلوچ، عمّانی نژاد، یمنی الاصل، صومالی اور انگریزی دور میں آئے ہوئے ہندستان و پاکستان کے باشندے یہاں رہتے ہیں۔ شہر پر مسلمانوں کا غلبہ ہے جن میں مذکورہ بالا اقوام کے علاوہ مقامی اور مخلوط نسل کے لوگ، جو ”ڈیگو“ کہلاتے ہیں، اکثر مسلمان ہیں۔ شہر میں اثنا عشری، اسمعیلی، سنّی، اہل حدیث، صومالی شافعی اور داودی بوہرہ جماعت کی مساجد نمایاں ہیں۔ شہر کے قلعے کے قریب واقع پرانے حصے کو اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے اور وہاں جدید تعمیرات اور مکانات کے سامنے کے حصے کی شکل میں تبدیلی کی ممانعت ہے۔ لکڑی اور پتھر کے جھروکوں اور بالکونیوں کے تلے پتھر سے ڈھکی پتلی گلیاں عجب حسین منظر پیش کرتی ہیں۔ مبینہ طور پر مشرقی افریقہ کی سب سے قدیم مسجد یہیں واقع ہے۔

شہر کا ایک محلہ بلوچی سٹریٹ کہلاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر ”دل کو کئی کہانیاں، یاد سی آ کے رہ گئیں“۔ کوئٹہ میں اس خادم کی زندگی وہاں کی بلوچی سٹریٹ کے قرب و جوار میں گذری ہے۔ ہماری جد و جہد آزادی کا اہم سنگ میل ”لٹ خانہ“ بھی وہیں نمو پذیر ہوا تھا۔ ان اصل ”لٹ“ لوگوں کے ایک ادنی مدّاح کے طور پر اِس خادم نے ممباسہ کی بلوچی سٹریٹ میں انہیں یاد کیا۔ بلوچستان سے اس قدر فاصلے پر بلوچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اقبال بھی یاد آئے۔ جس سمت میں چاہے صفتِ سیل رواں چل۔ وادی یہ ہماری ہے وہ صحرا بھی ہمارا۔ بلوچ قبائلی سماج میں ایک انجذابی ادارہ وجود رکھتا ہے جس کا اصطلاحی نام ”ہڈی توڑنا“ ہے۔ اس نام سے خوف کھانے کی چندان ضرورت نہیں ہے۔ اس سے مراد کسی باہر سے آنے والے کو اپنے قبیلے میں با ضابطہ طور پر شامل کرنے کا رواج ہے۔ یہ رواج آج کے بلوچستان میں کمزور پڑ چکا ہے مگر یکسر معدوم نہیں ہوا ہے۔ ممباسہ کے بلوچ البتہ اس پر اب بھی عامل ہیں۔ چنانچہ یہاں قیام پذیر ”خان“ لوگ اب ”بلوشی“ برادری کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس خادم کے ایک خالہ زاد جو پولیس سے بطور ایس ایس پی سبک دوش ہوئے، ابھی کچھ عرصہ قبل تک ”بلوشی“ برادری کے منتخب سربراہ تھے۔ ہمارے ماموں زاد کی سسرال بھی بلوچ ہے جو اپنا آبائی تعلق ایرانی بلوچستان کے قصبے ”نیک شہر“ سے بتاتے ہیں اور ”ہوت“ اور ”گہیگ“ قبیلوں سے ہیں۔ ان کے گھر میں چند لمحے گزارے۔ پتا چلا کہ کچھ ضعیف العمر بزرگ اب تک بلوچی میں بات چیت پر قادر ہیں مگر عام بول چال کی زبان، نسلی، لسانی اور مذہبی رنگا رنگی کے باوصف سواحیلی ہے جو بنتو زبانوں اور عربی کا آمیزہ ہے۔

چلتے چلتے ایک چٹکلہ عرض ہے کہ بظاہر یہاں رسمی مسلمانی سے بڑھ کر اسلام کی اصل روح کا زیادہ دور دورہ ہے۔ چنانچہ ایک مسجد میں دیکھا کہ کوئی صاحب اپنے قیمتی موبائل فون اور چارجر کو وضو خانے میں نصب برقی پلگ میں لگا کر بے خوف و خطر مسجد کے اندر نماز پڑھنے جا چکے تھے۔ شاید یہاں کسی خضر صورت بزرگ کا گذر نہیں ہو پایا لہذا نمازی اپنے جوتوں کی حفاظت سے بھی مکمل بے غرض نظر آئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔