طالبان ترجمان احسان کے ٹی وی انٹرویوز


یہ طالبان آخر ہیں کون اور یہ ہمارے کیا لگتے ہیں؟ ان کا ہمارے ساتھ اور ہمارا ان کے ساتھ سلوک کیسا ہے۔ ہر اگلا واقعہ اور بیان پہلے سے زیادہ حیران کن ہوتا ہے۔ ہر طرف کنفیوژن مچا ہوا ہے۔

طالبان بہترین مسلمان ہیں۔ اسلام کے بے لوث سپاہی ہیں۔ دنیا کا انہیں کوئی لالچ نہیں ہے۔ افغانستان پر ان کی حکومت ایک مثالی حکومت تھی۔ وہاں دودھ کی نہریں بہنے ہی والی تھیں کہ ان کی حکومت صیہونی سازش کا شکار ہو گئی۔ یہودیوں نے نائن الیون کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہوائی جہازوں سے حملہ کر دیا تاکہ امریکہ کو افغانستان پر حملے کا بہانہ مل جائے اور زمین کے ماتھے پر اکلوتی اسلامی حکومت کو ختم کیا جا سکے۔

طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ وہ دہشت گرد ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ آئے دن ہماری فوج ان کے خلاف آپریشن کرتی ہے۔ ہمارے ہزاروں فوجی جوان اور آفیسر ان کی بربریت کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے فوجیوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کی ویڈیو بناتے ہیں اور وہ ویڈیوز ان کے گھر والوں اور ان کے دفتروں میں بھی بھیجتے ہیں۔ وہ ہمارے فوجیوں کے کٹے ہوئے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہیں۔ وہ وحشی ہیں۔

طالبان دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ سچے مسلمان ہیں اور شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا چاہتے ہیں۔ وہ حق پر ہیں۔ آخری فتح ان کی ہو گی۔ وہی دنیا پر غالب آئیں گے۔ ہماری فوج سے لڑتے ہوئے جو بھی طالبان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں وہ شہید ہیں۔ یہ امریکی ڈرون بڑا ظالم ہے۔ اس نے ہماری سر زمین پر ایک سے زیادہ مرتبہ طالبان کمانڈرز کو شہید کیا ہے۔ جب بھی وہ کمانڈر قتل ہوئے پاکستان کے لیڈر اسمبلی کی تقریروں میں بھی روئے اور اسے ظلم قرار دیا۔ اور اسے کبھی ہمارے امن مذاکرات پر حملہ اور کبھی ہمارے کسی اور مفاد پر حملہ قرار دیا۔

سارے طالبان اچھے نہیں ہیں۔ کچھ ہمارے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ انڈیا، افغانستان اور امریکہ کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ انہوں نے سوات پر قبضہ کیا۔ انہوں نے سارے پاکستان میں بم دھماکے کیے اور ستر ہزار پاکستانیوں کو شہید کیا۔ انہوں نے ہماری زمیں پر آرمی پبلک سکول کے بچوں کے قتل جیسا ظلم کیا۔ ہم ان کے خلاف ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا آپریشن کرتے رہے اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اب بھی کر رہے ہیں۔

فوجی آپریشنز کے درمیان مذاکرات کے وقفے بھی ہوتے رہے۔ طالبان کے نمائندے بھی ادھر ہی موجود تھے جو ہمارے حکومتی نمائندوں سے کہیں زیادہ ”معزز“ ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ بھی نیک ہیں، طالبان کی طرح شریعت چاہتے ہیں تبھی تو طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

زیادہ تر پاکستانی میڈیا طالبان کا شیدائی رہا۔ بہت سے تجزیہ کار طالبان کے حامی ہیں۔ کئی مذہبی سیاسی جماعتیں طالبان کی حامی ہیں۔ کھلے عام ان کی تعریفیں کرتے ہیں۔ کئی مدرسے اس بات فخر کرتے ہیں کہ طالبان ان کے فارغ التحصیل ہیں اور باقیوں کو انہوں نے اعزازی ڈگریاں دے رکھی ہیں۔ ایک ایسے مدرسے کو ایک صوبائی حکومت نے تیس کروڑ روپے کی گرانٹ بھی دی ہے۔ ایسا بھی کھلم کھلا ہوا کہ جب طالبان نے 16 دسمبر والے آرمی پبلک سکول کے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی تو اسلام آباد میں بیٹھے بڑے معتبر مولانا صاحب نے طالبان کی اس بربریت کی مذمت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

طالبان نے جیسی اسلامی حکومت افغانستان میں قائم کی تھی اور پاکستان میں قائم کرنے کی کوشش جاری تھی بلکہ سوات وغیرہ میں تو کچھ مہینے قائم بھی رہی، اچانک ویسی ہی اسلامی حکومت عراق اور شام کے کچھ علاقوں میں بھی قائم ہو گئی۔ انہوں نے اپنا نام داعش رکھا۔ طالبان کو وہ اسلامی حکومت پسند نہیں آئی۔ جو طالبان سے ٹوٹتے ہیں وہ داعش کو جائن کر لیتے ہیں۔ افغانستان میں دونوں کا وجود ہے تو دونوں ایک دوسرے جنگ لڑ رہے ہیں اور خوب مار رہے ہیں ایک دوسرے کو۔ سچا کون ہے داعش یا طالبان؟ ابھی کنفیوژن ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی ابھی کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

یہ سب کچھ پاکستان ہی میں چل رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے ہی مذہب کے نام پر ہمارے ہی خلاف چل رہا ہے۔ ہماری فوج ہی ان سے جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمارے ہی بچے سڑکوں پر مر رہے ہیں اور میدان جنگ میں شہید ہو رہے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ سمجھنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہم اپنے بچوں کو کچھ بتانے کو تیار ہیں۔ لہذا ہر روز ہمارے بچے اور بچیاں جہاد اور شہادت کے نام پر گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ کیا ٹھیک ہے کیا غلط، ہمارے بچوں کو کیسے سمجھ آ سکتا ہے جب ہمیں خود کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔

تماشا بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آج کل طالبان کے مشہور و معروف ترجمان ہمارے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کئی بم دھماکوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہوئی ہیں۔ ایسی بہت ساری ریکارڈنگ بھی موجود ہوں گی۔ ان بم دھماکوں میں سینکڑوں لوگ قتل ہوئے۔ جب ان کے گرفتار ہونے کا اعلان ہوا تو لگا کہ اب ان پر پاکستان کی عدالتوں میں سینکڑوں لوگوں کے قتل کے مقدمات چلائے جائیں گے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ لیکن ہمارا اندازہ ایک دفعہ پھر غلط نکلا۔ انہیں تو ایک اہم سیاسی رہنما سمجھا جا رہا ہے اور مقدمات کی بجائے بڑے مشہور اینکرز کے ساتھ ان کے انٹرویوز کے اشتہار چل رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 129 posts and counting.See all posts by salim-malik