ان کہی کا جبران، خلیل جبران اور جسٹس کھوسہ کا ادبی ذوق


1982 میں پی ٹی وی پر حسینہ معین کا تحریر کردہ ڈراما ’’ ان کہی ‘‘ٹیلی کاسٹ ہوا جس نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ شہناز شیخ اور جاوید شیخ اس ڈرامے کے مرکزی کردار تھے۔ سلیم ناصر نے شہناز شیخ کے ماموں کا یادگار رول کیا۔ میری بڑی بہن نے ’’ اَن کہی ‘‘ دیکھ رکھا تھا اور ان سے، ہم نے یعنی میری دو بہنوں اور میں نے آنے والے برسوں میں اس ڈرامے کی بہت تعریف سنی۔ وہ زمانہ اور تھا جس میں آج کی طرح ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کی سی ڈیز دستیاب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی انٹرنیٹ موجود تھا۔ ’’ان کہی‘‘ کو کئی سال بعد اس وقت دیکھنا ممکن ہوا جب پی ٹی وی نے پرانے ڈراموں کی ری پیٹ ٹیلی کاسٹ کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر برسوں بعد لاہور میں کتابوں کی معروف دکان ’’ ریڈنگز‘‘ پر شہناز شیخ کو دیکھا تو تصور کے آبگینہ کو ٹھیس لگی کیونکہ یہ ’’ ان کہی‘‘ والی نرم ونازک لڑکی نہ تھی بلکہ ایک ایسی خاتون تھی جس نے خود کو منٹین رکھنے کا تردد نہ کیا ہو۔

’’ان کہی ‘‘کا خیال برسوں بعد سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے اختلافی نوٹ سے آیا، جس کا ان دنوں بہت چرچا ہے۔ اس کی وجہ سے ہر طرف ماریو پیزیو کے ناول ’’ گاڈ فادر‘‘ کا ذکر ہو رہا ہے، اس میں نقل ہونے والے بالزاک کے تمہیدی جملے پر بہت خامہ فرسائی ہوچکی ۔ 8 مئی 2012 کو سپریم کورٹ سے یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کا فیصلہ آیا تو اس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اختلافی نوٹ تو نہیں تھا لیکن ان کا چھ صفحات کا اضافی نوٹ ضرور تھا جس میں خلیل جبران کی نظم کاحوالہ شامل تھا،جس کا ذکر ان دنوں پھر سے زوروں پر ہے۔

ایک معروف قومی روزنامے ایکسپریس میں 9 مئی 2012 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ کچھ یوں رپورٹ ہوا:

’’اسلام آباد (غلام نبی یوسفزئی) جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے نوٹ میں عوام کو اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ آئینی ڈھانچے اور اداروں کو بچانا عوام کی ذمہ داری ہے۔ اگر انتظامیہ عدلیہ کے حتمی حکم کو نہ ماننے پر تلی ہوئی ہو اور اس انکار میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہو جائے یہاں تک کہ آئینی ڈھانچے کے منہدم ہونے کا خطرہ پیدا ہو تو پھر عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آئین اور اداروں کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ فاضل جج نے لکھا ہے کہ عوام کی خواہش اور طاقت کو کم تر جاننا سنگین غلطی ہے اس حوالے سے حالیہ ’’عرب سپرنگ‘‘ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاریخ گواہ ہے کہ روسی عوام کی خواہش آخر کار سوویت فوج کی لاتعداد ڈویژنوں پر غالب آ گئی تھی جبکہ ہمارے اپنے ملک میں چیف جسٹس نے ایک آمر کے سامنے انکار کیا اور عوام کی طاقت سے غالب ہوئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے نوٹ میں خلیل جبران کی نظم ’’قابلِ رحم قوم‘‘ کا بھی حوالہ دیا ہے کہ جس قوم کا عقیدہ توہو لیکن ایمان نہ ہو وہ قابل رحم ہے جبکہ اپنی طرف سے نظم میں اضافہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ جس قوم نے مذہب کے نام پر ملک تو حاصل کیا ہو لیکن سچائی، ایمانداری اور خود احتسابی سے دور دور کا بھی واسطہ نہ ہو وہ قوم قابلِ رحم ہے۔ ثناء نیوز کے مطابق جسٹس کھوسہ نے فیصلے میں معروف لبنانی فلسفی خلیل جبران کی جس نظم کا حوالہ دیا ہے، وہ نظم یوں ہے: ’’میرے دوستو اور ہم سفرو، افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو ،افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنایا نہ ہو، جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اُگایا نہ ہو، ایسی شراب پیے جو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو، افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے، افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے، افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو، ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو، افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو جس کا فلسفی مداری ہو، جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو ،افسوس اس قوم پر جوہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے اور رخصت گالم گلوچ سے اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کردے ، افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تلے دب گئے ہوں اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں، افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو۔‘‘

خلیل جبران کے ذکر پر ’’ ان کہی ‘‘ اس لیے یاد آیا کہ اس کے ذریعے سے ہم نے پہلی دفعہ عربی زبان کے اس معروف لبنانی ادیب کا نام سنا تھا۔ اس ڈرامے میں شہناز شیخ کا چھوٹا بھائی جو سب کی آنکھوں کا تارا تھا، عینک لگائے، اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتا اور بات بے بات خلیل جبران کا کوئی قول سناتا۔ اس بچے کا نام بھی جبران تھا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، شاید اس کے دل میں سوراخ تھا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ مطالعہ کا دائرہ وسیع ہوا تو خلیل جبران کی کتابوں تک رسائی ہوئی، لیکن اس کی تحریروں نے مجھے پکڑا نہیں، انتظارصاحب کا محاورہ برتا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ’خلیل جبران مجھ سے چلا نہیں‘

زمانہ اورآگے بڑھتا ہے۔ میرا عربی زبان وادب کے دو عالموں محمد کاظم اور ڈاکٹر خورشید رضوی سے تعلق استوار ہو جاتا ہے، جس پر مجھے فخر ہے۔ ان دونوں حضرات کی عربی دانی کا لوہا اہل عرب بھی مانتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ محمد کاظم اور خورشید رضوی دونوں ہی کو خلیل جبران بطور مصنف پسند نہیں رہا۔ خلیل جبران کے مشہور ناول The Prophetجس کا سب سے زیادہ چرچا ہوتا ہے ، اس کے بارے میں محمد کاظم کی رائے ہے: ’’ اگر جبران کے مداحین برا نہ مانیں تو مجھے “النبی ” اپنے نام نہاد فکرو فلسفے اور اپنے حکیمانہ اور شاعرانہ لحن کے باوجود ایک نہایت مضحکہ خیز کہانی لگتی ہے۔‘‘ خلیل جبران پر محمد کاظم نے اپنے مضمون میں بہت کچھ کہہ دینے کے بعد اپنی بات جبران کے ایک دوست کی اس رائے پر صاد کرکے ختم کی کہ جبران کے ہاں سوائے ایک بدمزہ اور رقت آمیز جذباتیت کے اور کچھ نہیں.ڈاکٹر خورشید رضوی سے ہم نے انٹرویو میں جبران کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کئی بار اسے پڑھنے کی کوشش کی لیکن وہ ان سے پڑھا نہیں گیا۔

ہمارے یہاں اس شخص کو عالم سمجھا جاتا ہے جو زبان کا عالم ہو لیکن اصل عالم وہ ہوتا ہے جو زبان کے ساتھ ادب کا بھی عالم ہو.یہ دونوں چیزیں محمد کاظم اور خورشید رضوی کی ذات میں مجتمع ہیں، اس لیے وہ صحیح معنوں میں عربی کے عالم ہیں۔

سپریم کورٹ کے معزز جج کے ادبی حوالوں سے مرصع اختلافی نوٹ سے طول پکڑنے والی اس بحث کا کم ازکم یہ فائدہ تو ہوا کہ ہم نے اسی بہانے گئے دنوں کی سیر کر لی اور پی ٹی وی کا اچھا زمانہ ایک بار پھر چشمِ تصور میں لے آئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔