سودیشی ریل سے پاناما کیس تک


”سودیشی ریل‘‘ ایک افسانے کا عنوان ہے۔ یہ اٹھاسی سال پہلے 1929ء میں لکھا گیا اور اس نے شوکت تھانوی کی شہرت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ یہ اُردو ادب کی ایک شاہکار تحریر ٹھہری۔ ہندوستان کی تقریباً تمام زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ دوسرے جرائد کے علاوہ انگلستان کے رسالے گلوب میں بھی چھپا۔ افسانے کی کہانی کُچھ یوں ہے کہ ایک مسافر کو ریلوے سٹیشن پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ ہندوستان کو انگریز راج سے آزادی مل چکی ہے۔ سودیشی کا مطلب ہے ”اپنے دیس کی‘‘۔ بتانا مقصود تھا کہ اب انگریز حکومت کا اس ریل سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ ہندوستانیوں کی اپنی، قومی ریل ہے۔

اب مسافر نت نئے تجربات سے گزرتا ہے۔ سب سے پہلے بکنگ کلرک لکھنٔو سے کانپور کا ٹکٹ مقررہ قیمت پر نہیں دیتا۔ زیادہ پیسے مانگ کر کہتا ہے کہ غلامی کے زمانے کا ٹکٹ نہیں چلے گا اور نیا ٹکٹ چھپنے میں وقت لگے گا۔ بھائو تائو کے بعد وہ ایک سیکنڈ کلاس کا جعلی ٹکٹ سستا بیچ دیتا ہے۔ مسافر ڈبے میں پہنچتا ہے تو تیسرے درجے کے مسافر گھس آتے ہیں۔ اعتراض پر جواب ملتا ہے کہ نشستوں کی درجہ بندی غلامی کی نشانی تھی۔ اب آزادی کا زمانہ ہے۔ اور پھر ریل، سٹیشن نہیں چھوڑتی تو پتا چلتا ہے کہ ڈرائیور بھی آزادی کا فائدہ اُٹھا رہا ہے اور کوئلے والا، کوئلہ خریدنے بازار گیا ہوا ہے۔ آخر کار عوامی فیصلہ ہوتا ہے کہ مسافروں کی زیادہ تعداد دوسری سمت سفر کرنا چاہتی ہے، اس لیے ریل کانپور کی بجائے بریلی جائے گی۔ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے اس ڈرامے میں کانٹے والے، سٹیشن ماسٹر، گارڈ، انجن ڈرائیور اور کوئلے والے کے درمیان تُوتکار کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ اِس بحث میں شوکت تھانوی اپنے بے مثل طنز کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران سیاسی لیڈر بار بار کہتا ہے ”ایک ملک کا انتظام کرنا بچوں کا کھیل نہیں‘‘۔

عیاں ہوتا ہے کہ انگریز سے آزادی کے بعد ہر ضابطہ اور قانون غلامی کی نشانی قرار دے کر توڑا جا سکتا ہے۔ کہانی اس وقت ختم ہوتی ہے جب کانٹا نہ بدلنے پر سودیشی ریل دوسری طرف سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے۔

ادب ہمیشہ سے قوموں کی اجتماعی سوچ اور رویوں کا عکاس رہا ہے۔ شوکت تھانوی کے افسانے کو اسی وجہ سے شہرت ملی کہ اُس نے آزادی ملنے سے اٹھارہ برس پہلے ہی بھانپ لیا کہ چاہے قانون اور ضابطہ اجتماعی مفاد میں ہو، ہندوستانی شعور کی اُس منزل کو نہیں پہنچے کہ اپنی بے قابو فطرت کو لگام دے سکیں۔ یہ بات بالآخر ثابت بھی ہوئی۔ آزادی کے بعد جب قانون اور ضابطے ہماری خود غرض خواہشات کی راہ میں حائل ہوئے تو اُنہیں انگریز راج اور غلامی کی نشانی قرار دیا گیا۔ خاص طور پر وہ قانون اور ضابطے اس سوچ کی زد میں آئے جو اہلِ اقتدار کی ہوسِ زر میں رکاوٹ بنے۔

اسی بارے میں: ۔  امریکی سکیورٹی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی

تاریخ گواہ ہے کہ اجتماعی شعور کی بیداری پر بنی نوع انسان نے اپنے لیے ایک سماج قائم کیا۔ جستجو یہی تھی کہ ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا طریق ختم ہو اور جو قانون اور ضابطے وضع ہوں، معاشرے کا ہر فرد اُن کے سامنے برابر ٹھہرے۔ جب آئین اور قانون کے بجائے ہتھیار کی طاقت مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئی تو پاور کلچر فروغ پانے لگا۔ نظریۂ ضرورت کو جواز کی سند ملی تو معاشرتی سوچ کا بگاڑ شروع ہوا اور بدقسمتی سے اب تک جاری ہے۔

طے ہے کہ انگریز اپنی حکومت کا دوام چاہتا تھا ۔ اُسے ادراک تھا کہ سرکاری اہلکار انصاف کریں گے تو حکومت کے خلاف بغاوت یا شورش برپا نہ ہو گی۔ اُس کی ضرورت تھی کہ سرکاری اہلکار غیر سیاسی ہوں اور لوگوں کے درمیان تفریق نہ کریں۔ اُن کی ریکروٹمنٹ، ترقی اور تنخواہ کا ایک غیر سیاسی نظام وضع کرنے کا مقصد بھی اُنہیں بدعنوانی سے دُور رکھنا تھا۔ اختیارات کے امین اِس لیے اپنے آبائی علاقے میں تعینات نہیں کیے جاتے تھے کہ اُن کا خاندان، برادری اور دوست فیصلوں پر اثر انداز نہ ہوں۔ آزادی کے بعد صورتِ حال بدلتی گئی۔ جن اہلکاروں نے ضابطوں اور قوانین پر یکسانگی سے عملدرآمد کروانا تھا، انہیں تابع فرمان کرنے کے لیے انگریز کی نشانی کا خطاب ملا۔ عوام کی نظر میں مطعون کیا گیا۔ جو قانونی ڈھانچہ اُن کی آزادیِ عمل کا ضامن تھا اُسے بتدریج ختم کیا گیا۔ سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی کی مدت، قانونی طور پر حکمرانوں کے عرصۂ خوشنودی سے منسلک ہو گئی۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ اِس تبدیلی سے اختیارات کے استعمال میں غیر جانبداری کا جنازہ نکل جائے گا۔

اختیارات کے استعمال پر حدود و قیود قومی مفاد کے تحت ہوتے ہیں۔ اہلِ اقتدار کو اس کا ادراک نہیں۔ بیس سال پہلے ایک دفعہ اتفاقاً میرے دفتر میں حکومتی پارٹی کے چند ایم این اے جمع تھے۔ وہ اپنا حق سمجھ کر میرے منصبی اختیارات کا استعمال اپنے مفاد میں چاہتے تھے۔ یہ احساس نہیں تھا کہ اختیارات صرف قواعد و ضوابط کے تحت استعمال کیے جاتے ہیں۔ سمجھانے کے لیے عرض کی کہ دُنیا کا طاقتور ترین شخص امریکہ کا صدر سمجھا جاتا ہے مگر اپنے بھانجے، بھتیجے کو‘ جس نے ٹیسٹ پاس نہ کیا ہو، ڈرائیونگ لائسنس نہیں دلوا سکتا۔ دوسری مثال دی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم کا اختیار نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کا ٹریفک چالان ہی چھڑوا دے۔ بیوروکریسی سیاست کا دبائو کب تک برداشت کرتی۔ بارگاہِ اقتدار میں سجدہ ریز ہوئی تو شریکِ جرم بنی۔ کلیدی عہدوں پر تعیناتی کے لیے قانون اور ضابطوں میں لچک پیدا کرنا، قابلیت کا معیار ٹھہرا۔ غیر سیاسی سول سروس کا نظام، سیاست زدہ ہو کر حکمران پارٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہوا۔ جو اہلکار اس گروہ بندی کا حصہ بنے وہ عطا اور عنایت کی بارش میں نہا گئے۔

اسی بارے میں: ۔  غداری کا اصل مفہوم

پاناما کیس کا فیصلہ آ چکا ہے۔ تلاطم خیز سمندر کی نئی لہر، ڈولتی کشتی کے لیے ایک اور تھپیڑا۔ عوام کی نظریں تو ہر گھڑی اُفق پر گڑی رہتی ہیں۔ وہ اب بھی اپنی آنکھوں میں سہانے خواب سجائے بیٹھے ہیں۔ مگر ستر سال ہونے کو آئے، بد اعتمادی کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لیتے۔ ایک طوفان ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا منڈلانے لگتا ہے۔ بے یقینی کی فضا ملکی ترقی کے لیے زہرِ قاتل ہے، اِس کا ادراک نہیں۔ عوام محوِ حیرت ہیں کہ یہ ستم ظریفی کب تک جاری رہے گی؟ پانچ سال کے لیے قیادت کا چنائو اُن کا آئینی حق ٹھہرا۔ مگر ہر دفعہ اُن کے انتخاب پر انگلیاں اُٹھتی ہیں۔ اُنہیں کیا معلوم کہ ادارے تنزلی کی طرف مائل ہوں تو ہر اونٹ خیمے سے بدو کو باہر نکالنے میں کوشاں رہتا ہے۔

قانون اور انصاف کے درمیان ایک پتلی سی لکیر ہے۔ جرگے کا نظام متروک ہوا تو انصاف کے لیے قانون کے تقاضے پورے کرنا لازم قرار پایا۔ قبائلی جبلت اس لکیر کا احترام نہیں کرتی مگر اُسے قابو میں رکھنا قاضی کے لیے واجب ہے۔ شوقِ انصاف، بے لگام ہو جائے تو فیصلے قانون کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ سستی شہرت ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے مگر یہ قیمت افراد نہیں، ادارے ادا کرتے ہیں۔

اہلِ سیاست کے لیے شہرت طلبی ایک فطری خواہش ہے۔ یہ شوق دوسرے ایوانوں تک پہنچ جائے تو دیمک کی طرح اُن کی حرمت کو چاٹ کھاتا ہے۔ بڑی بڑی قد آور شخصیات، منصب سے وفاداری پر قوم کے لیے مینارِ نور بن سکتی تھیں جو چیختی چلاتی سرخیوں اور ٹیلی وژن کے پردۂ سیمیں کی نذر ہو گئیں۔ اگر میڈیا کی فلیش لائٹ قلب و نظر کو منور کرنا شروع کر دے تو حیرت انگیز طور پر دماغی صلاحیت اپنی سمت کھو دیتی ہے۔

نفسانفسی کا دور ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ شوکت تھانوی کی سودیشی ریل میں جو کھینچا تانی نظر آئی، اُس کے سائے آج بھی قومی معاملات پر چھائے ہوئے ہیں۔ شوکت تھانوی کی دُور بین نگاہ کو سلام۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر محمود

بشکریہ: روز نامہ دنیا

zafar-mehmood has 21 posts and counting.See all posts by zafar-mehmood