ٹھٹہ: مندر پر حملہ کرنے والوں کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ


پاکستان کے سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں پولیس نے ایک مندر کی مورتیاں توڑ کر گٹر میں پھینکنے والے افراد کے خلاف توہین مذہب اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ واقعہ گھارو میں پیش آیا اور گھارو ٹاؤن کمیٹی کے اقلیتی کاؤنسلر لال مہیشوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مندر میں ہر ماہ چاند کی پہلی تاریخ کو بھنڈارہ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ جمعرات کی رات ایک بجے مندر میں ہی بیٹھے ہوئے تھے اور میلے کی تیاری کے سلسلے میں رنگ و روغن کیا جا رہا تھا۔  ان کا کہنا تھا کہ ’رات کو ایک بجے سے لے کر پانچ بجے کے درمیان کسی وقت شرپسندوں نے داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، جیسے ہی صبح لوگ پوجا کے لیے آئے تو مورتیاں موجود نہیں تھیں۔‘ لال مہیشوری کے مطابق صفائی والے نے مندر کے سامنے واقع سڑک کے قریب واقع گٹر میں کالی ماتا اور سائیں بابا کی تصاویر تیرتی دیکھیں اور جب مزید تلاش کیا گیا تو وییں سے مورتیاں برآمد ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس رام مندر میں شیو مہادیو، شری رام اور شیو لنگ کی مورتیاں موجود تھیں اور شری رام اور شیو لنگ کی مورتیوں کو پہلے توڑا گیا اور بعد میں بوری میں ڈال کر گٹر میں پھینکا گیا۔‘ لال مہشیوری کا کہنا ہے کہ پہلی بار اس نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شدت پسندی اور اشتعال پھیلانے کی کوشش ہے۔

اقلیتی امور کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر ڈاکٹر کھٹو مل کا کہنا ہے کہ انھوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے بات کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس شرپسندی کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں دائر کیا جائے اور اس میں انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب کی دفعات کو بھی شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر کھٹو مل کا کہنا تھا کہ یہ ایک سوچ کا عمل ہے، جو کچھ لوگوں اور کچھ تنظیموں میں پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے گا اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ایس ایس پی ٹھٹہ فدا حسین مستوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں مذہبی مقام کا تقدس پامال کرنے کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر شرارت کی گئی ہے، مندر کے قریب سے جو پیروں کے نشان ملے ہیں وہ گیارہ بارہ سالہ بچے کے ہیں تاہم تحقیقات تمام رخ سے کی جارہی ہے۔‘ خیال رہے کہ گھارو شہر کراچی سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس شہر میں ہندو کمیونٹی کے تقریباً دو ہزار گھر ہیں،جن میں مہیشوری، دیوان اور ہریجن شامل ہیں۔’ شہر میں اب کئی مدارس بھی بن چکے ہیں اور دیواروں پر بعض کالعدم تنظیموں کے نعرے بھی نظر آتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔