جمہوریت پاکستان کے لئے غیر موزوں ہے!


عوام کے سیاسی شعور کا معیار یہ طے کرتا ہے کہ ان کے لئے بہتر نظام ِحکومت کون سا ہو گا۔ جس قدر عوام بے شعور ہوں گے اتنا ہی سخت طرزِ حکومت ان کے لئے موثر ہوگا۔ اسی وجہ سے ارسطو نے جمہوریت کو بد ترین طرز حکومت کہا تھا کہ یونانی عوام اپنے صحیح غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام کو بھی جمہوریت راس نہیں ہے۔ جمہوری رویہ بڑے بلند کردار لوگوں کا خاصہ ہے۔ یہاں کے لوگ تو برائی پہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سارا محلہ مل کے واپڈا کے عملے کو رشوت دے کے بجلی چوری کرتا ہے۔ سرکاری محکموں کے ہزاروں ملازمین باہمی گٹھ جوڑ بنا کے کرپشن کرتے ہیں۔ کوئی ایک آواز بھی برائی کے خلاف بلند نہیں ہوتی۔ اس طرح کے لوگوں کو کیا حق ہے کہ انہیں جمہوری آزادی دی جائے؟

جمہوریت پسند کہتے ہیں کہ سب مسائل کا حل جمہوریت کا تسلسل ہے۔ منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دینا چاہیے۔ وجاہت مسعود صاحب لکھتے ہیں کہ ہم اپنے ہدف کی جستجو میں اس قدر اتاولے ہو جاتے ہیں کہ آئینی بندوبست کی حد بندیوں سے باہر نکلنے کو برا نہیں جانتے۔ عدالت کے دروازے سے اٹھتے ہیں تو چھاؤنی کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ جس آئینی بندوبست کی آپ بات کرتے ہیں وہ یہاں صرف پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں ملتا ہے۔ ہمارے ہاں بندوبست کی صورت یوں ہے کہ ادھر پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے بل کی حمایت کرتی ہے اور ادھر ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منظور ہو جاتی ہے۔ ایسی جمہوریت اور ایسے آئینی بندوبست سے خوش کن امیدیں کس طرح وابستہ کی جا سکتی ہیں۔

پچھلے دنوں زرداری صاحب نے جلسے سے خطاب کیا۔ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے پیٹ سے لوٹا ہوا پیسہ نکلواؤں گا۔ یہی دعوے دو ہزار گیارہ بارہ میں شہباز شریف صاحب کیا کرتے تھے۔ کرپشن کا پیسہ نکلوانا نہ شہباز شریف کا مقصود تھا، نہ زرداری کا ہے۔ یہ باتیں تو عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے کی جاتی ہیں۔ عزیر بلوچ نے کیا کیا انکشافات نہیں کئے۔ مخالفین کا قتل، زمینوں، جائیدادوں، فیکٹریوں پر قبضے۔ جرم اور سیاست کا یہ گٹھ جوڑ کوئی ڈھکی چھپی بات تو ہے نہیں۔ باغ تو سارا جانے ہے۔ لیکن ایسے لٹیروں کو جمہوریت کے نام پر کھل کھیلنے کا اختیار مل جاتا ہے کیونکہ عوام انہیں منتخب کرتے ہیں۔ وہ عوام جو اتنے بے بس اور بے حس ہیں کہ سب جانتے ہوئے بھی ان کے چنگل سے نکل نہیں سکتے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ اسی لئے تو یہاں جو جتنا بڑا غنڈہ ہوتا ہے اس کا اپنے علاقے پر اتنا ہی اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ اور ایسے بارسوخ افراد سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ حاصل کرکے عوام کے جمہوری نمائندے بن بیٹھتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے یا خود غرضی دکھائی جائے؟

جمہوریت کے حامی کہتے ہیں کہ عوام جب غلط حکمران منتخب کرنے کا خمیازہ بھگتیں گے تو ووٹ کا درست استعمال سیکھیں گے۔ حالانکہ حقیقت بالکل برعکس ہے۔ ناقص حکومتی کارکردگی کے باوجود سندھ میں بار بار ایک ہی جماعت حکومت بناتی آ رہی ہے۔ بھتہ خوری کریں یا بوریاں بنائیں، کراچی کا ووٹ ایم کیو ایم کا ہے۔ پنجاب میں پچھلے دس سالوں سے مسلسل مسلم لیگ نواز کی حکومت ہے۔ جن کے کریڈٹ پر صرف لاہور کا انفراسٹرکچر ہے۔ نہ عدالتوں اور تھانوں میں انصاف میسر ہے، نہ سکولوں میں تعلیم اور نہ ہی ہسپتالوں میں علاج۔ لیکن عوام ووٹ دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ کیونکہ ووٹ بدلنے سے چہرے تو تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن نظام وہی رہتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے پچھلے تین انتخابات میں تین مختلف پارٹیوں کو آزمایا لیکن کیا حاصل۔

اصولی طور پر جمہوریت ایک بہتر طرزِ حکومت ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ غیر موثر ہے کیونکہ ہمارے سیاستدان جمہوری نہیں ہیں۔ یہ لوگ آمریت کے خلاف بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان بیانات سے یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ یہ لوگ اصولی جمہوریت پسند ہیں۔ ان کا واحد اصول اپنے حکمرانی کے حق کا تحفظ ہے۔ جب فوج اس حق کو غصب کرے گی تو یہ جمہوریت کا نعرہ لگائیں گے۔ لیکن جب غیر جمہوری موروثی سیاست پر اعتراض وارد ہو گا تو انہوں نے اس آمریت کے تحفظ کے لئے بھی جواز گھڑ رکھے ہوں گے۔ ہماری سیاسی جماعتیں کسی بھی زاویے سے جمہوری نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کو ایک موروثی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح چلایا جاتا ہے۔ پارٹی کے اہم کارکنان بھی پارٹی لیڈر کی رائے سے اتنا ہی اختلاف کر سکتے ہیں جتنا کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کا تنخواہ دار ملازم اپنے سی ای او کی رائے سے اختلاف کر سکتا ہے بلکہ کمپنی ملازمین بھی ان کارکنان سے زیادہ با اختیار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پروسٹیٹ کینسر سے بچنے کے لیے جنسی فعل کیجیے۔ ہاورڈ یونیورسٹی

ایک سیاستدان سے آپ یہ توقع کر ہی نہیں سکتے کہ وہ اپنے لیڈر کی کسی غلطی کا اعتراف کر لے۔ میڈیا ٹاک شوز میں پارٹی کے صف اول کے رہنما بھی اپنے پارٹی لیڈر کا ایسے دفاع کرتے ہیں کہ جیسے وہ معصوم اور اغلاط سے مبرا ہوں۔ تحریک انصاف کا کوئی رہنما یہ نہیں مانے گا کہ عمران خان کو غیر ملکی کھلاڑیوں کے لئے پھٹیچر کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ نواز لیگ کے کسی رہنما کی یہ جرات نہیں کہ نواز شریف کو کہہ سکیں کہ ملکی وزیراعظم کا بیرون ملک ذاتی جائیدادیں بنانا غلط ہے۔ اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کا تو یہ عالم ہے کہ زرداری صاحب کی مبینہ کرپشن کے دفاع میں کرپشن کو ہی جائز اور قانونی قرار دے دیں گے۔ ایسی آمرانہ صورت حال میں وہ جمہوریت کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے کہ جس کی بنیاد ہی مشاورت اور اکثریتی رائے پر ہے۔

میرا مقصد فوجی آمریت کی حمایت کرنا نہیں ہے۔ لیکن میری ناقص رائے میں خالص جمہوریت پاکستان کے لئے موثر نہیں ہے۔ فوجی آمریت کے علاوہ بھی بہت راستے ہیں۔ ایم کیو ایم پہ مائنس ون فارمولہ بذریعہ مارشل لا نافذ نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ کنٹرول ترکی طرز کا فوجی کنٹرول ہو یا دستوری طرز کا عدالتی کنٹرول۔ کرپشن کے معاملات پر سیاستدانوں کا کڑا احتساب ہو اور سیاسی جماعتوں پر جمہوری طرز عمل سختی سے نافذ کیا جائے۔ جمہوریت کی آزادی بھی کچھ پابندیوں سے مشروط ہے۔ جو خود جمہوری رویوں کے پاسدار نہ ہوں انہیں جمہوریت کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کا حق بھی نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔