ملازمت میں کامیابی کے چند اصول


پہلا اصول

باس ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ آپ کو اگر ملازمت میں کامیاب ہونا ہے تو ایک بات ذہن میں رکھیں باس باس ہوتا ہے اور وہ جو کہتا، سوچتا اور کرتا ہے وہ درست ہوتا ہے۔ اس لیے کامیابی کے لیے چاپلوس ہونا اولین شرط ہے۔ اگر آپ میں یہ خوبی نہیں ہے تو ہمشہ صفر سے ابتدا کرنے کی ہمت ہونا ضروری ہے۔

دوسرا اصول

کتے اور انسانوں میں بہت سی صفات مشترک ہیں لیکن جو صفت سب سے زیادہ قابل تحسین ہے وہ ہے وفاداری۔ کامیاب ملازم ہونے کے لیے آپ کا غیر مشروط وفادار ہونا از حد ضروری ہے۔ ایک وفادار ملازم کو ادارے میں وہی مقام حاصل ہوتا ہے جو پوش گھرانوں میں کتے کو ڈرائینگ روم میں۔ اس وفاداری کا غیر مشروط ہونا لازم ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ اپنا کیا مقام چاہتے ہیں۔

تیسرا اصول

بلیو بینڈ بٹر کا پیکٹ ہمیشہ ساتھ رکھیں۔ مکھن وہ واحد صحت بخش غذا ہے جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ مادی ترقی کے لیے بھی بےحد ضروری ہے۔ جب بھی سنئیر کا مزاج بگڑا نظر آئے مکھن لگائیں فائدہ نہ ہو تو آپ نے کون سا  پیسے دیے ہیں جو میں واپس کروں؟

چوتھا اصول

اگر آپ نجی ادارے کے ملازم ہیں تو ذہنی طور پہ تیار رہیے کہ اگر آپ سپر نیچرل طاقتوں کے بھی مالک ہوں تب بھی آپ اپنے آجر کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ آپ اسے خوش کرنے کے لیے مر بھی جائیں تو کہا یہی جائے گا کمینگی کی ہے ٹھیک سے نہیں مرا۔ اس لیے اپنا بہترین کام کرنے اور پوری صلاحیت استعمال کرنے کے بعد بھی کڑی تنقید کے لیے تیار رہیے کہ یہ آپ کی گرومنگ کا حصہ ہے۔ جو آپ کو قائد اعظم بنا دے گی لیکن جیب خالی رہے گی۔

اسی بارے میں: ۔  22 اکتوبر کی سیاہی اور لہو لہو کشمیر

پانچوں اصول

ادارے کی پالیسی کا پالن کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر کوئی باس کا فیورٹ ایسا نہیں کرتا تو اس کا حساب کتاب قبر میں ہو گا۔ دنیا میں حساب کتاب دینا صرف آپ کی ذمہ داری ہے۔ اور پالیسی کو توڑنے کےجواب دہ آپ اسی دنیا میں ہیں۔ خود کو خدائی فوج دار سمجھتے ہوئے اسی آسرے پہ کام کرتے رہیں کہ اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہاں بدلہ ضرور ملے گا۔

چھٹا اصول

کان کھلے اور منہ بند رکھیے۔ فرمابرداری کامیابی کا انتہائی اہم اصول ہے اس لیے ہاں میں ہاں ملائیے اور چونچ بند رکھیے۔ آقاؤں کو خوش رکھنے کا یہ آزمودہ اور قدیم نسخہ ہے۔ اگر زبان میں خارش رہتی ہے تو خود کو سنئیرز کی پہنچ سے دور رکھیے ورنہ طبعیت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ساتواں اصول

خود کو انسان سمجھنے کی غلطی مت کیجیئے۔ چونکہ آپ ایک ادارے کے ملازم ہیں اس لیے آپ کو کوئی حق نہیں ہے کہ آپ بیمار ہوں اور اچانک ہوں۔ یا آپ کی کوئی فیلمی ہو جیسے وقت چاہیے ہو، آپ پر غمی خوشی سب حرام ہے۔ خود کو ربورٹ سمجھتے ہوئے کام کریں اور فضول بہانوں سے احتراز کرتے ہوئے جانفشانی سے کام کیجئے۔

آٹھواں اصول

غلطی نا قابل قبول اور ناقابل معافی ہے۔ غلطی انسانی سرشت ہے لیکن ایک ملازم انسان نہیں ہوتا اس لیے اس سے غلطی کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی اس کی معافی کا امکان ہے۔ وضاحت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو بات ہے ہی نا ممکن اس کی وضاحت کیسی۔ اس لیے غلطی کبھی مت کیجئیے یہ آپ کی کریڈیبیلٹی کا سوال ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بیوی؟ بلی اور اسلامی نظریاتی کونسل

نواں اصول

اپنے کتے کو کتا ہی سمجھیے وہ ٹامی نہیں ہو سکتا۔ اگر باس کر مزاج کے خلاف کوئی بات کی جائے تو اس کو کرنا پالیسی سے اختلاف ہے لیکن اگر وہی حرکت باس خود یا اس کا چمچہ کرے تو سمجھئے ان کا کتا ہمیشہ ٹامی ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اپنے کتے کو ٹامی ثابت کرنے پہ وقت ضائع مت کیجئے۔

دسواں اور آخری اصول

 ادارے کے مالی مسائل آپ کے ہیں لیکن آپ کے مالی مسائل کا ادارے سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ آپ ادارے کے وفادار ہیں ادارہ آپ کا وفادار نہیں ہے۔ اس لیے تنخواہ میں دیر ہونے، مناسب انکریمنٹ نہ لگنے کی صورت میں ادارے کے مسائل کو سمجھیے۔ پالیسی، پالیسی ہوتی ہے اور سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس میں کسی کو استثنا حاصل نہیں ہوتا۔ بے غرض ہونے میں ہی بھلائی ہے اس لیے خاموشی سے اپنے مسائل سے خود نمٹیے۔ ادارے نے آپ کو اپنی سہولت کے لیے مقرر کیا ہے نہ کہ آپ کے مسائل سلجھانے کے لیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔