مشال خان کے قاتلوں کی حمایت


مردان میں ایک مذہبی تنظیم متحدہ علما کونسل کے زیر اہتمام کل نماز جمعہ کے بعد عبد الولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے الزام میں گرفتار لوگوں کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا گیا۔ مشال خان کو 13 اپریل کو یونیورسٹی طالب علموں کے ایک مشتعل ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس پر توہین مذہب اور اہانت رسولؐ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پولیس نے تحقیقات کے بعد واضح کیا تھا کہ مشال پر توہین مذہب کے حوالے سے کسی الزام کا ثبوت نہیں ملا۔ اس سفاکانہ قتل پر ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی اور مشال کے قتل میں ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لئے مظاہرےکیے گئے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس قتل کی مذمت کی ہے۔ قومی اسمبلی نے ایک قرار داد میں اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا تھا۔ تاہم اب مشال کے قاتلوں کی حمایت میں کیے گئے مظاہرہ میں اے این پی کے سوا سب سیاسی پارٹیوں کے نمائیندے شریک تھے۔

ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کل نماز جمعہ کے بعد مردان کے پاکستان چوک میں جمع ہوئے۔ ان میں متعدد سیاسی جماعتوں کے نمائیندے شریک تھے۔ احتجاج کرنے والوں میں خیبر پختون خوا اسمبلی کے سابق اسپیکر اکرام اللہ شاہد، سابق ایم پی اے مولانا امانت شاہ، مسلم لیگ کے عنایت شاہ باچا اور جماعت اسلامی کے عطاء الرحمان شامل تھے۔ مظاہرے کی قیادت کرنے والوں نے اعلان کیا کہ تاجر حب رسول ؐ میں دکانیں بند کردیں۔ اس اعلان کے دس منٹ کے اندر سارا بازار بند ہوگیا۔ مظاہرہ میں 8 ہزار لوگوں کی شرکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقررین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مشال خان کے قتل کے الزام میں گرفتار لوگوں کوحقیقی مسلمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا مذہبی فریضہ ادا کیا تھا۔ اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یہ بیانیہ مشال کے قتل کے بعد سامنے آنے والی معلومات اور اس قتل کے عوامل کے برعکس ہونے کے علاوہ ایک ایسے رویہ کا مظہر ہے جس کے تحت توہین مذہب کے معاملہ میں لوگوں کو قانون کی پرواہ کرنے کی بجائے خود اقدام کرنے اور الزام کی صورت میں کسی بھی شخص کو ہلاک کرنے پر اکساتا ہے۔ ملک کے اکثر علما اور مذہبی جماعتیں اس نقطہ نظر کو مسترد کرتی ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس رویہ کے کو ختم کرنے کے لئے مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔ اور نہ ہی توہین مذہب کے نام پر ہونے والی لاقانونیت پر آواز بلند کی ہے۔

مشال خان قتل کا سانحہ دردناک اور صریح لاقانونیت کا مظاہرہ تھا۔ بعد میں پولیس نے اس پر بظاہر عائدکیے گئے توہین مذہب کے الزامات کو بلا جواز قرار دیا تھا۔ یہ معلومات بھی سامنے آچکی ہیں کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کا نوجوان طالب علم انتظامیہ کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے بعض کرتا دھرتا اس سے ناراض تھے۔ مشال خان پر حملہ کرکے اسے قتل کرنے کی سازش بھی مبینہ طور پر یونیورسٹی کے دفتر میں تیار کی گئی تھی۔ پولیس نے اس الزام میں یونیورسٹی کی سیکورٹی کے انچارج کو بھی گرفتار کیا ہے جو یہ مظاہرہ کروانے اور طالب علموں کو مشال خان کو قتل کرنے کے لئے اکسانے میں ملوث تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے علاوہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی اس بہیمانہ جرم کا نوٹس لیا تھا اور ایک سہ رکنی بینچ مشال خان قتل کیس میں پیش رفت کی نگرانی کررہا ہے۔

اس صورت حال میں مردان میں سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں سمیت ہزاروں لوگوں کے مظاہرے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بعض عناصر مذہب کے نام پر گمراہ کرنے اور ملک کی حکومت اور اعلیٰ ترین عدالت کے احکامات کو ٹھکرانے میں بدستور سرگرم ہیں۔ وزیر اعظم ملک میں نئے مذہبی بیانیہ پر زور دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کی حفاظت اور سب کو انصاف فراہم کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی حکومت ملک کے قوانین کا احترام کروائے بغیر اپنی اتھارٹی کھو بیٹھتی ہے۔ مردان میں مظاہرہ کرکے حکومت کی اسی اتھارٹی کو چیلنج کیاگیا ہے۔

وفاقی حکومت کے علاوہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی مشال خان قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وعدہ کر چکے ہیں کہ اس جرم میں ملوث ہر شخص کی گرفت کی جائے گی اور اسے سزا دلوائی جائے گی۔ تاہم اگر بعض مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی سربراہی میں اب قاتلوں کو مذہبی فریضہ ادا کرنے والے مومنین اور ان کی حمایت میں دکانیں بند کرنے کو پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا تقاضہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ملک میں تشدد اور دہشت عام کرنے کی سرپرستی کرنے کے مترادف ہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف قانون شکنوں کی حمایت کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ ملک میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف قانون کے باغی ہیں بلکہ مذہب اور دہشت کے خلاف سرکاری حکمت عملی کے بھی خلاف برسر عمل ہیں جو بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

کیا یہ توقع کی جائے کہ ملک کے وزیر داخلہ اور خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اس واقعہ کا سخت نوٹس لیں گے اور اس افسوسناک مظاہرہ کا اہتمام کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والے لیڈروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ لوگ اصل قاتلوں سے بھی زیادہ خطرناک اور ضرررساں ہیں۔ اگر حکومت ان لوگوں کی گرفت نہ کرسکی اور انہیں قرار واقعی سزا نہ دلوائی گئی تو اس ملک میں انتہا پسندی کے خلاف کی جانے والی ساری بیان بازی اور دعوے بے سود ہوں گے۔ عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ملک کے سیاسی لیڈر اور حکومتیں اس بارے میں مصلحتوں کا شکار ہیں اور معاشرے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نجات دلوانے کی اہل نہیں ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 669 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali