کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی


جہاز کے نیچے والے حصّے میں پانی بھرتا جا رہا ہے، ہر چیز تیرتی جا رہی ہے جب کہ اوپر والے عرشے میں یونی فارم پہنے باادب بیرے اعلیٰ درجے کی شراب پیش کر رہے ہیں، موسیقی بج رہی ہے، لوگ خوش گپیّوں میں مصروف ہیں۔ زندگی کے قہقہے چہچہے جو تیزی سے بڑھتے ہوئے پانی سے بے خبر ہیں۔

’’ٹائی ٹینک‘‘ فلم کا یہ سین مجھے کسی نے یاد نہیں دلایا۔ میں تو شاعری سُن کر سِحر زدہ ہوا جارہا تھا۔ نظم کا عنوان’’بدشگونی‘‘ انھوں نے خودبھی نہیں پڑھا اور نہ کسی نے یاد دلایا۔

اسلام آباد کی خوش گوار شام میں افتخار عارف کی آواز رچی ہوئی تھی۔ لٹریچر فیسٹیول کا ہنگامہ عروج پر تھا۔ شاعر کے ایک طرف حارث خلیق تشریف فرما تھے، دوسری طرف میں۔ گویا ان کے کاندھوں پر دو نگران فرشتے بٹھا دیے گئے تھے۔ اور وہ نظم پڑھ رہے تھے:

’’عجب گھڑی تھی

کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھے

مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا

نظر میں اک اور ہی جہاں تھا۔۔۔‘‘

افتخار عارف کا پڑھنا بھی غضب کا اور کلام زور دار۔ ایک سماں بندھ گیا۔ وہ کئی برس کے بعد واپس پاکستان آگئے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان کا آنا بھی خوب ہے، اس دفعہ فیسٹول کا رنگ اچھی طرح جمے گا۔

کتاب پر اس وقت تک نظر نہیں پڑی تھی۔

ادب کے اس جشن میں لوگ جوق در جوق آرہے تھے۔ سب کی دل چسپی کے بہت سے رنگ تھے۔ میں بھی مگن تھا کہ اتنے دنوں سے اس کی تیاری ہوتی رہی ہے تو اب رنگ چوکھا آیا۔

کئی طرح کے بحث طلب موضوعات۔ معتبر شرکاء۔ کئی پرانے دوستوں سے ملاقات۔ بعض نئے لوگوں سے تعارف۔ کتابیں اور کتابوں کی باتیں۔ میلے میں آئے ہوئے۔ بچّے کی طرح ہیں ایک بار پھر کھویا گیا۔

بعض اجلاس کئی اعتبار سے یادگار رہے۔ جدید افسانے کے انتخاب کے حوالے سے مسعود اشعر اور خالدہ حسین اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے۔ گفتگو کی عنان حمید شاہد نے سنبھالی۔ خالدہ حسین ادبی محفلوں سے دور رہتی ہیں۔ اس لیے ان کی آمد سے تقریب کے وقار میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے سنجیدہ اور مربوط گفتگو کی۔ آج کے ادب میں دہشت گردی کے ساتھ محبّت کا شگوفہ کس طرح کھلا ہے، حمید شاہد کے ساتھ عرفان عرضی، روش ندیم اور قاسم یعقوب نے مسائل کو اجاگر کیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے صحافت کی دنیا میں کیا انقلاب برپا ہورہا ہے۔ ہم سب کی ٹیم وہاں موجود تھی مگر مجھے اس اجلاس سے جلدی نکلنا پڑا کیوں کہ میراجی کے بارے میں ناصر عباس نیّر کی نئی کتاب کا تعارف مجھے کرانا تھا۔ روایت پرستی کے بجائے ماضی سے رابطے اور آج کے شدّت پسند بیانیے کا مترادف ناصر عباس نیّر نے میرا جی کی شاعری میں نمایاں کیا ہے، وہ تفصیلی مطالعے کی حق دار ہے۔

اسی بارے میں: ۔  نیا چیف پرانے فین

ایک اور اہم سیشن احمد ندیم قاسمی کے حوالے سے تھا جس میں ضیاء الحسن اور مسعود اشعر کے علاوہ ناہید قاسمی نے شرکت کی۔ میں نے اس میں یاد دلایا کہ قاسمی صاحب کی ادبی شخصیت کا بہت اہم پہلو ان کی ادارت ہے۔ ’’فنون‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے بہت سے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، جن میں مَیں بھی شامل ہوں۔

فواد خان اور بختاور مظہر نے عصمت چغتائی کی کہانیاں پڑھیں۔ نمرہ اور سرمد کھوسٹ نے امرتا پریتم اور ساحر لدھیانوی کو اس طرح مکالمہ کرتے ہوئے دکھایا جو وہ اپنی زندگی میں کم اور کتابوں میں زیادہ کرتے ہیں۔ انور مقصود نے مزاح کے شوخ رنگ بکھیرے ۔ انگریزی زبان و ادب میں الگ اجلاس تھے جن کے ذکر کےلیے ایک الگ دفتر چاہیے۔ دیکھنے سننے کے لیے اتنا کچھ تھا کہ بعض وقت یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کدھر جائوں۔ مگر میں اس کے بجائے کچھ اور باتیں لکھنا چاہ رہا ہوں۔

لیکن یہ بدشگونی کی گھڑی بھی تھی۔

سندھ کی باہمت اور ذہین سیاست داں نفیسہ شاہ کی نئی کتاب کی تقریب ہوئی۔ آخری دن انھوں نے کلیدی خطبہ جس میں خطرے کی گھنٹی صاف سنائی دے رہی تھی۔

ڈھائی تین دنوں کے پورے فیسٹول میں شاید کوئی اجلاس ایسا نہ تھا جس میں مردان یونیورسٹی کے سنگین واقعات کی گونج نہ سنائی دی ہو۔ میںنے اپنے افتتاحی کلمات میں اس کا ذکر کیا، اس کے بعد اس حوالے سے ایک پرفارمنس پیش کی گئی جو مشال خان کے لیے معنون کی گئی۔ آخری اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ نفیسہ شاہ کے خطبے کی بعض باتوں سے میں اتفاق نہیں کرتا مگر انھوں نے ایک بات ایسی کہی جو دل میں چُبھ گئی۔ انھوں نے یونیورسٹیوں میں تیزی سے بگڑتے ہوئے ماحول کا حوالہ دے کر کہا، اب یونیورسٹیاں نئے مدرسے بن گئی ہیں۔ یعنی مدرستوں پر رجعت اور شدّت کا الزام لگایا جاتا تھا اور یونیورسٹیاں پڑھے لکھے نوجوان کے لیے آزادی کی فضا فراہم کرتی تھیں۔ اب معاملہ الٹ ہوگیا ہے۔

تعلیم یافتہ طبقے کے لیے فضا کیسے محدود ہوتی جارہی ہے، اس کا اندازہ دو الگ الگ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو ایک دوسرے سے مُنسلک نہیں تھے مگر ایک ہی جانب اشارہ کررہے ہیں۔

ہفتے کی شام کو مشاعرہ تھا جس کی نظامت شکیل جاذب نے بڑی عمدگی سے کی اور نوجوان شاعروں نے خوب رنگ جمایا، جیسے سعید شارق، عمران عامی، سعید احمد، رحمان فارس، قاسم یعقوب اور دوسرے دوست۔ صدارت ہماری سینئر شاعرہ کشور ناہید کی تھی اور حسبِ رویت وہ آخر میں پڑھ رہی تھیں۔ انھوں نے ایک حالیہ نظم پڑھنے سے پہلے اس کا پس منظر بتایا اور نظم آدھی پڑھی ہوگی کہ کچھ شور سنائی دیا۔ سامعین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور ان سے دوبدو مخاطب ہو کر کچھ ایسا اعتراض کرنے لگا کہ جن کا دیا ہوا کھاتے ہیں، ان ہی کے خلاف بولتے ہیں۔ اس نے چیخ کر غدار اور منافق کہا، شیم! شیم کے نعرے لگائے۔ پھر اس نے پوری آواز میں گالی بکی۔

اسی بارے میں: ۔  لبرل اخلاقیات میں سانجھ، رواداری، جستجو اور ہمدردی

قریب بیٹھے ہوئے لوگوں نے ڈپٹ کر اسے چُپ کرا دیا۔ تالیوں کی گونج میں کشور ناہید اپنا کلام پڑھتی رہیں اور مشاعرہ مزید کسی تلخی کے بغیر اختتام کو پہنچا۔ شرم ناک یہ نظم نہیں بلکہ  کشور ناہید جیسی سینئر شاعرہ کے ساتھ یہ سلوک شرم ناک ہے۔

فیسٹول کی اس مرتبہ کی خاص تھیم کے حوالے سے ایک اجلاس پاکستان کے ستّر برس کے حوالے سے تھا اور اس میں سعید حسن خاں تقسیم اور آزادی کی سیاست کے بارے میں بات کررہے تھے۔ اسٹیج پر عارفہ سیّدہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ سعید حسن خان نے 1940 کی قرارداد کے بارے میں بتایا کہ اس میں اکثریتی صوبوں کا ذکر تھا، پاکستان کا نام نہیں تھا اور علامہ اقبال نے اس سے پہلے اس بارے میں اپنا نقطہ نظر ایک اخباری خط میں واضح کیا تھا۔ پھر انہوں نے عائشہ جلال کی کتاب کا حوالہ دیا کہ قائد اعظم ایسی تقسیم کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس پر سامعین سے ایک شخص نے زور زور سے کہنا شروع کر دیا کہ تم دو قومی نظریے کے مخالف ہو۔ تمہارے لئے یہاں جگہ نہیں ہے۔  تم واپس چلے جاؤ۔ دوسروں کے لئے زمیں تنگ کرنے والے اس شخص کو بھی چپ کر دیا گیا مگر ذرا دیر میں وہ ساری ماحول میں تلخی گھول گیا۔

یہاں یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ پبلک میں کیے جانے والے مکالمے کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور چیخ کر دوسروں کی آواز دبا دینے سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔ بہرحال معاشرے میں عدم روا داری اور برداشت کی کمی جس تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، اس سے آحر یہ فیسٹول کب تک بچ سکتا تھا۔ معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے۔ وہ یہاں بھی نظر آئے گا۔

بدشگونی ہوچکی ہے۔ لیکن میرا جی چاہتا ہے دوڑ کر جائوں اور کیچڑ میں گری ہوئی کتاب کو اٹھا لوں۔ سینے سے لگا لوں۔ افتخار عارف کی وہی نظم ذہن میں گونج رہی ہے۔

’’عجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو

عجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہو

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو

ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کردیں

عجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیں۔۔۔‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔