ڈان لیکس: دو معافی ناموں کی کہانی


 یکم اپریل 2001 ء کو امریکی سراغرسانی کا ایک بڑا جہاز چین کی جاسوسی کے لئے ایک متنازعہ چینی جزیرے ہنان آئی لینڈ کے قریب پرواز کر رہا تھا جب چینی جنگی جہازوں نے امریکی جہاز کے عملے کو ڈرانے کے لئے اس کے ارد گرد انتہائی قریبی پروازیں کیں۔ اسی دوران ایک چینی جیٹ امریکی جہاز سے ٹکرا کر کریش ہو گیا جبکہ امریکی جہاز کو کافی نقصان ہوا۔ نقصان کے باوجود امریکی جہاز چین کے زیر قبضہ ہنان آئی لینڈ کے ایئر پورٹ پر اترنے میں کامیاب ہو گیا۔ 24 افراد پر مشتمل عملے کو چین کے قید کر لیا۔ اور دنیا پر ثابت کیا کہ کیسے امریکی ان کی جاسوسی کرتے رہتے ہیں۔

امریکیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا اور ہمارا جہاز بین الاقوامی حدود میں تھا۔اور اپنے جہاز کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ جیسا کہ امریکیوں کا قاعدہ ہے ان کا لہجہ کافی جارحانہ تھا۔ کچھ دن کی کشمکش کے بعد چین نے اس واقعہ پر امریکہ سے معافی مانگنے کامطالبہ کر ڈالا۔ امریکی اس مطالبے پر بہت طیش میں آئے لیکن 24 امریکی چین میں قید تھے۔

جارج بش جونیئر نئے نئے صدر منتخب ہوئے تھے وہ سپرپاور امریکہ کے صدر بننے کےبعد بہت اونچی ہواؤں میں تھے۔ ان کی ہدایت پر چاروناچار امریکی دفتر خارجہ نے چین میں امریکی سفیر جوزف پروؤر نے چینی دفتر خارجہ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے چینی جیٹ کے پائلٹ کی ہلاکت اور امریکی جہاز کے چینی حدود کے اتنے قریب جانے پر افسوس کا اظہار کیاتھا۔ چینی میڈیا نے ان کے اظہار افسوس کو امریکہ کی جانب سے معافی نامہ قرار دیا۔ جس پر امریکی دفتر خارجہ نے جواب دیا کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور نہ ہم نے معافی مانگی ہے۔

چینی بھی ہٹ دھرمی پر اتر آئے۔ انہوں نے کہا کہ معافی نامے میں درست الفاظ استعمال کئے جائیں اور دوبارہ معافی نامہ تحریر کیا جائے۔ امریکیوں کے لئے چینی مطالبہ ایک بالکل نئی چیز تھی۔ ایک عام سا ایشو اس مطالبے کی وجہ سے ایک بریکنگ نیوز بن گیا۔ دنیا انتظار میں تھی کہ اب امریکہ چین پر کون سا بم گراتا ہے۔ کچھ دن کی سفارتی کشمکش کے بعد بالآخر امریکہ چین کی ضد کے سامنے جھک گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا، چینی معذرت نامے کے لئے جو الفاظ منتخب کریں گے ہم وہی الفاظ ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

یوں ایک بڑا بین الاقوامی بحران حل ہوا۔ اس بحران کے حل ہونے میں تیرہ دن لگے۔ چینیوں نے امریکی عملے کی خوراک اور رہائش کے اخراجات کے لئے امریکہ سے تقریباً35 ہزار ڈالر وصول کئے۔ جب امریکہ نے اپنا جہاز واپس مانگا تو چین نے جہاز کی واپسی میں تاخیری حربے استعمال کئے۔ اور سارا جہاز کھول ڈالا، یہ جہاز امریکہ کو 13 جولائی 2001 ء میں سکریپ کی صورت میں واپس ملا۔

چین نے امریکہ اور دنیا کو دکھا دیا کہ امریکہ سپر پاور ضرور ہو گا لیکن مستقل مزاجی تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا کر رکھ دیتی ہے سپرپاور کیا چیز ہے۔

چین بھوکا ننگا ملک ہر گز نہیں تھا۔ صنعتی و معاشی ترقی کی جانب چین کئی قدم اٹھا چکا تھا۔ لیکن اس نے امریکیوں کو دو بار معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ اور تاوان کے طور پر رقم بھی وصول کی۔

ڈان لیکس کا ایشو کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں۔ کم از کم اخبار پڑھنے والے، ٹی وی چینل دیکھنے والے اور سوشل میڈیا یوزر بخوبی جانتے ہیں کہ جو مواد اس خبر میں بیان کیا گیا وہ کس حد تک سچائی پر مبنی ہے۔ ابھی احسان اللہ احسان کے ایشو پر ہی جو کچھ لکھا اور کہا گیا وہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کیا سوچتے ہیں۔

اس ایشو کو حل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کی جانے والی ہر کوشش کو مسلسل اور فوراً کی بنیاد پر رد کیا جانا ویسی ہی پریکٹس ہے جس کا مظاہرہ چین نے کیا تھا۔ یہ ایسی پاورز کا ٹکراؤ ہے جن میں انا اور ضد کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ دل نہ مانے ہار او سجناں دل نہ مانے ہار۔ مسئلہ صرف اتنا سا ہے کہ سول حکومت نے ایک ادارے کو By The Bookچلانے کی بجائے غلط طریقے سے دبانے کی کوشش کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد محض ادارے پر کیچڑ اچھالنا تھا، حالات کو سلجھانے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش ہر گز نہ تھی۔ سنجیدہ کوشش کی بھی کیسے جا سکتی ہے کہ کالعدم لوگوں کے پاس ایک سے زیادہ چھتریاں ہیں۔ اور کوئی بھی ان کے سر سے چھتریاں اتارنے کو تیار نہیں۔ پرانے زمانے کے لوگ اس لحاظ سے بہتر ہوا کرتے تھے کہ وہ اپنے مخالف کو بھی نیچا دکھانے کے لئے کافی باوقار انداز اختیار کرتے تھے اور سوچ بچار سے کام لیتے تھے۔ جب معدے سے دماغ کام لینا شروع کر دیا جائے اور خرید کر اپنے ارد گرد دانشور اکٹھے کر لئے جائیں تو پھر ایسے ہی بحران سامنے آتے ہیں۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سول حکومت اس بحران سے بخیر و عافیت باہر نکل آئے گی۔ بات دوسرے ادارے کی نہیں اپنے طرز عمل کی ہے۔ اور افسوس کہ اپنا طرز عمل کچھ زیادہ باوقار نہیں تھا۔ ایسے حالات میں آپ کی کی گئی ہر کوشش اسی طرح ناکامی سے دو چار ہو گی لیکن ایک سال کی ہی تو بات ہے۔ اگر عدالت آپ کو وقت دے سکتی ہے تو دوسرے ادارے بھی آپ کو اتنی مہلت تو ضرور دیں گے کہ آپ مظلوم بننے کی بجائے اپنے دامن پر اسی طرح کے داغ لے کر عوام کی عدالت میں جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔