دعائے خیرکی اپیل ہے


پاکستان میں پانامہ لیکس، بھارتی تاجروں کی اچانک آمد اور ڈان لیکس کے بیچوں بیچ ایک نئی آویزش جنم لے رہی ہے جس کے بارے میں ابھی تک اتنے زیادہ خدشات نہیں پائے جاتے تھے اور ایک عمومی خیال یہ تھا کہ سول حکومت اور فوج کا ادارہ کسی تنازعے میں اُلجھنے سے حتی المقدور گریز کریں گے۔ ڈان لیکس پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزریراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک متنازعہ نوٹی فکیشن کے بعد پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے اس قسم کے حکم نامے کو مسترد کردینے کے ٹویٹ کے بعد چوہدری نثار علی نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ کسی طرح اس تنازعے کو غیرفعال بنایا جائے لیکن غلط فہمی کی جڑیں سرعت کے ساتھ وفاقی دارلحکومت میں اقتدار کی تمام تر راہداریوں میں اترنا شروع ہو گئی ہیں۔ جلتی پر تیل کا کام کرنے کے تمام تر ماہرین یکجا ہوچکے ہیں اور میڈیا پر گھڑی کی ٹک ٹک آسانی کے ساتھ سنی جا سکتی ہے۔ تاسف بھرے لہجوں میں بُری خبریں سنانے والے یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ میاں نواز شریف اپنے پاوئں پر کلہاڑا مارنے سے کبھی نہیں چوکتے، حتی کہ وہ ابھی سپریم کورٹ کے جھولتے ہوئے کلہاڑے سے بال بال بچے ہیں لیکن روایتی عجلت میں ایک بار پھر اپنے آپ کو شدید زخمی کربیٹھے ہیں۔ آنے والے دو تین روز ایسی ہی گرما گرم خبروں اور پیش گوئیوں سے لبریز ہوں گے۔ اس دوران کہیں کسی کونے سے یہ آواز نہیں اُبھرے گی کہ وزیراعظم اگر کوئی حکم نہ جاری کرے تو کون کرے؟ اور کیا وزیراعظم کے کسی قانونی و آئینی اختیار کو اس کا ماتحت ادارہ بے رحمی کے ساتھ مسترد کرسکتا ہے؟ ملکی ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھے سیاسی دانش وروں اور ماہرین کا مشترکہ خیال ہے کہ وزیراعظم نے ایک قومی ادارے کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ بلکہ اکثر ماہرین اپنے تبصروں میں اس تاثر کو اُبھار رہے ہیں کہ وزیراعظم، اُن کی کابینہ اور پاک فوج دومخالف ادارے ہیں اوراگر اِن کے درمیان کہیں کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت مزید محب الوطن نہیں رہے اورفوری طور پر اِنہیں زبردستی اقتدار چھوڑ دینے پر مجبور کردینا ہی عین قومی مفاد کے مطابق ہے۔ یہ ایک ایسا تاثر ہے جس کو خواہشات کی خوراک پر پالا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ سول حکومتیں بنائی ہی قبل ازوقت برخاست کرنے کے لیے جاتی ہیں اور جب کبھی ایسا محسوس ہو کہ سول حکومتیں فوج کے مقابل آنے کی کوشش کررہی ہیں اِنہیں فوری طور پر نیست و نابود کردیا جائے۔

اسی بارے میں: ۔  دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا

ڈان لیکس پر تفصیل کے ساتھ بہت کچھ بیان ہوچکا ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کو اُن کے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے جب کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق کارروائی ابھی جاری تھی کہ اچانک ایک قضیہ شروع ہوگیا۔ وزیرداخلہ کا موقف ہے کہ ابھی کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا اور اگر ایسا کچھ ہوا تو وزارت داخلہ ہی کرے گی کوئی دوسرا نہیں۔ لاتعداد ٹی وی مبصرین ایسی ہی کشمکش کے خدوخال بیان کرنے میں ایک عرصے سے مصروف تھے بلکہ ہمارے ایک انتہائی ’باخبر‘ صحافی کئی ایسی اہم ترین ملاقاتوں کی اندرونی کہانی بھی بیان کرتے رہے ہیں جس میں وہ کئی اہم عہدے داروں کے چہروں کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکات اور کئی دوسرے عوامل سے قومی سیاست کے اہم واقعات کی تفسیر و تعبیرکرتے پائے جاتے ہیں۔

عام طور پر ہمارے ہاں سول حکومتیں شکست فاش سے دوچار ہوتی ہیں ۔ ناپسندیدہ سول حکومتوں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کو یا تو پھانسی دے دی جاتی ہے یا جلاوطن کردیا جاتا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اِن کے خلاف بے دھڑک فیصلے دیتی ہیں اور سب سے ناپسندیدہ کرداروں کو کسی معینہ مدت کے لیے سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے کہ سول حکومتیں اُس روایتی کمزوری کی حامل ہوتی ہیں جس کی جزئیات سے ہماری قومی سیاسی تاریخ بھری پڑی ہے۔ موجودہ سول حکومت بھی ماضی کی کئی سول حکومتوں کی طرح کی ایک محض سول حکومت ہے جس کے کئی عہدیدار ماضی میں انتہائی ناپسندیدہ قرار دئیے جاچکے ہیں، سزائیں بھگت چکے ہیں اوراگلی مرتبہ سزائیں بھگتنے کے لیے اُن کو یقینی طور تیار ہونا پڑے گا۔ بصورت دیگر سزا پھر بھی بھگتنا ہوگی۔

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی سول حکومت کی حمایت کررہے ہیں تو لازمی طور پر ملکی افواج کے خلاف ہیں کیوں کہ ہماری روایتی سوچ کے تمام دھاروں میں یہ نکتہ پوری قوت کے ساتھ بیٹھ چکا ہے کہ سول حکومتیں اور افواج پاکستان ایک دوسرے کی مخالف قوتیں ہیں ۔ افواج اگر سول حکومتوں کے لیے مسائل کھڑے نہ کریں تو پھر سمجھیں کہ فوج کا کوئی اعلیٰ عہدیدار اپنا فرض اچھی طرح نہیں نبھا رہا بلکہ مذکورہ اعلیٰ عہدیدارہمارے دانش ورانہ اندازوں کے مطابق بڑے فیصلے لینے سے قاصر ہے۔ ایسا کئی بار ہوا ہے بلکہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بارے میں یہ کہا جانے لگا تھا کہ وہ چوں کہ سول حکومت کو برطرف نہیں کررہے اس لیے اُن میں قوت فیصلہ کی کمی ہے، ریٹائر ہونے کے بعد جنرل کیانی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔ جنرل راحیل شریف کے تین سالہ دور میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب ہمارے لاتعداد قومی دانش ور یہ تصور نہیں کرتے تھے کہ وہ بس ابھی چھڑی گھمانے ہی والے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا۔ ہمارے ایک قومی سیاست دان کئی ہفتوں تک اُن کی انگلی اُٹھنے کا نہ صرف انتظار کرتے رہے بلکہ قوم کو خوشخبری بھی سناتے رہے کہ دیکھتے رہیں ابھی انگلی اُٹھے گی اور سول حکومت فنا ہوجائے گی۔ تقریباً ہر قومی تہوار یا مخصوص دن کے آغاز سے پہلے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں آرمی چیف کی تصاویر والے پوسٹر آویزاں کردئیے جاتے جس کا مطلب یہ ہوتا کہ سول حکومت محض چند لمحوں کی مہمان ہے۔ اگر کسی موقع پر وزیراعظم کی تصاویر والے پوسٹر کسی شہر میں نظر آجاتے تو اس کو یہ سمجھا جاتا کہ اس قسم کی حرکت پاک فوج کے لیے ایک دھمکی ہے جب کہ جہاں ’دھمکی‘ واضح اور نمایاں نظر آتی اس کو قوم کی آواز اور جذبات کا بہترین قومی اظہار قرار دیدیا جاتا۔

اسی بارے میں: ۔  محترم پوپ، آپ مسلمانوں کے پاؤں کیوں چومتے ہیں؟

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسی سوچ تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے جس کا مدعا یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور اُن کی قیادت جہاں بے تحاشہ بدعنوان ہے وہاں اُس میں حب الوطنی کی کمی بہت نمایاں ہے۔ یہ ایک ایسا بیانہ ہے جس کے تمام تر خدوخال سے جمہوریت دشمنی واضح ہوتی ہے اوراس قسم کی سوچ کی جزئیات کے آمیزے میں ہمارے میڈیا نے سنسنی اورجھوٹے انکشافات کا رنگ بھر دیا ہے۔ قطعیت کے ہاتھوں مجبور ٹی وی اینکر اس دوڑ میں شامل ہیں کہ کون پہلے حکومت کے خاتمے کا اصل وقت بتاتا ہے۔ ہم سب دم سادھے کھڑے ہیں کہ دیکھیں اس بار کیا ہوتا ہے جمہوریت کو کس کھاتے میں ڈالا جاتا ہے اور جمہوریت دشمن قوتیں کس طرح پاکستان کو ایک بار پھر کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔ دعائے خیر کی اپیل کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔