بادشاہت… انعام یا سزا؟


حیران ہوتا ہوں… پاکستان شاید دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہو گا جہاں وزیر اعظم کی وقعت نہیں رہی اور کوئی اب اس عہدے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا یا دوسرے لفظوں میں وزیراعظم کو بھی پروا نہیں رہی۔ اس عہدے کی ساکھ اتنی بری طرح گر چکی ہے کہ وزیراعظم سے ایک بھارتی مل لے تو لگتا ہے شاید ملک کا سودا ہو گیا اور نقدی میں ہوا ہے۔ جنرل ضیاء، جس کا مشن کبھی نواز شریف پورا کرنے کی قسمیں کھاتے تھے ،کے پاس بھارتی اداکار شتروگن سنہا مسلسل مہمان رہتے تھے۔ اس دور میں بھی بھارت کے ساتھ تعلقات ایک طرح حالت جنگ میں تھے لیکن مجال ہے کوئی صحافی یا کالم نگاریہ پوچھنے کی جرات کر سکتا کہ سرحد پار اداکار ایک فوجی جنرل کے پاس کیوں ٹھہرتا ہے؟ جنرل مشرف کے پاس بھی بھارتی مہمانوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ اس پر بھی سوالات نہ اٹھے۔ سوالات اٹھے جب بینظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کو پاکستان کے دورے پر بلایا یا نواز شریف نے واجپائی صاحب کو لاہور۔ بینظیر بھٹو کو فوراً سکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا تو نواز شریف بھی اس صف میں جا کھڑے ہوئے۔ ایک کو کئی برس بعد گولی مار دی گئی تو دوسرا جیل جا بیٹھا۔ بھٹو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم جانتے ہیں۔
چلیں مان لیتے ہیں نواز شریف اور بینظیر بھٹو پر کرپشن اور بھارت سے تعلقات کے الزامات تھے۔ دونوں قابل بھروسہ نہ تھے لیکن بھٹو تو کرپٹ نہ تھے اور نہ ہی محمد خان جونیجو لیکن ایک جنرل ضیاء کے ہاتھوں پھانسی چڑھا دیا گیا اور دوسرا جنرل ضیاء کے ہاتھوں برطرف ہوا۔ بھٹو تو بھارت کے خلاف ہزار سال جنگ کے نعرے مارتا ہوا پھانسی چڑھ گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا سیاستدان کو راستے سے ہٹانے کے لیے ان کا کرپٹ یا بھارت نواز ہونا ضروری نہیں۔ وجہ کوئی اور کبھی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ جنرل ضیاء نے اپنے دور میں بھٹو کی لاش دی تو جنرل مشرف دور میں بینظیر بھٹو کی لاش۔ جنرل ایوب کا اس حد تک شکریہ کہ ان کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ سختیاں ہوئیں لیکن کوئی پھانسی نہ لٹکایا گیا۔ بھٹو نے بھی تمام تر دبائو کے باوجود شیخ مجیب الرحمن کو پھانسی نہ دی اور بنگلہ دیش بھیج دیا۔ حیران ہوتا
ہوں… اگر جنرل یحییٰ اور دیگر جرنیلوں کی خواہش پر شیخ مجیب کو پھانسی دے دی جاتی تو آج کیا حالات ہوتے۔ بھٹو بھی خیر اس فہرست میں جا کھڑے ہوئے جب انہوں نے بلوچستان میں وہی کچھ کیا جو برسوں بعد جنرل مشرف نے کیا ۔ دونوں نے طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہے۔ حالانکہ بھٹو سے جنرل مشرف کی نسبت زیادہ توقع تھی کہ وہ بلوچستان میں فوج کشی کی بجائے وہ راستہ اختیار کریں گے جو انہوں نے مشرقی پاکستان میں فوج کشی اور مجیب کے بارے میں اختیار کیا تھا۔ اوریانا فلاسی کو انٹرویو میں بھٹو ہرگز مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھے اور جنرل یحییٰ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ لیکن چند سال بعد بھٹو نے وہی کچھ بلوچستان میں کیا جو جنرل یحییٰ نے مشرقی پاکستان میں کیا تھا۔ بھٹو کا خیال تھا کہ شاید یحییٰ جو نتائج مشرقی پاکستان میں نہ حاصل کر سکے وہ بلوچستان میں حاصل کر سکیں گے۔ ہمارے اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہر مسئلے کا حل بندوق اور گولی تھا۔ مشرقی پاکستان میں گولی اور بندوق کی ناکامی کے باوجود ہم بلوچستان میں وہی غلطیاں کرتے رہے اور آج تک کر رہے ہیں۔کوئٹہ کا ایک ترین قبیلے کا دوست ملا تو افسوس سے بولا پنجاب سے کتنے اچھے لوگوں نے بلوچستان میں بلوچوں اور پشتونوں کے بچوں کو پڑھایا۔ ایک ایک کرکے انہیں مار دیا گیا اور ان کی جگہ افغانوں نے لے لی ہے۔ پشتونوں کو اکثریت میں دکھانے کے لیے بلوچستان سے سرائیکیوں اور پنجابیوں اور اردو سپیکنگ کو مار نکالا گیا تو ان کی جگہ افغانوں کو وہاں بسا دیا گیا۔ اب ہر دوسرے محلے میں افغانی اکثریت میں ہیں۔ اب پشتونوں کو احساس ہو رہا ہے کہ ان افغانوں سے وہ سیٹلرز بہتر تھے۔ اب کوئٹہ ان افغانیوں کے حوالے کس نے کیا وہ سب جانتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں جو کوئٹہ میں مسائل پیدا ہوں گے ان کا ادراک ہم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
پاکستانی سیاستدانوں سے مجھے گلہ رہا ہے انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان میں سول ملٹری تنائو ہمیشہ رہے گا۔ اگر انہوں نے اپنی برتری ثابت کرنی تھی تو پھر کردار سے شکست دینی تھی۔ قائد اعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر نہ تھا جس کے رعب و دبدبے کے سامنے سول ملٹری جھک کر رہتی۔ قائد اعظم کا رعب ان کی ذات یا دولت کا نہیں تھا ان کے کردار کا تھا۔ دولت سے وقتی طور پر کوئی مرعوب ہو جائے تو ہو جائے لیکن کردار سے سب متاثر ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کردار غائب ہو گیا ور اس کی جگہ دولت نے لے لی۔ پھر جس کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ لے اڑا ۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر بریگیڈیر امیتاز نے مجھے خود میری کتاب کے لیے انٹرویو میں بتایا تھا کہ جنرل اختر عبدالرحمن ڈی جی آئی ایس آئی بننے سے قبل بعض دفعہ تو ادھر ادھر سے پیسے مانگ کر بیرون ملک پڑھنے و الے بچوں کو پیسے بھیجتے تھے پھر اچانک کیا ہوا کہ اب انہی کے بچے راتوں رات ارب پتی بن گئے ہیں۔ جنرل ضیاء کے بارے میں کہتے ہیں جس دن حادثہ ہوا اس دن جنرل ضیاء کے گھر امریکی ڈالروں کی بوریاں کیش میں موجود تھیں جو وہ گھر پر رکھتے تھے کہ کب کسی افغان وار لارڈ کو دینے کی ضرورت پڑ جائے۔ حادثے کے کچھ دن بعد اپنے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو ان ڈالروں کا یاد دلایا تو جواب ملا بھول جائو۔ آج کے بعد ان ڈالروں کا ذکر نہ کرنا۔ بہت عرصے بعد پارلیمنٹ سے ایک سٹوری فائل ہوئی جس میں ہمایوں اختر اور اعجازالحق کی دولت کا موازنہ کیا گیا اور ایک کا کہنا تھا کہ دوسرے کے پاس کیا دولت ہے جتنی اس کے پاس ہے۔ اگرچہ دونوں اب انکار کرتے ہیں کہ کبھی انہوں نے یہ بات کی تھی۔
جنرل مشرف کا دائو لگا تو اب فرماتے ہیں انہیں سعودی عرب کے بادشاہ نے ایک ارب روپے نقد انعام دیا تھا جس سے انہوں نے لندن کی جائیدادیں خریدیں۔ نواز شریف پکڑے گئے تو فرماتے ہیں قطری شہزادوں نے ایک کروڑ بیس لاکھ درہم دیے تھے جس سے لندن جائیدادیں خریدیں… بادشاہوں سے شہزادوں تک کی کہانیاں ہیں… ایسی ایسی الف لیلوی کہانیاں کہ بندہ حیران ہو جائے۔
فوجی ادوار میں سیاست اور سیاستدانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ بھٹو نے بھی روایتی انداز میں اپنے تئیں ایک کمزور فوجی ضیاء کو آرمی چیف بنایا۔ وہی غلطی نواز شریف نے جنرل مشرف کے حوالے سے دہرائی گئی۔ دونوں نے قیمت چکائی۔
داد دیں نواز شریف کو کہ تیسری دفعہ وزیراعظم بن کر بھی نہ سیکھے اور ہر دفعہ اس چکر میں رہے کمزور اور ”اپنا بندہ‘‘ ٹائپ آرمی چیف بنایا جائے۔ ہر دفعہ خفیہ ملاقاتیں اور وفاداری کی قسمیں۔
کبھی کبھار دکھ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نمائندوں نے اپنا کیا حشر کر لیا ہے۔ چوہدری نثار اس حد تک درست کہتے ہیں آصف علی زرداری کا کرپشن کے خلاف تقریر کرنا قیامت کی نشانی ہے۔ پیپلز پارٹی کی وزیر عاصمہ ارباب عالمگیر جس نے پچیس لاکھ ڈالرز کا کمشن بنکاک میں لے کر دوبئی ٹرانسفر کرا کے لندن میں چار فلیٹس خریدے، وہ بھی تین سال بعد زرداری کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں اور جب زرداری شہباز شریف کا پیٹ پھاڑ کر دولت نکلوانے کے دعویٰ فرما رہے ہوتے ہیں تو وہ عوام سے نعرے لگوا رہی ہوتی ہیں۔ پشتون عوام کو بھی داد دیں جو عاصمہ ارباب اور اس کے میاں عالمگیر کو دوبارہ کندھوں پر بٹھا کر لے آئے ہیں جو لوٹ مار کے پیسوں سے لندن میں بڑی جائیدادیں خرید کر دوبارہ نئے سرے سے لوٹنے پہنچ گئے ہیں۔
کرپشن اب کوئی مسلہ نہیں رہا۔ کسی کا ضمیر اب کسی کو ملامت نہیں کرتا۔ اب الٹا لوگ ہمیں ڈانتے ہیں کہ ہماری پارٹی نے کرپشن کی ہے تو فلاں پارٹی نے نہیں کی۔ کوئی اب کسی کو طعنے دینے کے قابل نہیں رہا۔ کبھی تھوڑی سی شرم حیا ہوتی تھی اب تو کرپٹ جلسوں میں کھڑے ہو کر کرپشن کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور عوام سے زندہ باد کے نعرے بھی لگواتے ہیں۔ سب اس یقین کے ساتھ زندہ ہیں کہ وہ آج کا دن گزار لیں۔ آج کی دیہاڑی کھری کر لیں۔ کل کس نے دیکھی ہے۔ کوئی اور لوگ اس ملک کو ٹھیک کریں گے!
ویسے نواز شریف اور ان کے بچوں کی لندن، دوبئی، پاناما تک جائیدادوں بارے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے میں رائے اور تبصرے پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں بادشاہت اپنی جگہ لیکن آخر کس قیمت پر اور کب تک کہ جج آپ کو مافیا سے تشبیہ دیں اور آپ کو گاڈفادر پکارا جائے۔ اور پھر بھی طبلچی اور درباری مبارکبادکے اشتہارات چھپوا رہے ہوں اور مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہوں!
یہ بادشاہت خدا کی طرف سے آپ کا انعام تھا یا سزا۔ فیصلہ آپ خود کر لیجیے گا!

اسی بارے میں: ۔  ’میں فوجی کی بیٹی ہوں!‘

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔