ڈاکواں کُولوں ڈاکواں بارے کیہہ پْچھدے او!


جیسے کسی معاشرے کیلئے سب سے بڑا خطرہ ’’ناانصافی ‘‘ ویسے ہی کسی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا Threatکرپشن ،لیکن جہاں یہ دونوں ہوں ؟
بجا فرمایا وزیراعظم نے ’’مخالفین کو شکست ہوئی اوروہ سرخرو ہوئے ‘‘، حضورِ والا!بلاشبہ 4ماہ 3دن میں ہوئی 36سماعتوں کی عدالتی کاروائی اور جگ ہنسائی مخالفین کی شکست ہی تو ہے ،25ہزار سے زیادہ دستاویزات پر سرِعام ہوا پوسٹمارٹم آپکی سرخروئی ہی تو ہے اور 2ججز کاگھر بھجوانے کا کہنا اور 3ججز کا مزید تفتیش پر اصراربھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی تو ہے ،قبلہ ! یہ تو ہم ہی سمجھ نہ پائے ورنہ پانچوں جج صاحبان کا آپکی آف شور نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے دستاویزی ثبوتوں سے اتفاق نہ کرنا اور آپکی منی ٹریل کو مشکوک قرار دیدینا دراصل مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی تو ہے ، یہ تو ہم ہی نہ جان سکے ،ورنہ عدالت کا قطری شہزادے کو رد کر کے یہ بھی نہ ماننا کہ آپ نے لندن میں 4فلیٹس 2006میں خریدے اور یہ 1992سے آپکی ملکیت نہیں تھے مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی توہے ،یہ تو ہمیں ہی نہ پتا چل پایا ورنہ حدیبیہ پیپر مل اور التوفیق بینک پر آپکے موقف کا مسترد ہو جانا دراصل مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی تو ہے ،اوریہ تو ہمارا ہی دھیان اس طرف نہ گیا ورنہ عدالت کا یہ تسلیم نہ کرکے کہ سب کچھ دادا اورپوتے کرتے رہے اور آپ اس کھیل کا حصہ نہ تھے پھر یہ تسلیم بھی نہ کرنا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ، دراصل مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی تو ہے ۔
عالی جاہ !یہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ عموماً بڑے ملزمان کیلئے بنائی جاتی جے آئی ٹی اب آپ کیلئے بنے گی اور اب آ پ بچوں سمیت پیش ہو کر بتائیں گے کہ 90کی دہائی میں 2کم سن بچوں کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آیااور پھر یہ دوکم سن بچے بڑے ماہرانہ انداز میں پیسوں کو جدہ،قطر اور برطانیہ میں گھماپھرا کر اتنے کم عرصے میں اتنی زیادہ کمائی کرنیوالے کیسے بن گئے اور اب آپ مشترکہ تفتیشی ٹیم کو سمجھائیں گے کہ گلف سٹیل کے قائم ہونے سے فروخت ہونے تک اور جدہ سٹیل مل کے لگائے جانے سے بیچے جانے تک کیا کیا ہوا،بیئرزشیئرز لندن فلیٹوں میں کیسے ڈھلے ، آف شور کمپنیوں کا مالک کون اور کمپنیوں میں آئی رقم او ر شاہانہ تحائف کی اصل حقیقت کیا،عالی مرتبت! یہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ پانچوں ججز نے نہ صرف آپکی قومی اسمبلی کی تقریر ،نہ صرف ٹیلی ویژن پر قوم کو سنائی گئی تینوں رام کہانیاں اور نہ صرف سپریم کورٹ میں لائی گئی سب الف لیلی کو تضاداتی کہہ دیابلکہ عدالت نے آپکے نیب ،ایف آئی اے اور ایف بی آر کو بھی مسترد کر دیا ، غالباًیہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ جسٹس گلزارفرمائیں کہ ’’چونکہ کمپنیاں اور فلیٹس آپکی اور چونکہ آپ نے عدالت سے جھوٹ بولا لہذا آپ کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دینا چاہیے ‘‘اور یہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ جسٹس آصف کھوسہ کہہ دیں کہ ’’آپ نے سچ چھپایا لہذا آپکو وزارتِ عظمیٰ پر رہنے کا کوئی حق نہیں ‘‘۔
اے قائدِاعظم ثانی ! یہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ جج صاحبان کو کہنا پڑا کہ خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کا آپ کا دعویٰ ڈرامہ،آپ نہ ثبوت مہیا کر سکے اور نہ سوالوں کے جوابات دے سکے ،اوریہ بھی مخالفین کی شکست اور آپکی سرخروئی ہی کہ جج صاحبان کو لکھنا پڑا کہ ’’دولت کے ہر بڑے ذخیرے کے پیچھے جرم کی ایک داستان اور حکمران بن کر بھی تاجر اپنے کاروبار کا ہی سوچے‘‘،اے قائدِ ذی وقار ! ہو سکتا ہے کہ آپ جے آئی ٹی کو یہ کہانی سنا دیں کہ’’ ہم ثبوت کہاں سے لائیں ہمارے سارے کاغذات تو 1999میں جنرل پرویز مشرف نے ضبط کر لیئے تھے یا 1976میں ہمارا سرمایہ تو اونٹوں پر لدے صندوقوں میں دبئی گیا اور اس وقت تو کاغذی کاروائیاں ہوا ہی نہیں کرتی تھیں ‘‘ ، جی ہاں حضور یہاں آپ یہ کہانی سنا کر بھی سرخرو ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں توآئے روزاک نئی کہانی سنا کر اور اپنے کہے ہوئے کو خود ہی رد کر کے بھی لوگ سرخرو ٹھہریں ،یہاں الزام ثابت بھی ہو جائے تو بھی کوئی کسی کو اقتدار سے نہ نکال سکے، یہا ں عوامی طاقت حکمرانوں کے سامنے بے بس ،یہاں اخلاقیات نامی جنس کب کی ناپید ہو چکی،یہاں کسی کو ’’لتھی چڑھی ‘‘کی کوئی پرواہ نہیں ،یہاں عزت چھوڑ کر سب کے سب اس لیئے پیسے اور کرسی کے پیچھے کہ پیسہ اور کرسی اہم ، عزت کا کیا ،عزت تو آنی جانی شے،یہاں قوم کو وہ جیونکیں چمٹی ہوئیں کہ خون چوس چوس کر جن کے پیٹ پھٹنے کو آگئے مگر پیٹ ہیں کہ بھر ہی نہیں رہے اوریہاں ملک پر وہ ’’کھاؤ گروپ‘‘ مسلط کہ کھا کھا کرجسے بدہضمیاں ہوگئیں مگر کھاؤمہم ہے کہ پھر بھی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی، مگر عزت مآب ! سچی بات تو یہ کہ قصور کسی کا نہیں ، قصور ہمارا ہی ، کیونکہ ہماری خاموشی نے ہی طبقۂ اشرافیہ کو شتر بے مہار زبانیں عطا کر رکھیں اور ہماری کمزوریو ں نے ہی طبقۂ موجیہ کو بدمعاش بنا رکھا ، حضورِ والا! گذرے کل کو چھوڑیں آج بھی جب ایک طرف آئے روز پاناموں پہ پانامے ہورہے تو دوسری طرف پوری کی پوری قوم سمجھوتوں کی کرنسی سے چپ کی ٹکٹیں خرید کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ’’لُٹو اورپھُٹو‘‘کی فلمیں دیکھنے میں مگن۔
اے شہنشاہِ معظم !گذشتہ چند دنوں سے نجانے کیوں مجھے یہ نظم یاد آرہی ، صرف پاناما نہیں، اپنے دیس کی مجموعی صورتحال کو ذہن میں رکھ کر اگر آپ یہ نظم پڑھیں گے توآپ بھی یقیناًEnjoy کریں گے ، آخری دو شعروں میں دولفظوں کی ترمیم کے بعد پیش خدمت ہے یہ نظم :۔ جس دیس میں ماؤں بہنوں کو اغیار اُٹھا کر لے جائیں ، جس دیس میں قاتل غنڈوں کو اشراف چھڑا کر لے جائیں،جس دیس کی کوٹ کچہری میں انصاف ٹکوں میں بکتا ہو، جس دیس کے منشی قاضی بھی مجرم سے پوچھ کر لکھتے ہوں ، جس دیس کے چپے چپے پر پولیس کے ناکے ہوتے ہوں ،جس دیس کے مند ر مسجد میں ہر روز دھماکے ہوتے ہوں ،جس دیس میں جان کے رکھوالے خود جانیں لیں معصوموں کی ، جس دیس کے حاکم ظالم ہوں، سسکیاں نہ سنیں مجبوروں کی،جس دیس کے عادل بہرے ہوں، آہیں نہ سنیں معصوموں کی ،جس دیس کی گلیوں کوچوں میں ہر سمت فحاشی پھیلی ہو،جس دیس میں بنت حوا کی چادر داغ سے میلی ہو ، جس دیس میں آٹے چینی کا بحران فلک تک جا پہنچے،جس دیس میں بجلی پانی کا فقدان حلق تک جا پہنچے،جس دیس کے ہر چوراہے پر دوچار بھکاری پھرتے ہوں ،جس دیس میں روز جہازوں سے امدادی تھیلے گرتے ہوں ،جس دیس میں غربت ماؤں بچوں کو نیلام کراتی ہو،جس دیس میں دولت شرفاء سے ناجائز کام کراتی ہو، جس دیس میں عہدیداروں سے عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں ، جس دیس کے سادہ لوح انسان وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں ،اس دیس کے رہنے والوں پرسر اُٹھانا واجب ہے ،اس دیس کے ہر ایک لیڈر کو راہِ راست پہ لانا واجب ہے، اور اے میری جہالتوں ،کمزوریوں اور بے اتفاقیوں کی جمع تفریق پر بنے لیڈر ! آپکی اجازت سے جاتے جاتے منوبھائی کی شہر ہ آفاق پنجابی نظم کا ایک بند آپکی اُس رعایا کی نذر کہ جو ابھی تک اس خوش فہمی میں کہ جے آئی ٹی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گی، منو بھائی کہتے ہیں کہ ’’چوراں، ڈاکواں، قاتلاں کولوں۔چوراں، ڈاکواں، قاتلاں بارے کیہہ پْچھدے اْو۔ایہہ تہانوں کہیہ دسن گے، کیوں دسن گے؟۔دسن گے تے جنج وسدے نیں، کنج وسن گے۔چوراں، ڈاکواں، قاتلاں کولوں،منگیاں کدی ثبوت نئیں لبھدے۔فائیلاں وچ گواچے ہوئے،بڑے بڑے کرتوت نئیں لبھدے۔ کھوجی رسہ گیر نیں سارے کیہہ پچھدے او۔اک دوجے دے جرم سہارے کیہہ پچھدے او۔ڈاکواں کولوں ڈاکواں بارے کیہہ پچھدے او‘‘،اب اس کے بعد اور کیا کہوں، سوائے اس کے کہ، جیسے کسی معاشرے کیلئے سب سے بڑا خطرہ ’’ناانصافی ‘‘ ویسے ہی کسی بھی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا Threatکرپشن ، لیکن جہاں یہ دونوں ہوں ؟

اسی بارے میں: ۔  سابق صدر کی ڈائری

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔