ترک صدرنے فضائیہ کے 100 پائلٹس سمیت فورسز کے 4 ہزار اہلکار برطرف کردیے


غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی میں گزشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے مختلف اداروں سے ملازمین کو برطرف کئے جانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور حکومت کی جانب سے فوجی بغاوت کا حصہ بننے کے شبے میں اب تک ترک آرمی، ائیرفورس، پولیس، عدالتوں اور دیگرمتعدد اداروں سے لاکھوں افراد کو نوکریوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے شبے میں مزید 4 ہزار اہلکاروں کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ حکام کے مطابق برطرف کئے گئے افراد میں وزارت انصاف کے ایک ہزار، آرمی اسٹاف کے ایک ہزار جب کہ ائیرفورس کے 100 سے زائد پائلٹس بھی شامل ہیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے روابط رکھنے والے افراد قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اس لئے قومی اداروں میں ایسے افراد کا عہدوں پر برقرار رہنا زہر قاتل ہے۔

واضح رہے کہ فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے جہاں لاکھوں افراد کو نوکریوں سے فارغ کیا وہیں متعدد بار فیس بک اور ٹویٹر کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا جب کہ گزشتہ روز حکومت نے آن لائن انسائیکلو پیڈیا کو بلاک کردیا تھا جس پر وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز کا ٹویٹر پر ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں ان کا کہا تھا کہ اطلاعات تک رسائی حاصل کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  افغانستان کی بلااشتعال فائرنگ پر سخت تشویش ہے: سرتاج عزیز