نوٹی فیکیشن اور ٹویٹ کے درمیانی پلاٹ پر لکھا اسکرپٹ (3)


(پہلا حصہ)

پروفیسر غفور احمد اور کوثر نیازی کی یادداشتوں میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے مابین 1977ء کے مذاکرات میں بلوچستان بغاوت کے حوالے سے فوجی حکام کو بھی شریک کیا گیا۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل چشتی بریفنگ میں شریک ہوئے۔ جنرل چشتی نے سیاسی قیادت کو قومی سلامتی پر لیکچر پلانا شروع کر دیا جس پر نواب زادہ نصر اللہ کو انہیں یاد دلانا پڑا کہ ان کا منصب فوجی امور کی دیکھ بھال ہے، قوم کا سیاسی نصب العین طے کرنا نہیں۔ 5جولائی 1977ء کے بعد جنرل ضیاالحق کے عہد میں جو کچھ ہوا، اس پر ایک سے زیادہ روایات سامنے آ چکی ہیں۔ جنرل چشتی کا نقطہ نظر بھی شائع ہو چکا ہے اور جنرل کے ایم عارف کا زاویہ نگاہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن سب سے مستند روایت تو خود جنرل ضیاالحق کے اقوال زریں ہیں۔ جنرل ضیانے ایران کے اخبار کیہان انٹرنیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے متفقہ آئین کو بارہ صفحات کا کتابچہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ جب چاہیں، آئین کے پرزے اڑا سکتے ہیں۔ جنرل ضیاالحق سیاست دانوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ جب چاہیں گے، سیاست دان کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے ان کے پاس پہنچیں گے۔ جنرل ضیاالحق نے پاکستان پر بدترین فوجی آمریت مسلط کی۔ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو کوڑے مارے، آئینی وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکایا، اخبارات پر کڑی سنسر شپ نافذ کی۔ دانشوروں پر پاکستان کی چاندنی، پانی اور ہوا حرام کرنے کی بشارت دی۔ لیکن جنرل ضیاالحق کو صوبہ سند ھ کے موضع سندھڑی سے تعلق رکھنے والے محمد خان جونیجو نے واضح سیاسی اور جمہوری اختیار نہ ہونے کے باوجود تگنی کا ناچ نچا دیا۔ اوجڑی کیمپ پر تحقیقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد 29 مئی 1988ء کو محمد خان جونیجو باوقار انداز میں سندھڑی واپس چلے گئے لیکن ضیاالحق کو ضلع لودھرا ں کی بستی لال کمال کا ٹکٹ تھما گئے۔

فوج نے 1988ءمیں ضیاالحق کی موت کے بعد انتقال اقتدار کے بجائے شراکت اقتدار کا فیصلہ کیا تھا۔ گویا منصوبہ یہ تھا کہ بظاہر سیاست دانوں کو اقتدار دیا جائے لیکن پس پردہ اصل اختیارات فیصلہ سازی اور مالی منفعت کا نظام قائم رکھا جائے۔ آئی ایس آئی کے (تب) ڈائریکٹر جنرل حمید گل کھلے عام اقرار کرتے تھے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کے لیے چودہ کروڑ روپے صرف کر کے آئی جے آئی تشکیل دی تھی۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی آئی جے آئی کی 54 نشستوں کے مقابلے میں 94نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ سودے بازی کا ڈول ڈالا گیا۔ فیصلہ یہ تھاکہ جمہوری حکومت خارجہ پالیسی خصوصاً افغان پالیسی اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں دخل نہیں دے گی، دفاعی امور میں جمہوری حکومت کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہو گی، ایٹمی پالیسی پر وزیرا عظم کے بجائے فوج کے سربراہ اور صدر کو اختیار ہو گا، حکومت میں فیصلہ کن مناصب مثلاً وزارت خارجہ اور دوسرے عہدوں پر فوج کے تجویز کنندہ افراد فائز کیے جائیں گے اور صدر کے پاس آئین کی دفعہ 58 (2) بی کے تحت حکومت توڑنے کا اختیار موجود ہو گا۔ اس پرطرہ یہ کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں آئی جے آئی کی حکومت قائم کر دی گئی جہاں میاں نواز شریف ہیئت مقتدرہ اور ذرائع ابلاغ میں خود کاشتہ محب وطن عناصر کی مدد سے وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ گویا بے نظیر بھٹو کو ہاتھ پاﺅں باندھ کر ایک بے پتوار تختے پر طوفانی سمندر کی لہروں کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ اس کا انجام سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کتاب ”چاہ ِ یوسف سے صدا“میں ملاحظہ کریں:

”انیس سو نوے میں بے نظیر بھٹو نے اپنی رہائش گا ہ پر کور کمانڈروں کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ انہوں نے ہر کور کمانڈر کے ساتھ اپنا ایک وزیر بٹھا دیا۔ مجھے وزیر اعظم کی طرف سے چٹ موصول ہوئی کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل سے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں دریافت کروں…. حمید گل نے کہا کہ آپ کی حکومت پر بد عنوانی کے کئی الزامات ہیں اور آپ کے برے دن آنے والے ہیں۔ اسی سال 6 اگست کو پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کر دی گئی“۔

سوال یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو یہ کیسے معلوم تھا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت رکھنے والی بے نظیر بھٹو کو برطرف کیا جا رہا ہے۔ بےنظیر کو برطرف کرنے کے بعد نئے انتخابات کا ڈول ڈالا گیا جن میں جنرل اسد درانی کے مطابق آئی جے آئی کے رہنماﺅں میں خفیہ فنڈ سے کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے تھے۔

اتنے ارمانوں سے نواز شریف کو اقتدار میں لانے کے بعد بھی یہ گتھی سلجھ نہیں سکی۔ واقعہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت اور پیوستہ مفادات کی حامل ہیئت مقتدرہ کا تضاد شخصی ٹکراﺅ نہیں ہوتا۔ بات یہ ہے کہ آئین میں فوج کے کسی سیاسی کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ فوجی اہلکاروں کے لیے سیاست میں دخل اندازی کی کڑی ممانعت ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم کو صدر مملکت پر ادارہ جاتی بالا دستی حاصل ہے۔ جب آئین کے اس منشا کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔ سیاسی خربوزے اورعسکری چھری کے ٹکراﺅ میں خربوزے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ الزام بھی خربوزے ہی پر دھرا جاتا ہے۔

1993ء میں غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو برطرف کیا لیکن سپریم کورٹ نے ان کی حکومت بحال کر دی۔ تاہم نواز شریف پارلیمنٹ اور عدلیہ کی حمایت کے باوجود اقتدار پر اپنی گرفت قائم نہیں رکھ سکے۔ غلام اسحاق خان کے پاس جادو کی وہ کونسی چھڑی تھی جس کی مدد سے وہ جاتے جاتے نواز شریف کو بھی لے ڈوبے۔ جادو کی یہ چھڑی جنرل وحید کاکڑ کے پاس تھی جو 1993ءمیں فوج کے سربراہ تھے۔ ایک مرتبہ پھر بےنظیر برسراقتدار آئیں۔ اس موقع پر فوج کے اثرو رسوخ کی جھلک بھی یوسف رضا گیلانی کی زبانی ملاحظہ کریں۔

1993ء میں گیلانی سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو رکن اسمبلی نواب اکبر بگتی نے بلوچی زبان میں خیر مقدمی تقریر کی جس پر ایک رکن نے اعتراض کیا جسے نو منتخب سپیکر نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ جذبات کی بہتر ترجمانی مادری زبان ہی میں ہو سکتی ہے۔ اس واقعہ کے حوالے سے وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ”جب میں اپنے چیمبر میں پہنچا تو فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے گرجدار لہجے میں کہا گیا کہ سپیکر صاحب ! آپ نے بگتی کو بلوچی زبان میں تقریر کرنے کی اجازت کیوں دی؟ فوج نے اس کا سخت برا مانا ہے“۔ گیلانی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے فون بند ہو چکا تھا۔

گیلانی مزید لکھتے ہیں کہ 1996ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی سے ایک رات قبل جنرل جہانگیر کرامت نے ایک عشائیے پر ان سے بات کرتے ہوئے صدر لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے درمیان ضامن بننے کی پیشکش کرتے ہوئے بتایا کہ چند دن پہلے نواز شریف کی ایک فون کال ٹیپ کی گئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ صدر نے اسمبلی تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ گیلانی نے جہانگیر کرامت کی پیشکش کے بار ے میں بے نظیر بھٹو کو آگاہ کیا تو ان کا جواب تھا ”مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے ہی صدر کی ضمانت آرمی چیف سے لیتی پھروں“۔

اس سارے عرصے میں بے نظیر ہوں یا نواز شریف، انہیں نادیدہ ہاتھوں نے چین سے کام نہیں کرنے دیا۔ آئے روز ایک نیا بہانہ، ہر روز ایک نیا بحران، ذرائع ابلاغ میں اشقلے، بین الاقوامی سطح پر ایسی پالیسیاں جنہیں سیاسی قیادت نگل سکے نہ اگل سکے۔ بالآخر12اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے درشنی جھروکے کا پردہ ہٹا کر جلوہ انوارکو ارزاں کر دیا۔ پرویز مشرف کی فوجی حکومت میں سیاست دانوں اور سیاسی قیادت پر جو الزام دھرے گئے، وہ سب کے سامنے ہیں۔ جنرل مشرف نے سیاسی عمل اور جمہوری حکمرانی پر زبان طعن دراز کرنے میں کیا کسر چھوڑی۔ جمہوریت کو محض ایک ’لیبل‘ یا مہر قرار دیا، آئین، جمہوریت اور عوامی دانش کی سرعام توہین کی، سیاسی قیادت کو بدعنوان اور نااہل قرار دیا، اپنی خود ساختہ پارلیمنٹ کو گنواروں کے اجڈ ہجوم کا خطاب دیا، قومی اسمبلی میں صدر کے آئینی خطاب کے بعد حزب اختلاف پر مکے لہرائے۔ حتیٰ کہ اپنی تصنیف لطیف میں پاکستان کی اس سیاسی قیادت کو بھی نہیں بخشا جو 1971ء میں اس وقت بچے کھچے پاکستان کی کرچیا ںسمیٹ رہی تھی جب پرویز مشرف 28 برس کی عمر میں فوجی میجر کے عہدہ جلیلہ پر فائزتھے۔ لیکن اس لاحاصل مشق کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستانی عوام نے 18فروری 2008ءکے انتخابات میں ایک بار پھر فوجی قیادت اور اس کے خوان نعمت کے خوشہ چینوں کو بری طرح رد کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے دومختلف اجزا میں کشمکش کی یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ فوج اور معاشرہ اپنی نوعیت، کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے دو مختلف مظاہر ہیں۔ جو مہارتیں اور طریقہ کار فوج میں اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں معاشرے پر لاگو کیا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ادھر جو مہارتیں اور عملی اصول معاشرے کے لیے کارآمد ہیں انہیں فوج میں رائج کیا جائے تو فوج اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔

فوج میں تمام کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف یہ کہ دشمن سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے بلکہ غیر متعلقہ افراد کو بھی لاعلم رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں پارلیمنٹ ہوں یا عدالتیں، ان کی کارروائیاںطے شدہ ضابطوں کے مطابق اور شفاف طریقے سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ فوج میں قیادت کی وحدانیت کا تصور پایا جاتا ہے جس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں قوم کی اجتماعی فراست اور مشاورت کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اختلاف رائے جو عسکری اداروں کے لیے زہر قاتل ہے، جمہوریت کے لیے لازمی امر ہے۔ اسی طرح فوجی کارروائی میں مخالف قوتوں کو حیران کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تاکہ وہ اچانک حملے کی تاب نہ لا کر پسپا ہو جائیں دوسری طرف سیاسی عمل میں ایک نامیاتی ارتقا پایا جاتا ہے جس میں تسلسل اور تواتر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسی عمل میں حیران کرنے کی حکمت عملی عارضی جب کہ طے شدہ منزل کی طرف پیش قدمی تسلسل رکھتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کو مخالف کی نیت پر شک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسے خود کو ہر طرح کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف سیاست اعتماد کے پل باندھنے کا عمل ہے۔ مسلسل شکوک شبہات کی فضا میں سیاسی عمل فساد اور تفرقے کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاست مختلف گروہوں، طبقات اور خطوں میں باہم اعتماد پیدا کرنے کا عمل ہے۔ فوجی حکمت عملی میں دو رخی چالوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن سیاسی عمل میں یہی دو رخی دھوکا دہی اور موقع پرستی شمار ہوتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کے لیے اپنے ارادوں پر پردہ ڈالے رکھنا جائزہے لیکن سیاسی رہنما کو عوام کے سامنے اپنی رائے بیان کرنا ہوتی ہے۔ جنگ ایک ہنگامی صورت حال کا نام ہے لیکن کوئی صحت مند معاشرہ مستقل جنگ کو اپنا نصب العین قرار نہیں دے سکتا۔ سیاسی عمل کا نصب العین امن کا قیام ہے جب کہ عسکری قوتوں کا فرض جنگ کی تیاری ہے۔ عسکری قوت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قوت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے جب کہ سیاسی عمل پیداوار، تجارت اور علم کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔ فوجی ذہن اپنی فتح اور مخالف کی مکمل شکست کے سوا کچھ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب کہ سیاسی طریقہ کار ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کا نام ہے جس میں جملہ فریقین کے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ عسکری قوت اور سیاسی عمل ایک ہی دریا کے دو مختلف دھارے ہیں لیکن اس دریا کی روانی کا تقاضا ان دھاروں کو الگ الگ رکھنا ہے۔

چنانچہ جدید ریاست میں عسکری قوت کو سیاسی اداروں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ علمی، تمدنی اور سیاسی قوتوں کو فوج پر بالا دستی دی جاتی ہے اور قومی سطح پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فوج جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، قوم کے سیاسی نصب العین تمدنی رجحانات اور معاشی امکانات کی محتسب نہیں۔ جن قوموں میں سیاسی اور جمہوری قوتیں یہ اصول نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، وہ معاشرے جمہوریت اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں سیاسی قیادت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر عسکری قوت اپنی بالا دستی قائم کر لیتی ہے وہ معاشرے مستقل بحران پسماندگی اور اجتماعی ناکامی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔

(یہ اسکرپٹ نامکمل ہے۔۔۔ کیونکہ یہ کشمکش ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “نوٹی فیکیشن اور ٹویٹ کے درمیانی پلاٹ پر لکھا اسکرپٹ (3)

Comments are closed.