کس کی مجال جو صحافی یا میراثی کو روک سکے؟


 سلیم صافی کا تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے ساتھ انٹرویو پیمرا نے نشر ہونے سے روک دیا۔ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کا میڈیاسفاک اور انسانیت سے عاری قاتلوں کو ہیرو نہیں بناتا۔چونکہ یہ پاکستان ہے لہذا سب چلتا ہے! موصوف کو اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہونا چاہیے تھا مگر وہ تو اپنے آپ کو ایک درویش بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ پابندی کے بعد سے مسلسل ایسے مضامین تحریر کر رہے ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ ان سے بڑھ کر طالبان کا نقاد آج تک پیدا ہی نہیں ہوا۔ ان کا قلم ان ہی کی پارسائی کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھوکا راگ دھرپد میں میںجاری ہے۔ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ بضد ہیں کہ جو جوہر انٹرویو میں دکھائے وہ عوام کے سامنے آ جائیں۔ آج کے روزنامہ جنگ کے صفحہ اول پر

http://e.jang.com.pk/04-30-2017/pindi/pic.asp?picname=613.gif

پابندی کو قران حدیث کی روشنی میں حسد پر مبنی قرار دے چکے ہیں۔ چھپے ہوئے اوصاف سامنے آ رہے ہیں۔ ہم آ ج تک صحافی سمجھتے رہے۔ معلوم نہ تھا کہ مفتی بھی ہیں! وہ تمام سوالات چھاپ دیے جو انٹرویو میں پوچھے گئے تھے۔ آج کل میں جوابا ت بھی اسی طرح ےعنی قران حدیث کی روشنی میں چھپ جائیں گے۔ پیمرا کی بندش گئی بھاڑ میں!

پیمرا کیا جانے حضرت احسان اللہ احسان دامت برکاتہ کے درجات۔ احسان اللہ احسان کو دہشت قرد کہنے والا کافر۔ معلوم ہے کس پائے کے ولی ہیں اور ان کے اقوالِ زریں کی تبلیغ صدقہ جاریہ ہے۔ کیا کوئی کسی دہشت گرد سے اتنے ادب و تعظیم سے سوال کرتا ہے جیسے سلیم صافی نے کئے۔ ادب و آداب ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔ سوالات سے سو فیصد پتہ چلتا ہے کہ کوئی فرماں بردار بچہ اپنے کسی بزرگ یعنی دادا جان ، نانا جان تایا ابو یا ماموں جان سے انتہائی معصومیت سے سوال پہ سوال کئے جا رہا ہے مثلاً ریل گاڑی کیسے چلتی ہے، ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے، آسمان بغیر ڈنڈوں کے کیسے ٹکا ہوا ہے، ہیر عورت تھی کہ مرد وغیرہ وغیرہ!

یہ سب باتیں پڑھ کر اپنے محلے کا میراثی یاد آ گیا۔ بہت زبردست طبلہ بجایا کرتا تھا۔ لیکن کچھ جگاڑ کر کے ہمارے محلے کی مسجد میں پیش امام لگ گیا۔ کیسے؟ یہ ایک لمبی داستان ہے پھر کبھی سہی۔ یہ سوائے ہمارے کوئی نہیں جانتا تھا کہ جدی پشتی مراثی ہے اور کمال کا طبلچی ہے۔ کلاسیکل بھی خوب سر اور لے میں گاتا تھا مگر بے ڈار! چونکہ ہم دونوں کا استاد خانہ ایک تھا، اسی لئے اس کا بھرم رکھا۔ کوئی اور ہوتا تو ہم یہ بھانڈا پھوڑ چکے ہوتے کہ پیش امام تو دراصل مراثی ہے۔

رقاص ناچے نا اور گائیک گائے بجائے نا، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ رقاص کے پاﺅں، طبلچی کے ہاتھ اور صحافی کا قلم کون روک سکتا ہے۔ گانے کی ٹھرک تو ہر جمعرات کو پوری کر لیتا۔ ایک سے ایک ہندوستانی فلمی گانوںکی طرزوںپر حمد و ثنا کر کے مگر طبلہ کیسے بجائے! کچھ عرصے تو صبر کر کے بیٹھا رہا لیکن ایک دن اس شوق کو پورا کرنے کا حل بھی نکال ہی لیا۔۔ اس ڈھنگ سے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

 جمعے میں وعظ کے وقت گود میں طبلے کی جوڑی لے کر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے کہ لوگ رنگ میں بھنگ ڈالتے انہیں ہاتھ کے اشارے سے بٹھا دیا اور کچھ اس طرح اٹھا۔ لوگوں اے جاندے او اے کی شے وے؟ اے طبلے اے۔ حرام شے وے اسلام وچ۔ اینوں اینج وجانا منع اے شریعت وچ۔ اور یہ کہہ کر طبلے کی کنار چھیڑ دی۔ بول تھا:

تٹ دھا دھا

تٹ دھا گے

دھی نا گھے نا

دھا دھا تٹ

تین تال میں سولہ ماتروں میں پورا آتا ہے۔

پھر بولا ، تے اینون اینج بجانا گناہ اے۔ منع سے گناہ کی بڑھت کچھ ایسے کی:

تٹ دھا دھا۔تٹ دھا گے۔دھی نا گھے نا۔دھا دھا تٹ۔ دھا تٹ دھا تٹ دھا دھا تٹ دھا گے تی ناکے نا

تٹ تا تا تٹ تاکے تی نا کے نا تا تا تٹ دھا تٹ دھا تٹ دھا دھا تٹ دھا گے دھی نا گے نا

دہلی گھرانے کا قاعدہ ہے اور سولہ ماترے کے دو چکروں میں پورا آتا ہے۔

لوگ چپ سادھے غور سے سن رہے تھے۔ پھر بولا، تے اینج وجان والا کافر۔ تکفیر تک بڑھت کرتے بول کچھ ایسے ہو گئے۔

دھا تٹ دھاتٹ دھا دھا تٹ تٹ دھا دھا تٹ۔ تٹ تٹ دھا دھا تٹ۔ تٹ تٹ دھا دھا تٹ۔ دھا تٹ دھاتٹ دھا دھا تٹ تٹ دھا دھا تٹ۔ دھا تٹ دھا تٹ دھا دھا تٹ دھا گے تی ناکے نا

تاتٹ تاتٹ تا تا تٹ تٹ تا تا تٹ۔ تٹ تٹ تا تا تٹ۔ تٹ تٹ تا تا تٹ۔ دھا تٹ دھاتٹ دھا دھا تٹ تٹ دھا دھا تٹ۔ دھا تٹ دھا تٹ دھا دھا تٹ دھا گے دھی ناگھے نا

کیا کمال کی کنار بج رہی تھی کم بخت کی! اس طرح کرتے کرتے پورا دو گھنٹے دوران وعظ طبلہ بجاتا رہا اور کون سی گت یا پرن یا کون سے باج ہو گا جو ظالم نے نہ چھیڑا ہو! پہلی بار زندگی میں جمعے کا خطبہ پورا سنا! بات یہ ہے کہ صحافی اور میراثی دونوں کی میراث تخلیقی اپج میں ہوتی ہے جس کے آ گے بند نہیں باندھے جا سکتے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 40 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad