عمران خان، چین کے 200 وزیر اور ریلو کٹے پلس


پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد کے جلسے میں عمران خان صاحب نے ارشاد فرمایا کہ چین نے کرپشن کے الزام میں اپنے 200 وزیروں کو سزا سنادی ہے

اس انکشاف کے بعد چین بھی اپنے ان 200 وزیروں کو ڈھونڈتا پھررہا ہے

ہر بونگی کی ایک وجہ ہوتی ہے، عمران خان نے چین کے حوالے سے یہ بونگی کیوں ماری

جب تلاش کیا گیا تو پتہ چلا کہ چین نے کچھ عرصے پہلے 200 ملین یان کرپشن کے الزام میں اپنے ایک وزیر کو سزا سنائی اور عمران خان صاحب کو کسی سوشل میڈیا کے دانش ور نے الٹی پٹی پڑھا کر پریڈ گراؤنڈ کے اسٹیج پہ چڑھادیا گویا چڑھ جا سولی پہ بیٹا ۔۔۔ رام بھلی کرے گا۔

اگر یہی غلطی نواز شریف، آصف زرداری یا بلاول بھٹو نے کی ہوتی تو پاکستان کا سوشل میڈیا بال کی کھال اتار لیتا

پریڈ گراؤنڈ کے خطاب میں خان صاحب نے کسی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نون والے دو دو ہزار روپے دے کر جلسہ گاہ بھرتے ہیں

ویسے تو اپنی بات کو خود خان صاحب سیرئس نہیں لیتے اور یوٹرن لے لیتے ہیں تو ہم کیوں اس مخول میں پڑیں۔

مگر غضب ہو کہ آج تین بڑے کہلانے والے صحافیوں نے مجھے وہ ویڈیو بھیج کر مسلم لیگ نون کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی

میں مسلم لیگ نون کی چاک دامانی کا پہلے سے قائل ہوں مگر اس بونگی پر سر ہی پیٹ لیا۔

مانسہرہ میں سینیٹر طلحہ محمود کی دوسال پہلے عیدی تقسیم کرتے ہوئے ویڈیو کو ہمارے سیاسی کھلاڑی جلسے کے شرکاء کو پیسے بانٹنے کی ویڈیو قرار دے کر زمین آسمان ایک کئے ہوئے ہیں

صاحبان ! ہولا ہاتھ رکھیں

آپ میں سے ہی کسی نے اتنے سچے جذبات کا مظاہرہ کیا کہ یہ بونگی عمران خان کی زبان سے پریڈ گراؤنڈ کے اسٹیج سے نشر ہوگئی

لیڈر کا ایک انٹلکچوئیل لیول ہوتا ہے، ایک وزیراعظم جو عام سماج کا حصہ نہیں ہوتا، اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کرنے والا شخص کیسے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے؟

ضد اور ڈھٹائی کا یہ عالم کہ ریلو کٹے پہ سو سو وضاحتیں کرنے والے پی ٹی آئی کیمپ کے چیف صاحب نے پریڈ گراؤنڈ جلسے میں پاکستان سپر لیگ فائنل میں آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کو ریلوکٹا پلس کہہ دیا

او اللہ کے بندو! جب ہمارے ملک میں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ پلیئر کھیلنے کو تیار نہیں اور ایسے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے باوجود کوئی غیرملکی کھلاڑی کھیل رہا ہے تو بطور قوم اس کی عزت کی جاتی ہے

عمران خان آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک اور ہیکل اینڈ جیکل کے بعد منظرعام پر آنے والا ایسا مضحکہ خیز کریکٹر ہے کہ اس پہ کتابوں کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں

یہی عمران خان کے تذکروں میں ہمیشہ زندہ رہنے کا ایک بہانہ بھی ہوگا، ایسے شخص کو گمنام نہیں ہونا چاہئیے

کوئی صاحبِ قلم بونگیوں کی اس تاریخ کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کرے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔