فوج کا ٹویٹ، ردعمل اور بے بس سیاست دان (1)


آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ اور اس کے بعد ملک کے سیاستدانوں، مبصروں اور تجزیہ کاروں کے تبصروں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں کسی بھی معاملہ میں غیر ضروری مباحث کو اہمیت دینے کا رویہ راسخ ہے جبکہ اصولی موقف اختیار کرنے اور اس پر اصرار کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے مختلف ادارے اپنی صلاحیت اور اختیار سے تجاوز کرتے ہیں اور انہیں یہ رویہ اختیار کرنے پر تائد و حمایت کرنے والے بھی میسر آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال پاناما کیس کے حوالے سے دیکھی جا چکی ہے جس میں سپریم کورٹ نے معاملہ کی خالصتاً سیاسی نوعیت ہونے کے باوجود سیاسی پارٹیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس کی سماعت کا آغاز کیا اور نواز شریف اور ان کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کے بغیر ہی بینچ میں شامل دو ججوں نے دو ٹوک فیصلہ صادر کر دیا۔ باقی تین نے اگرچہ اس حد تک جانے سے گریز کیا لیکن یہ واضح کر دیا کہ وزیراعظم قابل اعتبار نہیں اور ان کے خلاف سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ حکومت، اپوزیشن اور ماہرین فیصلہ کے من پسند حصوں کے حوالے سے تبصرے اور موقف اختیار کر رہے ہیں لیکن ملک کے اعلیٰ ترین قانون دانوں نے بھی یہ سوال اٹھانے سے گریز کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم کے کیس میں تحقیقاتی ادارے کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے کیوں کر عدالت عظمیٰ کے دائرہ کار کے مطابق سمجھا جائے گا۔ ایک فرد کے خلاف اگر سپریم کورٹ تحقیقات کروا رہی ہے تو اس سے سب کے ساتھ مساوی سلوک کا اصول کیوں کر مستحکم ہوگا۔ اسی طرح تحریک انصاف اور متفرقین نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف الزامات لے کر عدالت گئے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے پاس وزیراعظم کے خلاف بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔ وہ اپنے الزام ثابت نہیں کر سکے تو سپریم کورٹ نے کس اصول قانون کے تحت نواز شریف اور ان کے بچوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی کہ وہ خود کو بے گناہ ثابت کریں۔ یہ کام سپریم کورٹ کی بجائے احتساب اور قانون شکنی کی نگرانی کرنے والے اداروں کا ہے۔ اب سپریم کورٹ انہیں ناکارہ قرار دے رہی ہے۔

کل میجر جنرل آصف غفور کا ٹویٹ جس میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک حکم نامہ کو مسترد کیا گیا ہے، اسی رویہ کا مظہر ہے جس کا مظاہرہ 20 اپریل کے فیصلہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یعنی ہر ادارہ وہ کام کرنا چاہتا ہے جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ کسی کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں کہ فوج خود کو ملک کی اصل حکمران سمجھتی ہے۔ اس مزاج کو مستحکم کرنے میں کئی عوامل شامل ہیں جن میں ملک کے سیاستدانوں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ 2011 کے میمو گیٹ اسکینڈل میں نواز شریف فوج کا دست راست بن کر خود پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے۔ اس وقت انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ ان کے اس طرزعمل سے ملک میں جمہوری روایت کمزور ہو گی، خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت پر برتری حاصل ہوگی اور عدالت سے ایک ایسے معاملہ پر فیصلہ کرنے کےلئے کہا جائے گا جو اس کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ اب اسی طرح پیپلز پارٹی اپنی باری آنے پر نواز حکومت کے خلاف ویسا ہی طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بلیو وہیل گیم کیا بلا ہے

پاناما کیس کا معاملہ ہو یا ڈان لیکس کا تنازعہ، حکومت کے خلاف سامنے آنے والے کسی بھی اقدام اور بیان کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے حکومت کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ پر سیاسی پارٹیوں نے جو موقف اختیار کیا ہے، وہ ملک میں کسی اصول کی بنیاد پر نظام استوار کرنے کی خواہش سے زیادہ ہوس اقتدار کا آئینہ دار ہے۔ کوئی یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ آئی ایس پی آر کو اتنی عجلت میں وزیراعظم ہاؤس کے ایک اعلامیہ پر دو ٹوک ، درشت اور سخت موقف اختیار کرنے کا حق کیوں کر دیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال کرنے کی بھی زحمت نہیں کی جاتی کہ فوج جو بظاہر ایک منظم ادارہ ہے اور اس کا ہر فیصلہ سوچا سمجھا اور صورتحال کے مطابق نپا تلا ہوتا ہے، کیوں ایک ایسے ’’پاور بیس‘‘ میں تبدیل ہو رہا ہے کہ کبھی کور کمانڈرز کانفرنس پاناما کیس تحقیقات میں شفاف کردار ادا کرنے کی بات کرتی ہے اور کبھی فوج کا شعبہ تعلقات عامہ حکومت کے خلاف ایسا بیان جاری کرتا ہے جو کسی بھی آئین و قانون کے مطابق نہیں اور نہ فوج کے پروفیشنل کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیا اب فوج یہ اصول منوانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کا کوئی بھی افسر کسی بھی لب و لہجہ میں اور غور و خوض کے بغیر لکھے گئے الفاظ میں ملک کی حکومت کے خلاف بیان جاری کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عاصمہ جہانگیر: آج کی کالی بھیڑ۔۔۔ 2050ء کی ہیرو!

یہ درست ہے کہ ملک میں فوج کے اس کردار کو تسلیم کروانے کےلئے مزاج تیار کر لیا گیا ہے۔ اگر سیاستدانوں کی سیاسی ضرورتوں اور لالچ کے تحت کئے جانے والے تبصروں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے عام لوگوں کے تبصروں کو ہی دیکھا جائے تو رائے کی اکثریت سیاستدانوں کو مسترد اور فوج کی تحسین کرتی نظر آتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کے ناجائز اور فوج کےلئے قابل شرم ٹویٹ پر تبصرے کرتے ہوئے بھی سیاستدانوں اور حکومت کی بدکرداری پر رائے زنی کی جا رہی ہے اور یہ تاثر عام ہے کہ فوج کا موقف بالکل درست ہے۔ بلکہ بعض انتہا پسندانہ عناصر تو یہ موقف بھی اختیار کر رہے ہیں کہ فوج کو اپنی صلاحیت اور دیانتدارانہ کردار کی وجہ سے ملک پر حکومت کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ رائے سامنے لانے والے بھول جاتے ہیں کہ فوج نے چار بار ملک پربراہ راست حکمرانی کا شوق بھی پورا کیا ہے اور اسے ہر بار سیاستدانوں سے زیادہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود فوجی مزاج اور رائے میں سیاستدان تو گناہ گار ، ناکام ، بدعنوان ، ملک دشمن اور سازشی ہوتے ہیں جبکہ فوج ملک کی حفاظت اور سلامتی میں دلچسپی رکھنے والا واحد ادارہ ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے تین سالہ دور میں ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ جیسے بینر بار بار شہروں کی سڑکوں پر آویزاں ہوتے رہے تھے لیکن فوج پر کبھی یہ حرف زنی نہیں کی گئی کہ وہ اس قسم کی غیر جمہوری اور کسی حد تک غیر قانونی اشتہاری مہم کے خلاف کیوں موقف اختیار نہیں کرتی۔

(جاری ہے)

فوج کا ٹویٹ، ردعمل اور بے بس سیاست دان (2)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 684 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali