تارڑ نگر اور راکاپوشی کے چند کُنج(1)


waqar ahmad malik”وقار ملک جس کے مختصر سراپے میں شمال کا بارود بھرا ہوا ہے ۔ ایک ایسا شخص جو تحریر سے نہیں ، تصویر سے اپنی تخلیقی قوتوں کا اظہار کرتا ہے ۔ اس کا پیش کردہ پروگرام ’سفر ہے شرط‘ جو میرے انٹرویو سے شروع ہوا تھا ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک اہم دستاویز ہے اور وہ اپنی نادانی میں ادب اور کوہ نوردی میں مجھے اپنا مرشد مانتا ہے ۔

اپنے دل کے بھید جو وہ کسی پر نہیں کھولتا ، مجھ پر کھول دیتا ہے ۔

تو میں کیسے اس کا انتظار نہ کرتا ۔ ہم کل سویر نہیں وقار کے پہنچنے پر پرسوں صبح بلند پہاڑوں کے سفر پر روانہ ہوں گے“ (مستنصر حسین تارڑ)

پرسوںصبح روانہ ہوں گے۔ ہپاکن کی چراگاہ میں کنج کنارے چند پھول کھلے ہیں ۔وہ چند پیلے پھول التر پر ڈھلتے سورج کی ترچھی کرنوں میں مزید زرد ہوتے ہیں۔ وسیع زمان و مکان میں وہ صرف کِھلنے کے خوشگوار تجربے پر قناعت نہیں کرتے ۔وہ اپنے جوبن کے وجود پر چند گواہ چاہتے ہیں۔

یہ چند گواہ اپنے رہبر مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ دران گیسٹ ہاﺅس میں مقیم ہیں لیکن ان کی آمد مزید ایک دن کے لیے موخر ہو چکی ہے۔

میں دفتر بیٹھا تھا کہ اچانک یاد آیا تارڑ صاحب ملک چین سے واپس آچکے ہوں گے۔ان سے بات کیے کافی دن ہو گئے ہیں۔ نمبر ملایا۔ کال ملی۔ اور دوسری طرف سے تارڑ صاحب کی آواز سنائی دی ۔ ابتدائیہ اسی جملے پر مشتمل تھا جس سے وہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں ، ’ہور سنا ﺅکی حال اے‘ لیکن ساتھ ہی اگلا جملہ غیر متوقع تھا۔

12325093_10154056416673578_2035874807_nتھوڑ ااندازہ کرو میں کہاں ہوں ؟

میں نے کہا ، سر میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ کوئی اشارہ تو دیں

نہیں تم بتاﺅ ، میں کہاں ہوں تارڑ صاحب کے لہجے میں بچوں کی سی ضد اور شوخی تھی

اس شوخی کا ادراک ہوتے ہی جیسے میرے سر پر ٹھن سے کوئی چیز بجی اور میں نے دل میں خیال کیا ۔۔

کیا کہیں ۔تارڑ صاحب۔لیکن نہیں ایسا کہاں ممکن ہے ؟

انہوں نے خود شراب شمال سے توبہ کا اقرار میرے سامنے کیا ہے اور بار ہا کیاہے۔۔کہیں رند نے توبہ توڑ تو نہیں دی؟

عشقِ گلگت بلتستان ایک مرض ہے۔

میں پچھلے سال جب سکردو سے واپس آ رہا تھا تو سکردو روڈ پر شنگس کے قریب ٹائر پنکچر ہوا۔ وہ دن ہے اور آج کادن ، سات ماہ بیت گئے ہیں۔ میں موٹر سائیکل روزانہ چلاتا ہوں اور احتیاط سے چلاتا ہوں۔ ہر وقت دل کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ٹائر پنکچر نہ ہومبادا کہ کہیں وہ ہوا جو دریائے سندھ کے کنارے ٹائر میں بھری تھی ٹائر سے نکل جائے۔

میں جسمانی طور پر شمال سے بھلے دور سہی ، لیکن موٹر سائیکل کے پچھلے ٹائر سے ایک خاص رشتہ قربت مجھے اس جدائی میں حوصلہ دیتا ہے۔

میں گواہ ہوں ہوں ان مغربی باشندوں کا جنہوں نے ہمیشہ کے لیے امریکہ اور یورپ چھوڑ کر گلگت بلتستان میں سکونت اختیار کی ۔ کوئی ڈاکٹریٹ کے تھیسز کے لیے آئی اور پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور اپنے ملک پر دو حرف بھیج کر یہاں کی ہو رہی ۔

12527689_10154056416628578_1937809085_nآپ کو ان دوفرانسیسی لڑکیوں کا قصہ نہ سناﺅں جو برسوں سے یہاں مقیم تھیں۔ ہر دفعہ ان کے ویزہ کی توسیع صرف اس شرط پر کی جاتی تھی کہ یہ آخری دفعہ ہے۔ پھر ایک دفعہ وہ لاہور میں ملیں۔ شمال سے آئیں تھیں اور ویزہ کی توسیع چاہتی تھیں جو نہیں ملی۔ جب ایک دن رہ گیا اور ان کو اپنے ملک واپس جانا تھا تو ایک فرانسیسی لڑکی باغی ہو گئی اور یہ کہہ کر واپس ہنزہ چلی گئی کہ میری لاش کو ہی یہ یہاں سے نکال سکتے ہیں۔ اس واقعہ کے چار ماہ بعد میں ہنزہ گیا اور اس کا پوچھا تو معلوم ہوا ، ادھر ہی رہ رہی ہے آج کل مناپن گئی ہوئی ہے۔

یا کیامیں ان سیکڑوں جاپانیوں کا ذکر نہ کروں جو ہنزہ میں طلوع آفتاب کے وقت اس کی جانب رخ کر کے کھڑے ہوتے ہیں۔ آنکھیں بند ہوتیں ہیں اور دونوں ہاتھ حالت پرنام میں ہوتے ہیں ۔چیری کے پھولوں کے پس منظر میں یہ مقدس ہیولے پتھروں کی مانند ساکت کھڑے ہوتے ہیں۔

یا ان انگریزوں کا ذکر کروں جو چاند رات کی چودھویں تاریخ کو ، لشکتی راکاپوشی کے حسن کی تاب نہ لا کر زارو قطار روتے تھے۔

راکاپوشی کے گلئیشرز سے آتے نالے شور کرتے تھے اور ان کے شور میں کہیں کہیں سسکیوں کی آتی آواز زمان و مکان سے مجھے ماورا کرتی تھی۔

اور پھر وہ بھی تو ہیں جو یہاں رہ نہیں سکتے لیکن جنہوں نے اپنے ملکوں میں اپنے گھروں کو چھوٹا سا گلگت بلتستان بنا رکھا ہے۔ جہاں ہر مہینے کی ایک شب یہ مریض اکھٹے ہوتے ہیں ۔ اس چھوٹے سے گلگت بلتستان نما گھر میں کہ جہاں کی دیواروں پر راکاپوشی ، سپنتک، دران اور نانگا پربت کی تصویریں ہیں۔ گھر میں روایتی گلگت بلتستان کے کھانے ہیں اور ریکارڈ شدہ ہنزہ کی موسیقی ہے اور پھر سامان خمار کے لیے خوبانی کی کشید ہے۔

12421287_10154056416623578_1049949075_nذہنی مریضوں کا ہی ذکر چھڑا ہے تو مجھے یہ اقرار کر لینے دیں کہ لوک ورثہ کی وین میں میرے ڈپٹی ڈائریکٹر یوسف ہارون اور میں پچھلی سیٹوں پر بیٹھے یہ دعا کرتے تھے کہ اللہ کرے ہماری وین کا ٹائر پنکچر ہو جائے۔ رات کو ایک دفعہ کالے خوفناک دکھائی دیتے قراقرم کے پہاڑوں میں ٹائر پنکچر ہو گیا۔ ہمارے ڈرائیور خان صاحب کو ہماری اس سازشی دعا کا علم ہوا تو بے چارے نے ڈپٹی ڈائریکٹر کو تو کیا کہنا تھا، مجھ پہ چڑھ دوڑا کہ یہ تم لوگ کیسی دعائیں کرتے ہو ، ٹائر مجھے بدلنا پڑتا ہے ، تم لوگوں نے تو قراقرم ہائی وے پر بھنگڑا ہی ڈالنا ہوتا ہے اور غضب خدا کا یوسف ہارون کتنا سنجیدہ افسر ہے لیکن میں نے ٹائر بدلتے دیکھا کہ وہ سڑک کو چوم رہا تھا ۔ لاحول ولاقوہ!

میں ریتلے اور بنجر پہاڑوں پر اگنے والی جنگلی بوٹی کا ذکر بھی نہ کر دوں کہ جب شتیال کا قصبہ عبور کرتے ہیں اور گلگت بلتستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو اس کی مہک آپ کے نتھنوں سے ٹکراتی ہے ۔ عشق گلگت بلتستان کے مریض اس بوٹی کو واپس اپنے ساتھ لاتے ہیں اور جس طرح ایک نشئی کا دوسرے نشئی کو سب سے بڑا تحفہ وہ نشہ ہوتا ہے جو وہ مشترکہ طور پر کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہ عاشق دوسرے عاشقوں کو اس بوٹی کی چند مہکتی مرجھائی جڑیں تحفے میں دیتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے یہ تحفہ تارڑ صاحب کو دیا تو ان کی موٹی آنکھوں میں تیرتی نمی نے مجھے سبق دیا کہ عاشق کے لیے فراق کا دکھ کتنا بڑا دکھ ہوتا ہے ۔ ان کے لیے شمال جانا اب اتنا آسان نہیں ہے ۔ میں نے وہ تحفہ پھر کبھی نہیں دیا۔

لیکن شمال سے دوری کے غم میں کیا کمی آئے گی کہ تارڑ صاحب نے اپنے کمرے میں جا بجا تصویروں کی صورت خود اذیتی کا سامان کر رکھا ہے۔

یہاں ایک دلچسپ جرم کا اقرار کرتا چلوں۔ مختلف ٹیلی ویژن چینلز سے مجھے فون آتے تھے کہ تارڑ صاحب کا انٹرویو کروا دوں۔ ان دنوں مارننگ شوز کے لیے تارڑ صاحب کی بطور مہمان بڑی مانگ تھی۔ میں نے چند ایک بار تو تارڑ صاحب سے گذارش کی اور وہ مارے مروت کے چلے گئے، لیکن تارڑ صاحب کئی دفعہ مجھے کہتے تھے کہ گھر سے باہر جانا ان کے لیے عذاب ہوتا ہے بالخصوص اگر کسی ٹیلی ویژن شو کے لیے جانا ہو۔ مجھے ایسے لگتا جیسے مجھے ہی سنا رہے ہیں۔ تو آہستہ آہستہ میں نے چٹا انکار کرنا سیکھ لیا۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ تقاضا کرنے والے کئی بہت قریبی محترم دوست ہوتے تھے جو براہ راست تارڑ صاحب کو فون کرنے سے بھی جھجکتے تھے کہ تارڑ صاحب کھری کھری سنانے میں شہرت رکھتے ہیں۔

12788006_10154056416658578_107013654_nحالانکہ یہ ان کا جاٹ لہجہ ہے اور آپ ان کو کچھ بھی کہہ دیں ، مثال کے طور پر ، سر کچھ لکھا ہے اس مسودے پر نظر ڈال دیں، جواب ملے گا ، او نئیں نئیں میرے کول ٹیم نئیں ۔ اگر آپ کہیں ، سر وہ ایک شو کے لیے آپ کو بلانا چاہ رہے تھے ، او نئیں یار میرے کول فضول ٹیم نئیں۔

یہاں پر یار لوگ دم ہار بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ میں ایک ادیب کو فون کرتے ہیں جس کا انداز لکھنوی ہوگا اور آپ جناب سے گفتگو کرتے ہوں گے ۔ لیکن تارڑ صاحب لاکھ ادیب سہی ، اٹھک بیٹھک اور گفت و شنید میں وہ جاٹ ہیں۔

جو لوگ ہار نہیں مانتے اور ایک دو دفعہ مزیدکہنے کی جرات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے ، اچھا چل فر سوچاں گے، شو دا ٹائم کی اے؟

لیکن یہ ہار نہ ماننے والوں کی تعداد نہ ہونے کہ برابر ہے ۔ مجھے تارڑ صاحب کے انٹرویو کے لیے وہی طبقہ کہتا تھا جو جلد ہار ماننے والوں میں سے تھا۔ میں نے ایک دفعہ ایک قریبی دوست کو ایک ٹپ دی جو ایسی کارآمد ہوئی کہ بعد میں ہر دوست کو اس سے دل کھول کر نوازا۔

ٹپ یہ تھی کہ جیسے ہی تارڑ صاحب فون اٹھائیں ، تم نے یہ نہیں سوچنا کہ وہ کیا کہتے ہیں یا وہ کیا کر رہے ہیں ، یا وہ بات سننے پر آمادہ ہیں بھی یا نہیں ۔

تم نے سلام کرنا ہے اور جیسے ہی سلام کا جواب پاﺅ تو ایک مشین کی ماننداس طرح کے فقرے ادا کرنا شروع کر دو

’ سر وہ چوپرساں جانے کے لیے اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا میں تو اس سال پروگرام بنا رہاہوں کہ مسگر جاﺅں اور مسگر کے شہریوں اور سرحد پار سے آئے کرغز لوگوں کے مابین صدیوں پرانے بارٹر سسٹم کو دیکھوں۔ سنا ہے سر وہ اونچے گھوڑوں پر بیٹھے روایتی لباسوں میں ہوتے ہیں اور یہاں یاک کا پنیر دے کر مسالے خریدتے ہیں اور سر سنا ہے کہ جب یہ کرغز لوگ گھوڑوں اور یاکوں کے ساتھ ، عقاب ہاتھ میں لیے بلند پہاڑوں سے اترتے ہیں تو بھلا منظر ہوتا ہے ، کیا کہتے ہیں آپ واقعی ایسا ہوتا ہے؟ “

ایک اور دوست کو مشورہ دیا کہ بات کو اس طرح شروع کرو۔

’سر ہوشے اور خپلو پر آپ سے راہنمائی چاہیے تھی۔ ہوشے سے کتنا پیدل جانا پڑے گا اس گاﺅں تک سر ، جہاں وقت چار ہزار سالوں سے ٹھہرا ہوا ہے ، جہاں قدیم خانقاہیں ہیں اور لوگ آسمان پر جہاز کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں کہ کیسا پرندہ ہے جو عجیب شور کرتا ہے‘

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ تجاویز انہی کو دیں گئیں جوپہلے سے ہی شمال کا خبط اور معلومات رکھتے ہیں ورنہ میں سمجھ سکتا تھا کہ شمال سے ناواقف دوست مروا دے گا، جن کو فون کرے گا ان کا نام مستنصر حسین تارڑ ہے جو شمال سے اپنے ہاتھ کی لکیروں جتنی شناسائی رکھتے ہیں۔

ایک اور تجویز یہ بھی دیا کرتا تھا کہ کچھ بھی بولو لیکن تمھارے ابتدائی تین فقروں میں پانچ سے چھ نام شمال کی جگہوں کے ہونے چاہییں۔ گلمت، گلگت، پسو، اردوکس، جگلوٹ، اسکولے، غوندوغورو لا، ہراموش، سسی، ہندی، گاہکوچ، گوپس ، چلمش داس، روندو ، شنگس…. ان میں کون سا نام ہے جو تارڑ صاحب سنیں اور ان کا دل ایک دبی دبی سسکی نہ لے۔

تو تارڑ صاحب نے پوچھا، بتاﺅ میں کہاں ہوں اور ضد کی کہ میں اندازہ لگاﺅں۔

اور پھر تارڑ صاحب کی جذبات سے لرزتی آواز آئی ، اوئے میں بشام میں ہوں ، بشام میں کیا سمجھے؟

میرے زبان سے باوجود کوشش کہ صرف ایک ہی لفظ نکل پایا ” کیا…. ؟“

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “تارڑ نگر اور راکاپوشی کے چند کُنج(1)

Comments are closed.