گلبدین حکمت یار کی طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل


افغان جنگجو گلبدین حکمت یار نے تقریباً بیس سال کی جِلا وطنی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ شدت پسند گروپ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار ستمبر میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور فروری میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا جس کے بعد ملکی سیاسی دھارے میں حکمت یار کی واپسی ہوئی۔

صوبہ لُغمان میں ایک تقریر میں انہوں نے طالبان سے اپیل کی کہ ‘وہ بھی امن کے کارواں میں شریک ہو جائیں اور بقول ان کے اس بے معنی اور ناپاک جنگ کو روکیں’۔

گلبدین حکمت یار کی واپسی پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے ناراضی ظاہر کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی پیٹریشیا گوزمین کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی توہین ہے جو حکمت یار کے ہاتھوں مارے گئے اس طرح گناہ سے بچنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی’۔

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں