امن اور جنگ کے بیانیے کی جنگ


انتہا پسندی کے عفریت کی وجہ سے ہمارے ہاں امن اور جنگ کے بیانیہ اور جوانی بیانیہ( Counter Narrative) کی بحث ہمارے ہاں کچھ برسوں سے اخبارات و رسائل کی زینت بنی ہوئی ہے۔ راقم الحروف اس ضمن میں کسی انقلابی اضافے کا دعویدار نہیں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس قدر دقیق اور پیچیدہ مسئلے پر اخبارات و رسائل کی سطح پر بحث ایک حل کی بجائے خود ایک مسئلے کی موجودگی کا ثبوت ہے جو کہ ہمارے سماج میں علمی بے مائیگی اور سطحیت کی نشاندہی کرتی ہے ۔ راقم الحروف بھی حل کی بجائے صرف مسئلے کی نشاندہی کا مدعی ہے ۔ بلکہ کسی حد تک مسئلے کو بڑھانے اور مزید پیچیدہ کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ لہذا قاری سطورِ زیریں کا اپنی ذمہ داری پر مطالعہ کرے۔ راقم الحروف کو اس کا الزام نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے پہلے سے قاری کو خبردار نہیں کیا ۔

انسانی سماج اور اس کی سیاسی و ثقافتی حرکیات (Dynamics) کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ خاص تصورات سماجی و علمی کلامیے کا وقت کے ساتھ ساتھ لازمی حصہ بن جاتے ہیں اور انہی کلامیوں  سے وہ تمام تصورات اس سماج کی عمومی سوچ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ اور یہی وہ تصورات ہیں جن کے تناظر میں تمام سماجی عوامل کو دیکھ اور پرکھا جاتا ہے ۔ یہ تصورات جب  سیاسی بیانیے میں ڈھلتے ہیں تو جذباتی و جبلی طور پر کسی بھی علمی اور سیاسی نظریات کے بنیادی مقدمات کی علمی صحت تک کا تعین کرنے کے لئے استعمال ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ گویا ان میں سے کسی تصور کے معیار پر علمی و سیاسی نظریہ پورا نہ اترے تو اس کے بنیادی مقدمات تک کو کلی یا جزوی طور پر رد کر دیا جاتا ہے ۔ امن، جنگ، ترقی اور ارتقا ایسے ہی چند تصورات ہیں جو کہ ہم اپنی عام زندگی سے لے کر علمی میدان میں بھی استعمال کرتے ہیں ۔

بظاہر بدیہی اور واضح معنی رکھنے والے تصورات ذرا سی تحقیق کے بعد نہایت پیچیدہ حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور ہمیں ان کے معنی پتہ ہوتے ہیں تاوقتیکہ ان کے معنی ہم سے پوچھ نہ لئے جائیں ۔ یہ الفاظ ایسی چلنتر لغت ہیں کہ جن میں ہم اپنی مرضی کی کوئی بھی بات بے دریغ دھانس دیتے ہیں اور اس کے نتائج کو ایک حل کے طور پر پیش کر دیے جاتا ہے۔ حالانکہ ان الفاظ کی بنیاد پر کیا گیا تجزیہ ایک حل نہیں بلکہ خود ایک بنیادی فکری مغالطہ ہے جس سے حل نکلنے کی بجائے مزید الجھاوٗ پیدا ہوتا ہے ۔ سماج اور نظریات کو ایسے سادہ تصورات سے نہ تو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی بھی سیاسی اور سماجی ادارے کے ساتھ ان سے پیدا ہونے والے فکری نتائج کا کوئی تخلیقی تعلق جوڑا جا سکتاہے ۔ ایسی کسی بھی بحث کے لئے سماج کے بنیادی فکری ڈھانچے اور اس کی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت درکار ہوتی ہے ۔ کوئی بھی سماج اپنی فکری ساخت میں دو فکری تناظرات کا مجموعہ ہوتاہے ۔

A۔ علمیات Episitemology یعنی وہ سماج ذرائع علم کے بارے میں کیا تصور رکھتا ہے اور علم کی ساخت اور ماہیت کو کس طرح اپروچ کرتا ہے ۔

B۔ وجودیات (Ontology) یعنی حقیقت کی ماہیت کے بارے میں اس سماج کا تصور۔ ان دو علمی تصورات کے بارے میں سماج کا رویہ اور اس کے تمام تر سماجی اور سیاسی حرکیات کا تعین کرتا ہے ۔ جو جواباً خود ان دو تصورات کو مسلسل متعین کرتے ہیں ۔ کسی بھی بیانیے اور  نظریے کی بحث اس سماج کی اس زیرتہہ  فکری سا خت کو سمجھے بغیر ادھوری ہی نہیں بلکہ بے معنی ہے ۔ من پسند سماجی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ سماج کے ہر بیانیے اور نظریے کا اس کے تاریخی طور پر ارتقا پانے والے فکری ڈھانچے کے ساتھ کیسے تخلیقی تعلق چوڑا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں کسی اور سماج کے پیدا کردہ بہتر یا بدتر نتائج کو بنیاد بنا کر کسی دوسرے سماج پر اس کا اطلاق محض ایک فکری مغالطہ ہے ۔ اس سلسلے میں مغرب کی مثال اسکے پیدا کردہ نتائج پر دی جاتی ہے اور اس کے بنیادی فکری ڈھانچے کی تاریخ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔اس تاریخی اور فکری حقیقت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ کسی نئے بیانیے کی بجائے صرف بیانات کی صورت میں نکلتا ہے ۔

جہاں تک مسلم دنیا اور خاص کر پاکستان کا تعلق ہے اس کا بیانیہ دراصل تاریخی طور پر ہی ایک استخراجی یا deductive textual approachپر مبنی ہے جس کی بنیاد پر ہی فکر کی تشکیل ہوتی ہے اور سیاسی اور سماجی نظریات کے ساتھ ساتھ قومیت تک کا تصور اسی سے اخذ کیا جاتا ہے ۔ سماجی علوم کا ایک اٹل اصول ہے کہ استخراجی متن کا  طریقہ کا ر لازمی اور ناگزیر طور پر حاکمیت پسندی کی طرف  لے کر جاتا ہے ۔ تاریخی طورپر دیکھا جائے تو 1600سال تک مغربی فکر و سماج اسی استخراجی منہاج کی وجہ سے مذہب پر مبنی ایک جبریت کا شکار رہا ۔ اس امر کے باوجود کہ انکے ہاں مذہب میں کسی ریاست و قانون کو مذہب سے اخذ کرنے کااس کے ابتدائی ادوار میں ذکر نہیں ملتا لیکن جیسے ہی  استخراجی سوچ نمودار ہوئی تو عیسائیت میں پاپائیت  داخل ہو گئی ۔

مسلم معاشروں میں عام طور پر تین بیانیے موجود ہیں ۔

1۔ لبرلز کا نتائجیت پسندی پر مبنی فکر ۔ یعنی liberal pragmatism

2۔ انتہا پسندی کا بیانیہ ۔جو یا تو کچھ صورتوں میں جدید اداروں یہاں تک کہ سماج کی سطحی تبدیلی سے بھی انکار کرتے ہیں یا پھر وہ جو جدید اداروں کو قبول تو کر لیتے ہیں لیکن مذہبی قوانین کی قبائلی اور ٹھیٹھ تعبیرات کرتے ہیں ۔ پہلی صورت تو طالبان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور دوسری مذہبی سیاسی جماعتوں کی صورت میں ۔

3۔ تیسری صورت moderateمذہبی فکر ہے جو قدیم اور جدیدمذہبی فکری ذرائع سے جدید اداروں اور تصورات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشیش کرتی ہے ۔

اگر ان تینوں رحجانات کو بغور دیکھا جائے تو انکی بنیاد کسی نہ کسی طرح استخراجی منہاج ہی ہے جو کوئی حل پیش کرنے کی بجائے معاملے کو مزید الجھا دیتی ہے اور تینوں ہی صورتوں میں یہ بحث کا رخ  “کیا مذہبی منہاج سے رجوع کیا جائے؟” کی بجائے  ” کس مذہبی روایت سے رجوع کیا جائے ” کی طرف موڑ دیتی ہے جو مزید فکری انتشار کا سبب بنتی ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟

مذہبی اور سیکولر دونوں فکروں میں سے سیاسی بیانیے اور نظریات اس فکر کی علمیات اور نظریہ حقیقت سے دو طرح سے اخذ کی جاتی ہے جس میں سے ایک “ترجمانی منہاج” ہے اور دوسرا اجتہادی منہاج ہے ۔

ترجمانی یا استخراجی منہاج، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے، ایک غیر تخلیقی پن اور جمود کی وجہ بنتا ہے اس میں صرف مذہبی فکر ہی نہیں بلکہ غیر مذہبی اور سائنس پر مبنی ہونے کے دعویدار نظریات بھی پوری شدت کے ساتھ شامل ہیں ۔ جیسا کہ مارکسزم اور فاشزم ۔ موجودہ دور میں scientism کے اندر بھی ایسی ہی اپروچ پائی جاتی ہے ۔ کلاسیکل اور ریڈیکل مارکسسٹ کے مناظروں میں یہ بات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے ۔ ان سب کے نتائج کو دیکھنے اورسمجھنے کے لئے آئن سٹائن ہونے کی ضرورت نہیں۔

جب کہ دوسرا فکری رجحان یعنی transformative approach کسی استخراجی اور textual طریقہ کار کو بنیاد بنانے کی بجائے سماج کے اجتماعی لاشعور اور فکری ڈھانچے کے ساتھ ایک تخلیقی اور متغیر تعلق جوڑنے کا نام ہے ۔ یہ طرزِ فکر سماج کے اجتماعی وقوفی عمل (Cognitive process) اسکی علمیات اور نظریہ حقیقت کو ایک تخلیقی تعلق میں پرو دیتی ہے ۔ کوئی بھی سماج اور ثقافت خود اپنی موجودگی سے ہی اس بات کا ثبوت دے رہی ہوتی ہے کہ اس میں ایسی فکر کی نمو کا امکان موجود ہے ۔ خود مسلمانوں کی چند ابتدائی صدیاں اس کا تاریخی ثبوت ہیں کہ انہوں نے فلسفے ، سائنس اور یہاں تک کہ سماجیات میں ایسی ہی تخلیقی فکر سے کام لیا ۔ گو کہ کٹھ ملائیت بھی موجود رہی لیکن تخلیقی فکر اپنے آپ کو منواتی رہی ۔ اس دور کے حکماء نے مذہبی رجحان ہوتے ہوئے بھی تمام تر فکری ، علمی اور سماجی مسائل کی طرف ایک ’’ سیکولر ‘‘ رویہ ہی اختیار کیا۔ تاہم انکی تمام فکری مسائل کے پیچھے مذہب کا ایک  تحریکی پہلو موجود رہا اور اس فکری عمل میں انہوں نے سماج کی عمومی اور اجتماعی فکر سے کٹ کر کسی بھی یوٹوپیائی  سوچ اور حل کی بجائے ایک تخلیقی سطح پر ان سے تعلق استوار کیا ۔

دوسری طرف ہمارے ہاں کی لبرل فکر اپنے سماج کی تاریخی طور پر پیدا ہوئے فکری ڈھانچے سے مکمل عدم واقفیت یا سطحی اور عامیانہ فہم کے باوصف کسی نہ کسی سطح پر ایک utopia کو ہی حل کے طور پر پیش کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ روزمرہ کی رنگ رلیوں سے زیادہ آگے کے لبرل ازم کا تصور بنانے میں ناکام رہتے ہیں ۔ لبرل فکر عمومی طور پر اور ہمارے ہاں کے لبرل حلقے خاص طور پر کس طرح اس استخراجی طریقہ کار کی وجہ سے لبرلزم میں موجود ظاہری تضادات کو حل کرنے میں ناکام رہتی ہے اس کا تذکرہ پھر سہی ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راؤ عبدالمنان کی دیگر تحریریں
راؤ عبدالمنان کی دیگر تحریریں