جا بیٹا چور بن، تیرا اللہ نگہبان


نیلی بار کی گائے بھینسیں مشہور ہیں۔ ان گائے بھینسوں کی شہرت سے جلتے چور بھی یہیں ڈھیروں ڈھیر رہتے ہیں۔ ان مسکین چوروں کو اتنی شہرت نہیں مل سکی جتنی یہاں کی گائے اور بھینسوں کو ملی۔ اوکاڑہ ،ساہیوال، پاک پتن، کمالیہ اور شاید قصور بھی نیلی بار میں ہی آتے ہیں۔ راوی اور ستلج کا درمیانی علاقہ۔ پرانی بات ہے ایک دعا کے لیے ایک دوست کے ہاں جانا ہوا۔ گاڑی مسنگ کر رہی تھی، پیٹرول میں کچرا ہو گا۔ گاڑی کو یہ سوچ کر ریس دی کہ اس جگاڑ سے کچرا نکل جائے گا اور بات بن گئی۔ لیکن ایک الٹا کام یہ ہو گیا کہ جب گاڑی شور مچاتی دوست کے ڈیرے کے قریب پہنچی تو دعا کے لیے بیٹھے لوگ اٹھ کر بھاگ گئے۔ لمحوں میں جگہ خالی ہو گئی۔

گاڑی روک کر باہر نکلے ادھر ادھر دیکھا اور حیران! صورتحال سمجھنے کی کوشش کی تو میزبان نے ایک درخت کے پیچھے سے سری نکال کر کہا ’’او وسی توں‘‘۔ آ جاؤ سارے بس پھر کوئی چھت سے اتر کر واپس آتا دکھائی دیا۔ کوئی درخت سے کوئی پچھلی دیوار سے کود کر واپس آیا۔ دعا کی، اپنے میزبان سے پوچھا کہ کدھر گئے تھے۔ اس نے کہا نس گئے تھے یعنی فرار۔ پوچھا کیوں تو اس نے جواب دیا کہ ہم لوگ سمجھے پولیس کا چھاپہ پڑ گیا ہے۔ کچھ سمجھ نہ آیا تو پوچھا کیوں کوئی تنازعہ چل رہا تو میزبان بولا ’’او نہیں یارا۔ کوئی نہ کوئی پُٹھا کم چلتا ہی رہتا، ہمیں کیا پتہ کہ کون سے کم (کام) پر کوئی قانون لگ جائے۔ گاڑی آتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں۔‘‘

یہ کوئی بہت پرانی کہانی نہیں، دس پندرہ سال ہوئے ہوں گے۔ لیکن پنجاب کے مقامی باشندوں کا مائنڈ سیٹ آج بھی وہی ہے جو اس ہڈ بیتی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ مقامی لوگ جب حملہ آوروں کا نشانہ بنے تو دریاؤں کی جانب کھسک لیے۔ حملہ آور حکمران بنے کہ زور آور تھے تو انہوں نے اپنا قانون بنایا۔ لوکل باشندوں نے قانون کی مزاحمت، اس کے انکار کو اپنے لیے چیلنج سمجھ لیا اور اسے توڑنا مردانگی کی علامت ٹھہرا۔ نیلی بار تو بس ایک علامت ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ پاکستان کے ہر کونے میں موجود اور توانا ہے کہ ہم بہرحال آپس میں جڑی ہوئی ایک زندہ قوم ہیں جو خوبیوں اور خامیوں کا ساجھا خوشی خوشی کرتی ہے۔ خان صاحب کی یاد آگئی۔ چارسدہ کے ایک خان صاحب ہمارے ہمسائے تھے۔ چارسدہ مردان کے خان پاکستانی سیاست میں بہت مشہور ہیں لیکن ہمارے مشر ملک صاحب ان خان حضرات کے بارے میں ایک جگت لگایا کرتے ہیں’’یومیخہ دوہ پٹی یو زوڑ موٹر او خان تیار‘‘ یعنی بس ایک بھینس دو جیرب زمین اور ایک پرانی موٹر ہو تو ایسا بندہ پھر خان ہوتا ہے، اچھا بھلا نسخہ ہے۔ چارسدہ مردان کے ایسے خان دنیا داری کی سیاست کی بہت سمجھ رکھتے ہیں۔ تو ہمارے خان صاحب اکثر ہمیں سمجھایا کرتے تھے ’’بچئے غریب کرہ پیدا شوے نو سیاست بہ کئے‘‘ بیٹا غریب کے گھر پیدا ہو گئے ہو تو پھر سیاست سے ہی زندگی گزارنا۔ ہیں نا ہم سب ایک جیسے؟

ہم اپنے لوگوں اور اپنے سسٹم کو نہیں جانتے اور اپنی بنیادوں میں موجود خرابیوں کو سمجھتے ہی نہیں۔ ٹھیک تو انہیں تب کریں گے جب ان کی نشاندہی کر پائیں گے۔

سیاست کو ممکنات کا فن بتایا جاتا ہے۔ زندگی سیاست سےگزارنے کا مطلب ہے کامیابی کی جانب، عقل استعمال کرتے اور تنازعات سے بچتے ہوئے بڑھنا اور وہ بھی کم محنت کے ساتھ۔ مشکل فن ہے اور مزے کا بھی۔ سیاستدان مشکلات میں بھی راستے نکال ہی لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے آمر سیاستدانوں سے اکتا کر انہیں سیاسی میدان سے باہر کرنے کے لئے بی اے کی ڈگری جیسی مزاحیہ شرائط پر اُتر آتے ہیں۔ سیاستدان بھی پھر اسی دھرتی کے واسی ہیں وہ دو نمبر ڈگریاں بنا کر اسمبلی پہنچتے ہیں اور ان عقل مندوں کے سینے پر مونگ دلتے ہیں۔

سیاستدانوں کو ہم بڑے آرام سے کرپٹ کہہ دیتے ہیں۔ ایک سیاستدان کوزرا دھیان میں لائیں۔ سوچیں کہ وہ امیدوار یا ممبر قومی یا صوبائی اسمبلی ہے یا چلیں کونسلر ہی ہے۔ اس کے گھر روزانہ دس بیس پچاس سو دو سو لوگ اس سے ملنے آتے ہیں۔ ان سب کی وہاں سیوا ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے کام کرنے کے لیے سیاستدان فون کرتا ہے ان کے ساتھ جاتا ہے تو اپنا پیٹرول جلاتا ہے۔ اپنے کارکنوں پر خرچے کرتا ہے۔ انتظامیہ سے تعلق بنا کر رکھتا ہے اس پر وسائل خرچ کرتا ہے۔ یہ روزانہ جو براتیں اس کے ڈیرے پر اترتی ہیں ان کاخرچہ وہ کہاں سے کرتا ہے۔ ایسا کون سا کاروبار ہے جو اتنے بندوں کے لیے وسائل فراہم کرتا ہو۔

لوگ یہ سب جانتے ہیں انہیں اپنی اوقات بھی معلوم ہے اور اپنے سیاستدان کی مجبوریوں سے بھی واقف ہیں۔ لوگوں کو پتہ ہے کہ یہاں جعلی مقدمات میں لوگوں کو بند کیا جاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں وہی سیاستدان وارا کھاتا ہے جو قانون کی ناک مروڑ کر ان مقدمات میں گرفتار لوگوں کو نکال کر ریلیف فراہم کرا سکے۔ لوگ اس بندے کو بطور لیڈر بھی اتنا پسند نہیں کرتے جو یہ شور مچاتا رہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی ہو گئی۔ لوگ الگ طرح سے سوچتے ہیں، جو اپنے ساتھ دھاندلی نہیں روک سکا وہ ہمارے ساتھ دھاندلا کیسے روکے گا، ایسا شغلی لیڈر ہمارے کس کام کا۔

 خان محسود ہمارے فیملی فرینڈ تھے وہ جب گھر آتے تو ہماری تعلیمی قابلیت کا ٹیسٹ لیا کرتے تھے۔ جب مطمئین نہ ہوتے تو کہتے ’’ابے پڑھے گا نہیں تو غل بنے گا‘‘۔ مایوس ہی ہو جاتے تو پھر دعا بھی دے دیتے کہ ’’زہ بچے غل شہ خدائے دے مل شہ‘‘ جا بیٹا چور بن، تیرا اللہ نگہبان۔

عدالت ہمیں خطاب کرتی ہے تو ہمیں گاڈ فادر کی داستان سے مثال دیتی ہے۔ ہماری چور طبعیتوں کو نظرانداز کرتی ہے۔ اس طبعیت کو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہے مائی لارڈ۔ ہم اپنی دھرتی سےجڑی روایتوں مثالوں پر ہی غور نہیں کرتے کہ مسائل کی جڑیں ہیں کدھر تبدیل کیا کرنا ہے، ظاہر ہے مائنڈ سیٹ۔ لیکن اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 244 posts and counting.See all posts by wisi