مزید تماشا نہ لگائیں


کیا حکومت پاکستان کا پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر کوئی خبر رکوا سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے یہ ناچیز آپ کو ایک ایسی خبر کی مثال پیش کرنا چاہتا ہے جسے ایک انگریزی اخبار میں اشاعت سے روکنے کے لئے ایک فوجی حکومت نے اپنے پی آئی او کے ذریعے بھرپور کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ یہ واقعہ نومبر 2001ء کا ہے۔ نائن الیون کو دو ماہ گزر چکے تھے۔ افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری اپنے عروج پر تھی۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے تھے اور یہاں سے بیٹھ کر افغانستان کی جنگ پر تبصرے کئے جا رہے تھے کیونکہ افغانستان میں داخل ہونا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ انہی دنوں بی بی سی کے ایڈیٹر ورلڈ افیئرز جان سمپسن نے اُسامہ بن لادن کے بارے میں میرا ایک انٹرویو لیا۔ میں اُسامہ بن لادن سے 1997ء میں تورا بورا اور 1998ء میں قندھار میں تفصیلی ملاقاتیں کر چکا تھا اور نائن الیون کے بعد مجھے اُسامہ بن لادن کا ایک پیغام موصول ہوا تھا جسے میں نے اپنی زیر ادارت اخبار میں شائع کر دیا تھا۔ اس پیغام کی اشاعت کے بعد جان سمپسن بی بی سی کے کیمروں اور مائیک کے ساتھ میرے دفتر میں بن بلایا مہمان بن کر گھس گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ اُسامہ بن لادن پاکستان میں چھپا ہوا ہے میرا کہنا تھا کہ میں تو اُسے جب بھی ملا افغانستان میں ملا۔ جان سمپسن کے ساتھ میرا انٹرویو دیکھ کر اس اخبار کے منتظم اعلیٰ نے مجھے کہا کہ اس وقت پوری دنیا اُسامہ بن لادن کو ڈھونڈ رہی ہے اور ان حالات میں اُسامہ بن لادن کا انٹرویو ایک انٹرنیشنل اسکوپ ہو گا اور دنیا کو پتہ چلے گا کہ ایک صحافی کی پہنچ طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان کی اس بات کو میں نے اپنے لئے چیلنج بنا لیا لیکن میرے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ اُسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان جانا پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ بہرحال ایک دن میں خاموشی سے ایک کیمرہ مین کے ساتھ پشاور جا پہنچا اور افغان قونصل خانے سے ویزا حاصل کیا۔ طورخم بارڈر پر پہنچا تو دوسری طرف سے تباہ حال لوگ امریکی بمباری سے زخمی ہونے والوں کو پاکستان لا رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کیمرہ مین نے میرے ساتھ آگے جانے سے معذرت کر لی۔ اُس نے مجھے ایک چھوٹا کیمرہ دیدیا اور میں جلال آباد پہنچ گیا جہاں بمباری سے قیامت برپا تھی۔ اس کے آگے کیا ہوا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ میں کسی نہ کسی طرح کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں اُسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ واپسی پر مجھے کابل سے جلال آباد آتے ہوئے ایک طالبان کمانڈر ملّا خاکسار نے گرفتار کر لیا لیکن ملّا عبید اللہ اخوند کی مداخلت سے مجھے رہائی مل گئی۔

اسی بارے میں: ۔  ملتان کا ابن حنیف ، نواب شاہ کا زرداری

9نومبر 2001ء کی دوپہر میں طورخم کے راستے واپس پاکستان آیا تو بارڈر پر موجود کچھ پاکستانی صحافیوں نے مجھے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگواتے ہوئے دیکھ لیا۔ اُن دنوں پاسپورٹ کے ساتھ افغانستان جانے کا کوئی رواج نہ تھا لیکن میری غیرمعمولی احتیاط نے مجھے اپنے ساتھیوں کی نظر میں مشکوک بنا دیا۔ ابھی میں پشاور نہیں پہنچا تھا کہ فون آنے لگے کہ سنا ہے آپ کے پاس کوئی بڑی خبر ہے۔ اس انگریزی اخبار کے منتظم اعلیٰ کا بھی فون آ گیا لیکن میں نے اُن کو کچھ نہیں بتایا۔ اسلام آباد پہنچ کر میں نے اُسامہ بن لادن کے ساتھ انٹرویو کی خبر تیار کی اور انٹرویو کی تصاویر کے پرنٹ لے کر اپنے نیوز روم کو دیئے تو کچھ ہی دیر میں پی آئی اوصاحب کا فون آ گیا۔ انہوں نے پریشان کن لہجے میں کہا کہ موجودہ حالات میں اُسامہ بن لادن کا انٹرویو مناسب نہیں یہ انٹرویو شائع نہ کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک سینئر ساتھی سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں؟ انہوں نے کہا کہ یہ انٹرویو کسی انگریزی اخبار یا کسی غیرملکی ٹی وی چینل کو دیدیا جائے تو پھر یہ ہمارے اخبار میں بھی شائع ہو سکتا ہے۔ میں نے فوراً انگریزی اخبار کے منتظم اعلیٰ کو فون کیا تو وہ انٹرویو شائع کرنے کے لئے پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ اس زمانے میں اس انگریزی اخبار کے ایڈیٹرنے انٹرویو کی خبر کے ساتھ ناصرف مجھ سے تصاویر بلکہ اُن کے نیگیٹو اور انٹرویو کی ٹیپ بھی حاصل کی۔ اب میں مطمئن ہو گیا لیکن پی آ ئی او صاحب کو پتہ چل گیا کہ میں نے انٹرویو کس کو دے دیا ہے۔ وہ اس اخبار کے ایڈیٹرکے پیچھے لگ گئے۔ ایڈیٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ’’برخوردار تم کہیں ناپید ہو جائو۔‘‘ میں نے اپنا فون بند کیا۔ گاڑی دفتر کے باہر کھڑکی کی اور ٹیکسی میں اپنے ایک دوست کے پاس جا پہنچا۔ منتظم اعلیٰ صاحب نے احتیاط یہ کی کہ صبح چار بجے اخبار کی پرنٹنگ شروع ہوتے ہی اخبار کی کاپی بی بی سی کو دیدی اور اخبار کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی یہ خبر پوری دنیا تک پہنچ گئی۔ صبح چھ بجے میں سی این این کو بتا رہا تھا کہ میں نے اُسامہ بن لادن کا انٹرویو افغانستان میں کیا ہے۔ اس کے بعد میں تحقیقات کے ایک لمبے عمل سے گزرا لیکن میں نے کوئی قانون نہیں توڑا تھا کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پی آئی او ایک فوجی صدر پرویز مشرف کے پی آئی او تھے۔ ایک فوجی صدر کا پی آئی او یہ خبر نہ رکوا سکا تو پھر 2016ء میں نواز شریف کی حکومت کا پی آئی اوکس طرح ایک ایسی خبر رکوا سکتا تھا جو سول حکومت کے علاوہ فوجی حکام کے علم میں بھی تھی؟

اسی بارے میں: ۔  پانامہ کا پردہ اٹھ گیا، اب اس سے آگے کیا ہے؟

10نومبر 2001ء کو ڈان میں میرے انٹرنیشنل اسکوپ کی اشاعت پر جنرل پرویز مشرف سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے مجھے آرمی ہائوس بلا کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا لیکن اُنہوں نے پی آ ئی او کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ 2016ء میں ڈان میں سیرل المیڈا کی خبر شائع ہونے پر ایک انکوائری کی گئی اور انکوائری کرنے والوں نے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور پی آئی او رائو تحسین کے خلاف اس الزام میں کارروائی کی سفارش کی کہ ان دونوں نے خبر کیوں نہ رکوائی؟ خبر کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن وزیر اطلاعات اور پی آئی او پر الزام مضحکہ خیز ہے۔ وزیر اطلاعات اور پی آئی او کا کام سنسر شپ لگانا نہیں ہے۔ گستاخی معاف۔ اس خبر کی اشاعت پر طارق فاطمی، پرویز رشید اور رائو تحسین کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ یہ خبر لیک کس نے کی؟ پاکستان کی سلامتی اتنی کمزور نہیں کہ ایک اخبار کی خبر سے اُس میں دراڑیں پڑ جائیں۔ وزیر اعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس خبر کا سورس کون تھا لیکن اُنہوں نے اصل سورس کے بارے میں خاموشی اختیار کر کے تین افراد کی قربانی دے ڈالی۔ ڈان لیکس کی انکوائری کا مقصد حکومت پر دبائو ڈال کر جنرل راحیل شریف کو توسیع دلوانا تھا اور توسیع دلوانے میں چوہدری نثار آگے آگے تھے۔ اب بات کا بتنگڑ بن چکا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کو افہام و تفہیم سے ختم کریں اور دنیا کے سامنے اپنا مزید تماشا نہ لگائیں۔

***   ***

ہم سب کے لئے اس کالم کی اشاعت کی اجازت دیتے ہوئے حامد میر نے از رہ مہربانی یہ نشاندہی بھی کی ہے کالم کے دوسرے پیرگراف میں انگریزی اخبار کے جس چیف ایگزیکٹو افسر کا ذکر ہے وہ روزنامہ ڈان کے حمید ہارون تھے۔ نیز یہ کہ اس وقت صدر کے پی آئی او اشفاق گوندل تھے جو خبر رکوانا چاہتے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔