میرے ہیرو تو یہ مزدور ہیں


یکم مئی یوم مزدور ہے اس روز مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس روز درد بھری تحریریں لکھی جاتی ہیں۔ صرف تحریریں ہی نہیں لکھی جاتیں بلکہ نغمے گائے جاتے ہیں۔ شاعر اپنے جذبات کا اظہار شاعری کے ذریعے کرتے ہیں۔ ادیب خوبصورت نثر کے ذریعے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ ہر کوئی مزدوروں کیساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔

وہ لوگ بھی مزدوروں کی بات کرتے ہیں جو مزدوروں کا حق کھاتے ہیں۔

ہم لوگ ایک دن اظہار یک جہتی کر کے بھول جاتے ہیں۔ ایک رسم ادا کی اور چلتے بنے۔ ایک دن کے بعد ٹی وی کے پروگرامز بدل جاتے ہیں۔ قلم کاروں کا قلم سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ شاعر بھی حسن کے جلوؤں میں کھو جاتے ہیں۔ ادیب بھی دیگر موضوعات پہ قلم گھسیٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اور معاشرہ؟ اس سے کیا گلہ؟ معاشرہ تو مزدور کو کمی کمین سمجھتا ہے۔

مسلمان معاشرے میں مزدوروں کی خاص اہمیت ہونی چاہیے تھی مگر ابھی اس معاشرے پہ اچھا وقت نہیں آیا۔

ابھی اللہ کے دوست ہمارے دوست نہیں بنے۔

ابھی وہ ہاتھ قابل احترام نہیں بنے جن کو بوسہ میرے نبیؐ دیا کرتے تھے۔

ابھی وہ پسینہ خوشبو کی مانند نہیں ہوا جس کے متعلق فرمایا گیا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے اجرت دے دینی چاہیے۔

ابھی وہ لوگ قابل تکریم نہیں ہوئے جن کے متعلق فرمایا گیا قیامت والے دن مزدور جب اپنے کم اعمال کیساتھ رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو رب فرمائے گا کہ مزدور دنیا میں میرے تھوڑے رزق پہ راضی ہو گئے تھے میں ان کے تھوڑے اعمال پہ راضی ہوں۔

معلوم ہے کہ ایسا کیوں نہ ہو سکا؟

بڑا سادہ سا جواب ہے کہ ہم نے عزت و ذلت کا معیار الگ الگ بنا رکھا ہے۔ ہم نے ہیرو اور بت ایسے تراش رکھے ہیں جو انسانیت اور سماج کے دشمن ہیں۔

ہمارے ہیرو وہ لوگ ہیں جن کے پاس کوٹھیاں ہیں۔ ہمارے ہیرو وہ لوگ ہیں جن کے پاس اقتدار ہے۔ ہمارے ہیرو وہ لوگ ہیں جن کے آگے پیچھے سیکیورٹی ہوتی ہے۔ ہمارے ہیرو وہ ہیں جنہوں نے ایٹم بم بنائے۔ جنہوں نے بندوقیں بنائی اور چلائی ہیں۔

معاف کیجئے گا یہ لوگ میرے ہیرو نہیں ہیں۔

میرے ہیرو بندوق بنانے والے نہیں بلکہ بیساکھی بنانے والے ہیں۔
میرے ہیرو وہ لوگ نہیں جنہوں نے انسانیت کی تباہی کے لیے ایٹم بم بنائے۔
میرے ہیرو وہ لوگ ہیں جو کائنات کو خوبصورت بناتے ہیں۔

میرے ہیرو وہ لوگ نہیں جو جنگیں لڑتے ہیں میرے ہیرو وہ ہیں جو امن کی بات کرتے ہیں۔

میرے ہیرو وہ لوگ نہیں جو ماؤں کے آنچل کھینچتے ہیں میرے ہیرو وہ ہیں جو ماؤں کے لیے آنچل بناتے ہیں۔

میرے ہیرو وہ لوگ نہیں جو پھولوں کو مسلتے ہیں۔ میرے ہیرو وہ لوگ ہیں جو چمن بناتے ہیں۔ جو پھولوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میرے ہیرو وہ ہیں جو تتلیوں کے پروں کو چوم کے اٹھاتے ہیں۔

جی ہاں

میرے ہیرو وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ کھردرے ہیں۔ میرے ہیرو وہ ہیں جن کے تن پہ پورا لباس نہیں ہوتا مگر چوری نہیں کرتے۔ جو نعمتوں کی کمی کے باوجود شکوہ نہیں شکر کرتے ہیں۔

یہ لوگ میرے ہیرو ہیں۔

آہ مرشد سندھی بھی کہاں یاد آئے؟ ان کا مشہور قول ہے مزدوروں کے چھالے تمھاری پیشانیوں پر پڑے ہوئے نشانوں سے زیادہ افضل ہیں۔

مزدوروں کے چھالوں کا مقابلہ ماتھے کے محراب نہیں کر سکتے

کیوں نہ آج ہم اپنی ترجیحات بدلیں؟ کیوں نہ ہم اپنے ہیرو بدلیں۔

بس آج کے دن یہ طے کیجئے کہ ہم نے اپنا ہیرو اسے سمجھنا ہے جس کے ہاتھ پہ کسی کا خون نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔