یکم مئی کا ابھرتا سورج اور مزدور کے ماتھے سے ٹپکتا پسینہ


سماجی رابطوں، چکا چوند روشنیوں اور ٹیکنالوجی کی نت نئی صحت افزا اور سکون بخش ایجادات اور اختراعات سے یکسر لاتعلق ہو کر اپنے کنبے کی دو وقت کی روٹی روزی کی ”بیش بہا قیمت“ کو اپنے خون اور پسینے سے ادا کرنے والے مزدور کے اوقاتِ کار کا تعین تو شکاگو کے چند چاک گریباں والے کر چلے لیکن مزدور کی اوقات آج بھی وہی ہے جو شاید فراعینِ مصر کے دور میں تھی۔ فراعین تو پھر اپنے محلات کی تعمیر کرنے والے ہنر مند مگرپراگندہ لکیروں والے ہاتھوں میں مطالبہِ مٌزد پہ میخیں گاڑ دیتا تھا اور یوں مزدور کی بے حالی، بے کسی اور بے بسی زمانے پہ عیاں ہو جایا کرتی تھی اور مزدور بھی اپنے گھائل ہاتھوں کو دراز کر کے بارگاہِ ایزدی میں اپنی فریاد پہنچایا کرتا تھا۔

لیکن آج کے جدید دور میں نہ تو ظالم و جابر فرعون کا وجود ہے اور نہ ہی دستِ مزدور میں میخیں گاڑی جاتی ہیں۔ اس لئے ہم یہ تصور لئے بیٹھے ہیں کہ مزدور کے اوقاتِ کار کے ساتھ ساتھ اس کی اوقات بھی بدل گئی ہے۔ کیونکہ آج کے مزدور کے حقوق کے لئے کہیں ورکشاپس ہو رہی ہیں تو کہیں ریلیاں نکل رہی ہیں اور کہیں حکومتِ وقت حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئے مزدور کی کم از کم اجرت طے کر رہی ہے۔ ریاست اپنے وجود کو جبینِ مزدور سے بہنے والے پسینے سے عبارت کرتی ہے۔ گوشہِ وزرا کے مکین اور ایوانِ وفاق کے صدر نشین بھی رندھی ہوئی آواز میں ہر مزدور کے اجتماع سے یوں گویا ہوتے ہیں ”مجھے فخر ہے کہ میں تم میں سے ہوں“۔

رگوں میں جرنیلی خون لئے ہوئے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے پاکستان میں سابقہ سی ای او جن کے اثاثے اربوں کی دہلیز پہ قدم رکھنے والے ہیں، وہ بھی اپنا تعارف ایک مزدور کے طور پر کراتے ہیں۔ موصوف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چئیرمین ہیں اور یقیناً ان کے علم میں یہ بات نہیں ہو گی کی یومِ مزدور پہ کسی ریلی میں سینہ کوبی کرنے کی بجائے، سٹیل ملز کے ایک مزدور اور اس کی بیوی نے یکم مئی سے قبل ہی اپنی مزدوری کی فریاد حکمرانوں کے سامنے کرنے کی بجائے، زندگی کی آخری مزدوری موت کی صورت میں وصول کر لی۔

شاید یکم مئی کو حقوقِ مزدوراں پہ نکلنے والی ریلیوں، سیمینارز اور ورکشاپس میں مزدور کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر اپنی جدوجہدِ یگانہ کے افسانوں میں کہیں ان کا ذکر کریں۔ ہر سال یکم مئی ہمیں شکاگو کے ان بہادر مزدوروں کی یاد دلاتا ہے جنھوں نے اپنے مالکان کے ہاتھوں اپنی گروی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سرمایہ دار کے دستِ جبر پہ آہنی ضرب لگائی اور یہ چیز بآور کرائی کہ مزدور کوئی مال بردار جانور نہیں جو چوبیس گھنٹے اپنی مشقتِ مسلسل سے مالک کے لئے سرمایہ پیدا کرے۔ جس کے کام کے کوئی اوقاتِ کار ہوں اور نہ ہی معاوضہ کی کوئی گارنٹی۔ وہ اس وقت تک مالک کی نظروں میں جنسِ سودمند ہے جب تک وہ پیداوار کا ذریعہ ہے۔ جس دن کسی بیماری یا معزوری نے آ لیا اس دن ساہوکار کی جیب پہ بارِ گِراں ہے۔ شکاگو کے ان انقلابیوں کے وہم و گماں میں بھی نہ ہو گا کہ شاطر سرمایہ دار ان کی جہد و عظیم کے سامنے وقتی طور پر گھٹنے ٹیک کر اوقاتِ کار تو مقرر کرے گا لیکن اپنی مبنی بر حرص و ہوس چالوں سے ایک ایسا جال بنے گا جس سے رہتی دنیا تک مزدور کی اوقات غیر متبدل رہے گی۔

اسی بارے میں: ۔  مولانا مودودی، پوپ اور قرار دادِ مقاصد

جسم اگر زخم مزدہ ہو تو ہر آنکھ کو دکھتا ہے لیکن آج کے دور میں سرمایہ دارانہ نظام کی ریشہ دوانیوں نے انسانی جسم نہیں بلکہ روح کو گھائل کر دیا ہے

آج کا مزدور صرف کسی بازار میں کوئی اپنی پیٹھ پہ بارِ گراں اٹھائے ہوئے کوئی ضعیفِ ناتواں، کسی بھٹی میں لوہے کے ساتھ ساتھ اپنی ہڈیوں کو پگھلاتا ہوا جوانِ رعنا، کسی کھیت میں فصل کی بیجائی اور کٹائی کرتی ہوئی کوئی ماں، کسی پوش گھرانے میں جھاڑو لگاتی ہوئی کسی کی جوان بیٹی، رکشہ پہ اپنے عیال کا بوجھ کھینچتا ہوا کوئی ڈرائیور، کوئی کوچواں، کوئی تانگہ باں یا کسی بڑی سڑک کے کنارے مزدوری کے منتظر کسی پژمردہ چہرے کا نام نہیں بلکہ آج کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا تعلیم یافتہ نوجوان، کسی دانشگاہ کا استاد، کسی ہسپتال کا مسیحا، کسی اخبار کا رپورٹر، کسی چینل کا کیمرہ مین، پروڈیوسر اور ایڈیٹر الغرض زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ کسے بھی شخص اوقات ایک مزدور کی سی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے زندگی جیسے خوبصورت تحفے کو ہر زی روح کے لئے سوہانِ روح بنا دیا ہے۔

زندگی میں اب کہیں جمالیات کا تصور ہے، نہ ہی تفریحات کا، کہیں ادب کا زوق ہے نہ فنونِ لطیفہ کا۔ انسانجذبات و احساسات سے عاری کوہلو کے بیل کی طرح آنکھوں پہ پٹی باندھے چوبیس گھنٹے مزدوری کی تلاش میں ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے اشتہاری دلالوں کے ذریعے غیر ضروری آسائشوں کو زندگی کا جزوِ لا ینفک بنا دیا ہے۔ برانڈڈ ملبوسات اور ضروریاتِ زندگی کی تلاش میں انسان سکھ، چین، سکون و عافیت تو کیا، انسانیت ہی بھلا چکا ہے۔ انسانی جیب جب ان اشیا ء کی قیمت ادا کرنے سے جب یکسر عاری ہوتی ہے تو سرمایہ دار لیز اور اقساط جیسے حیلہِ روح فرسا بہ لباسِ مژدہِ جاں افزا سناتا ہے۔ اور یوں آج کے دور کا ہر ذی روح کہیں کسی بینک کا رہین ہے تو کہیں کسی ساہوکار اور کہیں کسی ملٹی نیشنل فرم کا۔ لیز پہ خریدی گئی گاڑی پہ جسم تو حرکت میں ہوتا ہے لیکن روح جامد و ساکت۔ اقساط پہ خریدا گیا بستر جسم کے لئے آرام دہ تو بہت ہے لیکن روح کے لئے چند لمحات سکون کے میسر کرنے سے یکسر عاری۔ اپنی جان بھی بینک اور انشورنس کمپینیز کے پاس گروی رکھوا کر فاٸیو سٹار سکولوں اور کالجوں میں بچے زیرِ تعلیم تو ہیں لیکن علم سے کوسوں دور۔

اسی بارے میں: ۔  مشال! میں اس قوم کا حصہ ہونے پر شرمندہ ہوں

زندگی کی اس کشا کش نے نہ صرف معاشرے میں بیگانگی کو جنم دے دیا ہے بلکہ اب تو انسان اہنی ذات سے ہی بیگانہ ہو چکا ہے۔ بیگانگیِ ذات نے انسان سے اس کے تمام اوصافِ حمیدہ چھین لئے ہیں۔ سقراط اور ارسطو کے دور سے دانشوروں اور فلاسفروں نے جس انسان کی تلاش شروع کی تھی وہ اس دور کا وہ مزدور ہے جو سرمایہ دار اور سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل میں جکڑے ہوئے چوبیس گھنٹے مٌزد کی تلاش میں ہے۔

لہٰزا شکاگو کے مزدوروں کی تاریخ ساز قربانی کو سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی شاطرانہ ذہنیت سے یوں بے معنی کر دیا ہے کہ آج اشرافیہ کو چھوڑ کر کرہِ ارض پہ بسنے والی ہر جان ساہوکاروں، بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رہین ہے۔ ان کا لباس اجلا ہے اور ہاتھ بھی صاف ہیں لیکن روحیں بری طرح گھائل۔ زندگی کا واحد مقصد اور آگے بڑھنے کا پیمانہ صرف کمانا رہ گیا ہے۔ اور یہ سرمایہ دار اور سرمایادارانہ نظام شکاگو کے مزدوروں کی بغاوت کا بدترین جواب اور بہترین انتقام ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔