ترک صدر کے نام کھلا خط


محترم رجب طیب اردگان

اپنی بات شروع کرنے سے پہلے میں اعتراف کرنا چاہوں گا کہ گذشتہ کچھ دنوں میں آپ اچانک دنیا بھر کے مسلمانوں کے اچھے خاصے حصے میں کافی مقبول ہو گئے ہیں۔ لوگ آپ کے اندر ایک مسلم ہیرو کو دیکھتے ہیں جو بے باک ہے، مسلمانوں کی بات کرتا ہے اور ترکی کی اسلامی شناخت کو مستحکم کر رہا ہے۔ ظاہر ہے جب کوئی مسلمانوں کے لئے ایسا پیارا ہو گیا ہو، اس کی کسی بات پر سوال اٹھانا خود کو خطرے میں ڈالنے سے کم نہیں۔ یہاں پر ایک اعتراف اور کرنا ہے اور وہ یہ کہ مجھے ذاتی طور پر آپ کی کئی باتیں پسند ہیں اور کچھ سے اختلاف ہے۔ میرے خیال میں ایک ملک کے قائد کے طور پر آپ کو اپنے بارے میں ان باتوں کو جاننے میں زیادہ دلچسپی ہوگی جن سے لوگوں کو اختلاف ہے ورنہ مسند اقتدار پر بیٹھنے والوں کے قصیدہ خواں تو کوڑیوں کے دام مل ہی جاتے ہیں۔

جناب صدر، گذشتہ ایک برس میں آپ کی زندگی کے دو اہم واقعات ہوئے۔ پہلا آپ کے خلاف ناکام بغاوت اور دوسرا ملک کو صدارتی نظام حکومت میں بدلنے کو عوام کی منظوری۔ چلئے پہلے آپ کے خلاف ناکام بغاوت کی ہی بات کر لیتے ہیں۔ ذرا یاد کیجئے جب آپ کو راجدھانی سے دور اطلاع ملی کہ آپ کے خلاف فوج نے خروج کیا ہے تو آپ کے پاس کیا تھا؟ سوشل میڈیا کی اس موبائل ایپ کو یاد کیجئے جس پر آپ نے ترک عوام سے بغاوت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کی۔ ذرا یاد کیجئے کس طرح چند گھنٹوں میں ہی ترکی کی سڑکوں پر آپ کے حامی عوام کا سیلاب امڈ آیا۔ باغی فوجیوں کو اس عوام نے کس طرح بیلٹ اور ڈنڈوں سے پیٹا، اس عورت کو یاد کیجئے جو ایک ٹینک کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اگر آپ کے ملک میں سوشل میڈیا نہیں ہوتا تو کیا آپ کے حق میں یہ عوامی مزاحمت ہو پاتی؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ سوشل میڈیا جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے؟

اسی بارے میں: ۔  صدر ایردوان کی حکمت

جناب صدر، آپ نے ناکام بغاوت کے بعد مخالفین کو چن چن کر معزول کیا۔ آپ کا کہنا ہے کہ یہ سب جلا وطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے مرید ہیں۔ خیر پیری مریدی کا کیا ہے، چلئے ذرا دیر کو بھول جاتے ہیں کہ کبھی آپ خود گولن کے کٹر عقیدت مند تھے لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ اتنے بڑے پیمانے پر معزولی اور مخالفین کی صفائی کی مہم صحت مند جمہوریت کے لئے کتنی مناسب ہے؟ جناب صدر، ملک گیری میں یہ محتاط مزاجی نہیں چل سکتی کہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں۔ آپ صدر ہیں آپ ملک کے نگراں ہیں لیکن استنبول کے کسی چھوٹے سے تھانے کے کوتوال سے لے کر جج، پراسیکیوٹر، جیلر، معلم، تحصیلدار یہ سب کام آپ خود نہیں کر سکتے، آپ کو یہ کام اوروں سے ہی لینا پڑے گا اور ہاں اس کے لئے آپ کو نہ صرف ان پر اعتماد کرنا ہوگا بلکہ ان کے دل میں اپنے لئے بھی اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔

جناب صدر، آپ کا ملک صدارتی نظام حکومت میں بدل گیا ہے۔ اب آپ کم از کم بارہ سال ملک کے صدر رہیں گے۔ اچھی بات ہے لیکن کچھ باتوں کا خیال رہے۔ پہلا تو یہ کہ حکومتوں کو اس وقت دوام ہوتا ہے جب وہ سروں کے بجائے دلوں پر ہوں۔ آپ نے وکی پیڈیا پر پابندی لگا دی، آپ سوشل میڈیا کو بھی بند کر سکتے ہیں لیکن اس سے آپ کی حکومت کی مخالفت نہیں ہوگی ایسا ممکن نہیں ہے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں ایران اور سعودی کو دیکھ لیجیے دونوں جگہ سوشل میڈیا پر سختی ہے، اختلاف رائے کرنے والوں کا گذر کم ہے تو کیا ان دونوں جگہ عوام میں بے چینی نہیں ہوتی؟ جناب صدر، سوشل میڈیا اور سیاسی اختلاف آپ کو بتانے کا کام کرتے ہیں کہ ملک آپ کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے؟ اگر آپ ان چیزوں کو ختم کر دیں گے تو اس سے ملک سوچنا بند نہیں کر دے گا، البتہ آپ زمینی حقائق سے ضرور بے خبر ہوتے چلے جائیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  ترکی: ہزاروں استاد، اینکر اور پولیس والے باغی قرار پائے

جناب صدر، میں آپ کو ایک نکتہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ میری محدود یاد میں ایسے پہلے مسلمان سربراہ مملکت ہیں جسے مسلمانوں کے تقریبا تمام مسالک کا ایک بڑا حصہ پسند کرتا ہے۔ یہ آپ کے لئے بڑا اچھا موقع ہے۔ آپ اس وقت مسلم دنیا میں برپا مسلکی تقسیم کو کم کرنے کی سمت کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔ ایران کو ساتھ لیجیے، سعودیوں سے بات کیجئے اور کوشش کیجئے کہ مسلکی آگ ذرا کم ہو۔

جناب صدر، آپ اپنے ملک میں سربراہ کے طور پر جمہوری اقدار کو کتنا مضبوط کرتے ہیں، عوام کے حقوق کی کتنی پاسداری کرتے ہیں، اختلاف رائے کا کتنا احترام کرتے ہیں، سیاسی مخالفین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں۔ یہ سب آپ پر ہے بس میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ بڑھتی مقبولیت کے لئے مبارکباد اور بطور سربراہ مملکت آنے والے وقت کے لئےمیری نیک خواہشات۔

خیر اندیش

مالک اشتر


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 41 posts and counting.See all posts by malik-ashter